Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضلع ناطم کی مشاورت پر ہمارے اوپر دہشت گردی کے دفعات لگائے گئے ۔۔اسیران ختم نبوت

June 21, 2017 at 10:40 pm

چترال ( نمایندہ چترال ٹائمز) شاہی مسجد چترال میں جھوٹی نبوت کے دعویدار ملعون رشید کی وجہ سے بھڑکنے والی کشیدگی کے باعث ناموس رسالت کیلئے گرفتار ہونے والوں نے اپنی رہائی کے بعد ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ اُن کی ایما پر 21افراد کے خلاف دہشت گردی کے دفعات لگائے گئے ۔ جبکہ اُن کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ منگل کے روز رہائی پانے والے افراد عبدالسلام ، شبیر احمد ، اکرام اللہ ، انضمام الحق ، ندیم خان ، فخر اعظم ، ظاہر خان ، فہیم الدین ، نورالاسلام ، سہیل اور ظہیر الدین نے چترال پریس کلب میں جمیعت العلماء اسلام چترال کے رہنماؤں سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل قاضی فتح اللہ ، قاری جمال عبدالناصر ، قاری نسیم ، مولانا عبدالسمیع وغیرہ کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی رہائی میں کردار ادا کرنے پرقائد جمیعت مولانا فضل الرحمن ، مولانا عطاالرحمن ، ڈپٹی کمشنر چترال شہاب ثاقب یوسفزئی ، ڈی پی او چترال علی اکبر کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جن لوگوں نے اُن کی رہائی کیلئے کام کیا ۔ اُس حوالے سے اُن کے پاس تحریری ثبوت موجود ہیں ۔ اس لئے ضلع ناظم مغفرت شاہ ، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید، مولانا عبد الشکور، اور مولانا حسین احمد اُن پر سیاست کرنا چھوڑدیں ۔ انہوں نے مولانا عبدوالاکبر چترالی کی خدمات کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ۔ کہ وہ اسیروں کو مردان جیل میں رکھنا چاہتے تھے ، لیکن اُن کی یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوئی ۔اور ہمیں چترال جیل منتقل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ ہماری گرفتاری کے دوران جب ہم مشکل میں تھے ۔ توضلع ناظم نے گورنر کاٹیج چترال میں کلچرل شو منعقد کرکے جشن منایا ۔ اکرام اللہ لال نے کہا ۔ کہ چترالیوں کی سرشت میں دہشت گردی نہیں ہے ۔ انہوں نے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کا شکریہ ادا کیا اور اُن کے اقدامات کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔کہ انہوں نے ایک بڑے آگ کو بجھانے میں کردار ادا کیا ۔ جسے فرقہ ورانہ کشیدگی کا رنگ دے کر بعض افراد سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ انھوں نے کہاکہ جیل میں تمام سیاسی قائدین نے ہم سے ملاقات کی مگر ضلع ناظم واحد شخصیت ہے جس نے اسیران ختم نبوت سے ملاقات کرنے کی جراء ت نہ کی۔ اکرام اللہ اور شبیر احمد نے کہا ۔ کہ پولیس کی طرف سے اُن پر جو مبینہ تشدد اور ٹارچر کیا گیا ۔ تو اُنہیں معاف کرتےہیں کیونکہ وہ نبی پاک کی خاطر ان مشکلات کو سہنا اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں ۔ ۔اسیران ختم نبوت نے انکی رہائی میں کردار ادا کرنے پر چیف منسٹر خیبرپختونخوا ، ہوم سیکرٹری، آئی جی پی ، ڈی آئی جی ڈی آئی خان فدا حسن چترالی کا شکریہ ادا کیا۔

Translate »
error: Content is protected !!