Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد …. مزدور اور عرب سرمایہ کار…ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

June 24, 2017 at 4:18 am

یہ 60 کروڑ روپے کا سکینڈل ہے اس میں 20 ہزار مزدوروں کے خو ن پسینے کی کمائی کا مسئلہ ہے 60 ٹھیکہ داروں کے ٹھیکے کا مسئلہ ہے چترال اور افغانستان کی سرحد پر 3 1 کلو میٹر روڈ بن رہا تھا یہ سڑک اراندو کے مقام پر پاکستان اور افغانستان کو ملا تا تھا افغانستان کی طرف سے امریکہ سرمایے سے بھارتی تعمیراتی کمپنی نے شا ہراہ تعمیر کر کے دی ہوئی ہے پاکستان کی طرف سے شاہر اہ کی تعمیر کے لئے متحد ہ عرب امارات UAE نے سرمایہ فراہم کیا نیسپاک (NESPAK) کو کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا فرنیٹر ورکس ارگنا ئز یشن (FWO) کوٹھیکہ ملا جس نے کام آگے جاکر چھوٹے ٹھیکہ داروں میںآدھ کلومیٹر کے حساب سے تقسیم کیا 2013 ؁ء میں کام شروع ہوا 2015 ؁ء تک کام جاری رہا پہاڑوں کی 300 فٹ کٹائی ہوئی ڈھلو انوں پر 200 فٹ دیواریں بنائی گئیں ڈھائی سالوں میں سٹر کچر کا نصف کام ہو گیا ابتدائی 6 مہینوں کے کام کی مزدور ی مل گئی ایک مزدور کی اگر اجرت دس ہزار روپے بنتی تھی اس کو 3 ہزار روپے دید یے گئے اس کے بعد کہا گیا کہ بل منظور نہیں ہوا پھر کہا گیا کہ ورک ڈن (Work done) کی پیمائش دوبارہ کرنی ہے پھر کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے پیسے دینے سے انکار کیا ہے اس طرح اوسط درجے کے تعمیر اتی فرم کا 50 لاکھ کا سرمایہ ڈوپ گیا ڈھائی سالوں کی محنت ضائع ہوگئی معاملہ بہت نازک ہے افغانستان سائیڈ پر سڑک کی تعمیر کے لئے پیسہ امریکہ نے دیا تعمیراتی کام کا ٹھیکہ بھارت کی کمپنی کو ملا عیسائی کا پیسہ یہو دی کا سرمایہ اور ہند و کا ٹھیکہ تھا کام وقت پر مکمل ہوا تینوں کی عزت ہوئی ادھر پاکستان سائیڈ پر مسلمان ملک کا سرمایہ تھا UAEکا جھنڈا لگا ہو اتھا مسلما نوں کے پاس ٹھیکہ تھا نیسپاک NESPAKبھی مسلمانوں کا کمپنی اورFWOبھی اسلامی ملک کی مسلمان فوج کا تعمیراتی فرم ہے سرحدی علاقوں میں تعمیراتی کا موں کا سیع تجربہ ر کھتی ہے اگر کام 2015میں رو کی نہ جاتی 2017کے وسط تک جاری رہتی تو اب تک شاہراہ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہو تی لوگوں کو سفر کرنے میں آسانی ہو تی ٹھکیہ دار ،کاریگر اورمزدور کو محنت کی کمائی مل جا تی مگر مسلمان ملک نے آنا فانااپنا سرمایہ روک لیا کام کو ادھورا چھوڑدیا یہ ایک نقصان ہوا۔ اگر اس کام میں 20 یا 25 کروڑ روپے لگ چکے تھے وہ ضائع ہو گئے۔ دوسری طرف کام پرمزدوری کرنے والے20 ہزار مزدروں ’’ کو ورک ڈن‘‘ کے حساب سے مزدوری نہیں ملی۔یہ تیسرا رمضان المبارک ہے اوریہ تیسری عید ہے مزدوروں کا پسینہ خشک ہوئے ڈھائی سال گذرگئے پاکستان کا مسلمان خدا ترس ،حاجی اورنیک یا معصوم ٹھیکہ دار کہتا ہے کہ UAEکا مسئلہ ہے UAEسرمایہ کار کہتا ہے کہ NES PAK ؒ ٗکے ساتھ میرا حساب کتاب ہے وہ حساب کتاب جب تک صاف نہیں ہو گا میں ایک پائی نہیں دونگا بیچ میں پاک فوج کا نام اور پاک فوج کا جھنڈا بھی استعما ل ہوا ہے اس لئے یہ پاک فوج کے لئے بھی عزت اورناموس کا مسئلہ بن گیا ہے یہ بھی ماضی کے کواپیر یٹیو سیکنڈل اور تاج کمپنی سیکنڈل کی طرح بہت بڑا سکینڈل ہے کورکمانڈر پشاور،جی اوسی ملاکنڈ اورآئی جی ایف سی کے ساتھ ساتھ کمانڈ نگ افیسر ایف ڈبلیو اوFWOکو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے اور متاثر ین کو اعتما دمیں لیکر آگے بڑھنا چاہیے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے کہ UAEٓٓدوست ملک ہے اسلامی ملک ہے عرب ملک ہے اس ملک نے سرحدی سڑک کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کا وعدہ کیوں کیا ؟ 25فیصد سرمایہ فراہم کرنے کے بعد مزید رقم کی فراہمی سے انکار کیوں کیا ؟یہ صوبائی حکومت کی سڑک ہے فزنیٹر ہائی وے اتھارٹی اورسی انیڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کی سڑک ہے مگر موجودہ حالات میں 60کروڑ روپے کی قابل ادائیگی واجبات یعنی قرضوں کے ساتھ اس سڑک کو اپنے ہاتھ میں لینے پر کوئی امادہ نہیں وزار ت خزانہ ،وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے اس سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ دیتے وقت جو معاہدہ کیا تھا اس معاہدے کو سامنے رکھ کر اس گھتی کو سلجھایا جا سکتا ہے کم از کم 20ہزار مزدوروں کو ان کے خون پسینے کی کمائی ا داکر کے رخصت کیا جاسکتا ہے کتنے ستم ظریفی کی با ت ہے کہ ہمارا وزیراعظم کہتا ہے میر املک سرمایہ لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کرے گا وزیراعلی کہتا ہے کہ میرے صوبے میں بیرونی ملک سے ہو کر سرمایہ لگانے والوں کو کئی اہم سہو لیات دی جائیگی ہم غریب اور متوسط لو گ اخبار پڑھکر ان دونوں بیانات کو جھٹلاتے ہیں یہاں نہ سرمایہ کار کو تحفظ حاصل ہے نہ اُس کے سرمایے کو تحفظ ملتاہے نہ اُس سکیم کو جاری رکھنے کی کوئی ضمانت ہے؟یہ تیسری عید جارہی ہے اراندوروڈ پرکام کرنے والے مزدوروں کو مزدوری نہیں ملی یہ تیسرا سال ہے ایک اہم سرحدی شاہراہ پر تعمیراتی کا م روک دیا گیا ہے معقول تجویز یہ ہے کہ UAEکے حکام کے ساتھNESPAK اور FWOکے حکام کی میٹنگ بلا کر سکیم پر دوبارہ کام شروع کرانے اور مزدوروں کی مزدوری ادا کرنے کا مناسب اورمعقول انتظام کیا جائے ورنہ ہم کہینگے ۔
کیا یہ نمرو د کی خدائی تھی
بندگی میں میرا بھلا نہ ہو ا

Translate »
error: Content is protected !!