Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بچوں کی سنچری کا انوکھاشوق……. محمد شریف شکیب

June 17, 2017 at 3:18 am

شمالی وزیرستان کے وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے گلزار خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تین بیویوں اور 36بچوں پر مشتمل خاندان کی مالی مدد کی جائے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرکے بنوں میں عارضی پناہ اختیار کرنے والے گلزار نے شکوہ کیا ہے کہ شناختی کارڈ پر گھر کا پتہ غلط ہونے کی وجہ سے وہ آئی ڈی پیز کے لئے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد سے بھی محروم رہا۔ اور گھر کا خرچہ چلانا اس کے لئے مشکل ہورہا ہے ۔ بیویوں کے زیورات بیچ کر وہ گھر کو چولہا گرم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گلزار خان کا کہنا تھا کہ ان کے علاقے میں خاندانی منصوبہ بندی کو غیر اسلامی تصور کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اولاد پیدا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ کفار مسلمانوں کی تعداد سے خوفزدہ رہیں۔گلزار خان کے بھائی کے ہاں بھی دو بیویاں اوربائیس بچے ہیں۔تاہم ان کا ریکارڈکوئٹہ کے جان محمد نے توڑ دیا ہے۔ جان محمد کی تین بیویاں اور 38بچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چوتھی شادی کا ارادہ بھی رکھتے ہیں لیکن اب تک کوئی خاتون ان سے شادی کے لئے آمادہ نہیں ہوئی۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ 100بچوں کا باپ کہلائے۔ جان محمد نے بتایا کہ اس کے بچے آپس میں کھیل کر خوش رہتے ہیں۔ اگرچہ مالی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ لیکن شوق کی تو کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ بچے بڑے ہوں گے تو خود ہی کماکر کھائیں گے۔ اور ماں باپ کو بھی کھلائیں گے۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں کثیرالعیالی کو خوشحالی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ جتنے زیادہ بچے ہوں گے۔ اتنی زیادہ کمائی ہوگی اور گھر میں خوشحالی آئے گی۔پاکستان کی 60فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ جہاں آبادی کی شرح افزائش 3فیصد سے زیادہ ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں کو ملاکر پاکستان میں شرح افزائش 2اعشاریہ 10فیصد ہے جو جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے۔ افریقہ اور جنوبی امریکہ کے دورافتادہ قبائلی علاقوں میں آبادی میں اضافے کی شرح شاید پاکستان سے زیادہ ہو۔ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں پاکستان آبادی میں اضافے کی شرح کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ کچھ لوگ اس پر بھی فخر کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی شعبہ تو ایسا ہے ۔ جس میں ہم دیگر اقوام کے مقابلے میں سب سے آگے ہیں۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ ہم بہت سے معاملات میں دنیا کی دیگر اقوام سے کافی آگے ہیں جن میں کرپشن، رشوت ستانی ، اقرباپروری،گھریلو تشدد،جبری مشقت ،ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سمیت کئی شعبے ایسے ہیں جن میں دنیا کی ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ قومیں ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔1998میں جب پاکستان میں مردم شماری ہوئی تھی تو ملک کی آبادی 13کروڑ 50لاکھ تھی۔ انیس سالوں میں آبادی بیس کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصے میں ساڑھے چھ کروڑ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبادی کے اس جن کو قابو کرنے کی جامع منصوبہ بندی نہ کی گئی تو 2025تک ملک کی آبادی 30کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ 1947میں پاکستان جب آزاد ہوا تو ملک کی کل آبادی نو کروڑ تھی۔ جس میں پانچ کروڑ آبادی مشرقی پاکستان کی اور چار کروڑ مغربی پاکستان کی تھی۔ 1971میں جب مشرقی پاکستان الگ ہوگیا اور آزاد ملک بنگلہ دیش بن گیا تو مغربی پاکستان کی آبادی چھ کروڑ تھی۔ اوربنگلہ دیش کی آٹھ کروڑ۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد 46سالوں میں بنگلہ دیش کی آبادی آٹھ کروڑ سے ساڑھے سولہ کروڑ ہوگئی جبکہ ہم چھ کروڑ سے بیس کروڑ تک
جاپہنچے۔ آبادی میں اضافے کے تناسب سے ہمارے وسائل نہیں بڑھ رہے۔ زرعی پیداوار کے لئے زمین کم ہوتی جارہی ہے۔ کھیتوں میں اب سڑکیں، فیکٹریاں ، بازار، کمرشل پلازے اور رہائشی مکانات بن گئے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار کی سہولیات کم ہوتی جارہی ہیں آج ملک کی 60فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذار رہی ہے۔ انہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں۔ انہیں صاف پانی، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج کی سہولت دستیاب نہیں۔ اگر آبادی کے جن کو اسی طرح کھلا چھوڑ دیا گیا تو حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ بے شک گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام شامل کرنے کے لئے جان محمد اور گلزار جیسے چند لوگوں کو رعایت دی جاسکتی ہے لیکن مجموعی طور پر آبادی پر کنٹرول کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا۔ تو خدشہ ہے کہ تھامس مالتھس کے نظریے کے مطابق زمین پر انسانوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے خوفناک طوفان، زلزلے، سیلاب آئیں گے بیماریاں پھیلیں گی جنگیں چھڑیں گی اس طرح لاکھوں کروڑ لوگ مارے جائیں گے اورزمین پر بوجھ کم ہوگا۔

تبصرے

Translate »
error: Content is protected !!