Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان کا مبارک مہینہ اور ہم ۔۔۔اجمل الدیں بادامی چترال

June 18, 2017 at 6:45 pm

مہینوں کے سردار رمضاں المبارک کا رحمتون سے بھرا پہلا عشرہ گزرنے کے بعد اب مغفرت کا یہ دوسرا عشرہ مکمل ہونے کو ہے۔ یقینا اللہ تعالی نے اس مقدس اور بابرکت مہینے کے صدقے تمام اہل ایمان کو اپنی رحمتون اور مغفرت سے نوازا ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ جس کے شروع میں ہی سرکش شیاطین کو اللہ کے حکم سے فرشتوں کے ذریعے باندھ دیا جاتا ہے۔
کہتے ہیں کہ جب اللہ بخشنے پہ آتا ہے تو اپنے بندون کو رمضان تخفے میں میں دیتے ہیں۔ اس بابرکت مہینے میں جہان ہر اچھے عمل کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے تو نیکی کمانے اور اللہ کوراضی کرنے کا شوق بھی بھڑ جاتا ہے۔ ایک سنت کا درجہ فرض کے برابر، ایک فرض کا اجروثواب ستر فرضون کے برابر عرض ہر نیکی کا انعام و اکرام ستر گنا سے بھی بڑھا دیا جاتا ہے۔ کسی کو افطاری کرانا، کھجور کا ایک دانہ بلکہ ایک گلاس پانی پلانے پر بھی بڑی سعادتین اور بشارتین ہیں۔ اللہ تعالی نے روزہ دار کو بھی اس کے روزے کا بدلہ خود دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انہی فضايل اور برکات کو سامنے رکھتے ہوۓ اہل عالم کے مسلماں اس مہینے میں آپس میں صلۂ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرکے نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ہر کوئی اپنی استطاعت سے بڑھ کر اللہ تعالی کی رحمتیں، برکتیں اور قرب پانے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر عبادات کی طرف دیکھا جائے تو رمضان کے مہینے میں روزہ دار فرضی عبادات کے علاوہ نفلی عبادات، قرآن کی تلاوت، تہجد، تراویح وغیرہ بھی بڑھے شوق اور دلجوئی سے پڑھتے ہیں۔ تراویح میں بچے، بھوڑے، معذور اور جوان اللہ کا پاک کلام سننے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ لیکں بڑی افسوس کے ساتھ عرض کر رہا ہوں۔ پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ اکثر محلوں میں حفاظ کی کمی ہوتی تھی تو محلے کے بزرگ حضرات دوسرے محلوں يا مدرسوں سے حفاظ بلاکر لاتے اور تراویح میں قرآن پاک سننے کی سعادت حاصل کرتے۔ الحمداللہ آجکل کسی بھی محلے میں حفاظ کی کمی نہں لیکں محلے کے نمازی ان سے بہرآور ہونے کی زحمت نہیں کرتے۔ وجہ کیا ہے؟ صرف اور صرف ہمارے اعمال۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری تراویح ایک آدھ گھنٹہ لیٹ ہو جاۓ۔ ہم نہیں چاہتے کہ برکتیں ہماری جھولی میں آئیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری نسلوں کو تراویح میں قرآن سننے کی عادت ہو جاۓ۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو قرآن کی حلاوت نصیب ہو۔ ہم نہیں چاہتے کہ حافظ کو اس کا مقام ملے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے دل بھی قرآن کی روشنی سے منؤر ہوں۔ بس ہم چاہتے ہیں تو صرف یہی کہ جلدی سے فارغ ہوں اور فضول کاموں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ھمارے پاس فجر سے ظہر تک آفس ورک یا سونے کے لئے وقت ہے۔ ظہر سے عصر تک تاش، لڈو، کیرم بورڈ اور چیس وغیرہ کھیلنے کے لئے وقت ہے۔ عصر کے بعد گاڑی یا بائک لے کر بازاروں میں گھومنے کے لئے وقت ہے۔ مغرب سے عشاء کھانے پینے اور عشاء سے سحری تک دوستوں سے گپ شپ کرنے، فلمیں دیکھنے اور عرض یہ کہ ہمارے پاس ہر بےفائدہ اور فضول کاموں کے لۓ وقت ہے لیکں اگر ٹائم نہیں ہے تو صرف ان اعمال کے لۓ جنسے ہمارے اللہ اوران کے پیارے محبوبۖ راضی ہوتے ہیں۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ محلے کا بھوڑا اور معزور بھی تراویح ميں شریک ہوتا ہے۔ اٹھ کے نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کے ضرور پڑھتا ہے چاہے اس محلے کی مسجد میں ختم قرآن ہی کیوں نہ ہو۔ لیکں آجکل کے جواںاں صحیح سالم اور تندرست ہونے کے باؤجود یا تو آتے ہی نہیں اگر آتے بھی ہیں تو کچھ فرض ادا کرکے چلے جاتے ہیں اور کچھ تراویح کی آٹھ یا بارہ رکعتیں پڑھ کے غائب ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ایک دفعہ یہ ضرور سوچنا ہے کہ اگر ہم اس جوانی کے ساتھ رمضان کے اس بابرکت مہینے میں بھی اپنے اللہ عزوجل کو راضی نہ کر سکے یعنی پانچ وقت کی نماز، تراویح، تہجد، قرآن پاک کی تلاوت اور نفلی عبادات نہ کرسکے تو کیا ہم بڑھاپے میں کر پائیں گے؟ ہمیں اللہ وہ موقع دے گا بھی یا نہیں؟
میرے اس تحریر کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالی کے حضور توبہ استغفار کریں اور شیطاں مردود سے پناہ مانگیں اور جو وقت بچا ہے اسکو اپنے لئے مفید اور بخشش کا ذریعہ بنائیں کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ
“”زندگی بہت مختصر ہے””

Translate »
error: Content is protected !!