Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایسا بھی کیاہوا کہ خدا یاد آگیا……محمد شریف شکیب

June 21, 2017 at 10:49 pm

سوشل میڈیا سے کچھ لوگ بلاوجہ ناراض رہتے ہیں۔ سماجی رابطوں کے صفحات پر کچھ چیزیں ایسی بھی ضرور ہوں گی جو آپ کو اور مجھے ناپسند ہوں۔ لیکن دنیا میں ایسا کونسا شخص ہے جس کو سب لوگ اتفاق رائے اچھا قرار دیتے ہوں۔ یہ ضروری تو نہیں کہ مجھے گلاب کا پھول اچھا لگتا ہے تو آپ کو بھی اچھا لگے۔ کسی کو موتیا، نرگس، رات کی رانی، چمبیلی ،گل داودی تو کسی کو سورج مکھی کا پھول بھی پسند ہوسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو پوسٹ آپ کو پسند نہ ہو۔ تو اسے غور سے اور بار بارپڑھ کر اپنا بلڈ پریشر بڑھانا ضروری نہیں۔ اسے نظر انداز کرکے آگے بڑھیں۔ ہوسکتا ہے کہ اگلا پوسٹ آپ کے ذوق اور شوق سے ہم آہنگ ہو۔ عام طور پر لوگ سیاست ، سیاست دانوں اور ان کے بیانات سے بیزار نظر آتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پر جب ان سیاسی بیانات پر تبصرے ہوتے ہیں۔ تو بے اختیار پڑھنے والے کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ اور پوسٹ کرنے والے کی بزلہ سنجی کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ حال ہی میں دو تین وفاقی وزراء کے بیانات سامنے آئے جس میں انہوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیشی کو ملکی تاریخ کا اہم واقعہ قرار دے کر کہا تھا کہ میان برادران نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر تاریخ’’ رقم ‘‘کردی۔ ایک دل جلے نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب۔ تاریخ بعد میں رقم کرنا۔ پہلے وہ رقم واپس کردیں جو آپ یہاں سے لوٹ کر باہر لے گئے تھے اور اپنے بچوں کے لئے آف شور کمپنیاں بنائی تھیں۔ایک صاحب نے پرائیویٹ ٹی وی چینل پر چلنے والے بلٹس پوسٹ کئے ہیں جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی کہتے ہیں کہ وزیراعظم کے بیٹے حسن اور حسین نواز پاکستانی شہری نہیں۔ وہ برطانیہ کے شہری ہیں۔ نیچے حسین نواز کی تصویر کے ساتھ یہ کمنٹ درج ہے کہ ہم ہیں تو برطانوی شہری۔ تاہم جب کچھ چرا لے جانے کا موڈ بنتا ہے تو کبھی کبھار پاکستان بھی آجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر خواجہ آصف کے اس بیان پر بھی کافی دلچسپ تبصرے ہوئے ہیں جس میں انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بہت سے لوٹے پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں۔ خان صاحب اگر زرداری کو بھی اپنی پارٹی کا سرپرست اعلیٰ بنادیں تو بہتر ہوگا۔ جس پر عمران خان نے بھی خوشگوار موڈ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کے جو لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہیں ڈرائی کلین کرنا آسان ہے لیکن زرداری کی ڈرائی کلیننگ ممکن نہیں۔ ایک دل جلے نے پی ٹی آئی کی قیادت کو مشورہ دیا کہ ’’ کسی سیاست دان کو برا مت کہو۔ کیا پتہ۔ کل وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوجائے۔‘‘ہمارے ایک دوست نے بڑا دلچسپ واقعہ پوسٹ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمارے اسپتال کا سوئپر اقبال مسیح کرسمس کی چھٹیوں پر بچوں سمیت چترال سے مانسہرہ چلا گیا۔ مگر اپنا کتا خالی گھرکی چوکیداری کے لئے چھوڑ گیا۔ یہ کتا تین ہفتے تک گھر کی رکھوالی کرتا رہا۔ محلے کے بچے کتے کو اپنے گھر لانے میں ناکامی کے بعد اقبال مسیح کے گھر کی سیڑھیوں پر ہی کھانے پینے کی چیزیں رکھتے رہے۔ تین ہفتے بعد جب اقبال مسیح اور اس کے بچے واپس آگئے تو کتا ان سے لپٹ گیا۔ ان کے پاوں چومتا رہا۔ پوسٹ کرنے والا کہتا ہے کہ آئے روز سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوگوں کودیکھ کر تو دل میں آتا ہے کہ ان لوگوں سے تو اقبال مسیح کا کتابھی اچھا ہے جو اپنے مالک کے ساتھ ہر قیمت پر وفاداری نبھاتا ہے۔ ایک صاحب نے اخباری تراشہ پوسٹ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کے حلقہ نیابت میں واپڈا والے ایک ماہ کا بل نہ دینے پر بیوہ خاتون کا میٹر اتار لے گئے۔ چار سالہ بچی کی بیوہ ماں کو واپڈا کی طرف سے دوبارہ میٹر لگوانے کے لئے 60ہزار روپے جمع کرانے کا نوٹس ملا۔ تو دلبرداشتہ خاتون نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ پوسٹ کرنے والے نے لکھا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف پر قومی خزانے سے روزانہ پچاس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ایوان صدر پر روزانہ اکتیس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ مگر غریب بیوہ عورت اگر ایک ماہ کا بل نہ دے سکے۔ تو اس پر زندگی حرام ہوجاتی ہے۔ سب سے دلچسپ پوسٹ سوشل میڈیا پر رواں ہفتے یہ دیکھنے میں آیا کہ جوڈیشل اکیڈمی میں میاں نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر وزیر مملکت عابد شیر علی کو نماز ظہر کی امامت کرتے دکھایا گیا ہے۔ تصویر کے نیچے محسن نقوی کا یہ مشہور شعر لکھا ہوا ہے کہ ’’ حیرت ہوئی محسن تجھے مسجد میں دیکھ کر۔۔۔۔۔ ایسا بھی کیا ہوا کہ خدا یاد آگیا۔

Translate »
error: Content is protected !!