Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسیران ناموس رسالت پر پولیس وحشیانہ تشدد کا جوڈیشل انکوائری کی جائے ۔۔ضلع ناظم

June 18, 2017 at 6:49 pm

چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کی ضلعی حکومت نے اسیران ناموس رسالت پر وحشیانہ تشدد پر چترال پولیس کے ذمہ داروں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے جوڈیشل انکوائیری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ناظم حاجی مغفرت شاہ ،ڈسٹرکٹ نائب ناظم مولاناعبدالشکور،امیرجماعت اسلامی ضلع چترال مولاناجمشید احمد،امیرعالمی مجلس تحفظ نبوت ضلع چترال وسیکرٹری اطلاعات جے یوائی ضلع چترال مولاناحسین احمد،مولانااسرارالدین الہلال اورمذہبی جماعتوں کے دیگرقائدین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال پولیس نے توہین رسالت کے واقعے میں اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے شمع رسالت کے پروانوں پر وحشیانہ تشدد کیا اور اُن کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج کرکے اُنہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے جیل میں ڈالا گیا ۔اُن کا جرم صرف اتنا تھا کہ اُنہوں نے اپنے پیغمبر ﷺکے ساتھ محبت کا اظہار کرتے ہوئے ملعون کے خلاف جلوس نکالا تھا جو کہ ایک مسلمان کا شیوہ ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اسیران کی رہائی کے لئے ہم نے صوبائی سطح پر زبردست جدوجہد کی ۔ وزیر اعلیٰKPKپرویز خٹک،سنیٹر عطاء الرحمن،انسپکٹر جنرل آف پولیس KPKسے ملاقات کرکے اسیران کے خلاف لگائے گئے 7 ATAسمیت دیگر دفعات ختم کرائے۔جس کے بعد اسیران کی رہائی ممکن ہوئی، جنہیں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ جیل چترال سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔اُنہوں نے وزیر اعلٰی KPK پرویز خٹک ، سینئر وزیر عنایت اللہ خان، آئی جی KPK، سنیٹر عطاء الرحمن اور مولانا عبد الاکبر چترالی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہُ ن کی کے تعاون اور کوششوں سے اسیران ناموس رسالت کے پروانوں کی رہائی ممکن ہوئی۔اُنہوں نے کہا کہ چترال کے کچھ عناصر کو مقامی پولیس نے استعمال کرتے ہو ئے اسیران کی رہائی کے کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔چترال کے یہ میر صادق اور میر جعفر بہت جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہونگے۔اُنہوں نے کہا کہ چترال پولیس نے اسیران کو دوران قید انتہائی ٹارچر کرتے ہوئے ذہنی طور پر نقصان پہنچایا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ جوڈیشل انکوائیری کے کرکے ذمہ داروں کو اگر سزا نہ دی گئی تو اس کے سنگین نتائج بر امد ہونگے جس کا چترال جیسا ضلع متحمل نہیں ہو سکتا۔


اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ ملعون شخص جس کی شیطانی حرکت سے اس قدر مسائل اُٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اذیتیں سہنی پڑیں ۔جوکہ اس ساری کہانی کا مرکزی کردار ہے۔اس کے عدالتی ٹرائل کے حوالے سے بھی لوگ عدم اطمینان کا شکار ہے لہذا صوبائی حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ٹرائل کے ذریعے توہین رسالت کے ملزم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کردار ادا کریں۔اُنہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بعض ناعاقبت اندیش دوست حسب عادت ظالموں کو سہارا دینے کی کوشش میں میرصادق اور میر جعفر کا کردار ادا کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ایسے کردار قوموں کی زندگی میں نہایت ہی بُرے اثرات پیدا کرنے کے باعث ہوتے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!