Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال اور بجلی کا مسلہ۔۔۔ عمران الہئ، دنین چترال

June 15, 2017 at 8:25 pm

سنا تھا کہ اس سال دو دو بجلی گھروں کی تعمیر پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔ امید سی بندھ گئی تھی کہ اس سال میرے پچے بجلی کی بتی کی روشنی میں سبق یاد کریں گے اور چھوٹی۔۔ جوشام ہوتے ہی بچھوں کے ڈنک کے خوف سے چارپائی سے اترنے سے ڈرتی اور چارپایی میں ہی بیٹھی روتی روتی سو جاتی ہے۔۔اور بوڑھی اماں کے چہرے پر بھی سکوں و اطمنان جھلکنے لگی تھی کہ۔۔۔ جن کی کمزور ٹانگیں رات کی تاریکی میں زلزلے کے خوف سے بھاگتے ہوئے گرنے کی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی۔
اب انتظامیہ کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ بجلی کی بہتری کو خاص امید نہ ہی رکھیں جائیں
چھوڑو یار کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔
اب ان لوگوں کا کیا ہوگا۔۔۔
گزشتہ چند سالوں سے کئی غریب لوگوں کے گھر بجلی کی متزلزل وولٹیج کی وجہ سے جل کر خاکستر ہوگیے تھے۔۔
وہ کاروباری حضرات جن کے دکانیں اوربیش قیمت برقی مشینیں فلکچوایشن کی نظر ہو گیے تھے۔۔ وہ کاروباری جن کے کاروبار بجلی کی نایابی کی وجہ سے ڈھوب گئے۔
اب ان کی بھی امیدوں پر پانی پھر گئی ہے۔۔۔ اب لوگوں کے چھوٹے موٹے کاروبار کا کیا بنے گا۔۔
اب ہماری چھوٹی موٹی خوشیوں کا کیا ہو گا۔
چھوڑو یار کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔
آحمد بھائی کو امید سی بندھ گئی تھی کہ گزشتہ سال بڑے شوق سے اپنے دکان کے لئے آئس کریم مشین خرید کر اس امید پر رکھا تھا کہ شائد اس سال بجلی کی صورتحال بہتر ہو اور اس کا کاروبار چمک جائے
اور اس نجیب ٹیلر اس سنگر مشین کا کیا کرے گا جوگولین والی بجلی کے آنے کی امید میں اپنے چار مینول سلائی مشینیں بھیج کہ خریدا تھا کہ اب اس برقی مشین سے وہ طرح طرح کے ڈیزاین کے ملبوسات منٹوں میں بنایے گا اور عید اور دوسرے تہواروں پر خوب کمائی ہوگی۔ اب تو اس کی امیدوں پر بھی اوس پڑھ گئی ہے۔
چھوڑو یار کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔
سننے میں آرہا ہے کہ ریشن بجلی گھر کی بحالی کا کام تاخیر کا شکار ہے۔۔۔ وجہ ضلعی و صوبائی سرکاری محکموں کی کامچوری۔۔۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ غیر سرکاری ادارے کی تعاون سے بنے والی 2 میگاواٹ کی بجلی گھر کا “بلبلہ” بھی پھٹ گیا ہے۔۔ وجہ متلقہ ادارہ میں استعداد اورفنی قابلیت کا فقدان۔۔۔
اسی طرح گولین کا بڑا بجلی منصوبہ کے بارے یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ اس سال تو کیا اگلے سال بھی ضلع چترال کو بجلی کی فراہمی ممکن نہیں کیونکہ۔۔۔ گرڈ اسٹیشن ابھی تک بنا نہیں۔۔۔۔دہاتوں کو جانے والی موجودہ ٹرانسمشن لائن میں اتنی سکت نہیں کہ طاقتور بجلی کا بو جھ برداشت کر سکے۔۔ تکنیکی افراد کوابھی تک بھرتی نہیں کیا گیا ہے۔ سرکار کی طرف سے بجلی چترال کا حصہ ابھی تک مختص نہیں ہویئ۔
شائد ہمارے منتخب نمایندوں میں وہ “تڑ”نہیں کہعلاقے کی مجبور اور بیبس عوام بنیادی حقوق کے لئے متلقہ فورم میں نہ صرف آواز اٹھاتے بلکہ عوام کا درد اور فریاد کہ صحیح مغنوں میں نمائندگی کرتے اور ووٹ کے ساتھ دعائیں بھی بٹورتے۔ اور ایک ایسی پاور کمیٹی پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں کہ جس کے پاس زبان کے علاوہ پاور نام کی کوئی چیز ہے یہ نہیں۔ شائد ڈھوبتے کو تنکے کا سہارا۔
یا ہم ضرورت سے زیادہ پرامید قوم۔۔۔ یا اپنےنمائندوں اور سرکاری اہلکاروں پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ اور امیدیں باندھے ہوئے ہیں
چھوڑو یار کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔
شائد ہم عوام ہی کچھ زیادہ ہی بھولے بھالے ہیں
خدا بھلا کرے چند لکھاریوں اور طارق عزیز کی شو نیلام گھر کا کہ جس میں چترالیوں کوسادہ، مہزب اور امن پسند قوم کا ٹائٹل مل گیا جس کا تاج ہر وقت ہمارے سر پر سجا رہتا ہے۔۔
یا ہمیں اپنے حقوق کا ادراک نہیں یا۔۔۔ حق مانگنے کا طریقہ نہیں آتا۔۔ یا بات کرنے اور منوانے کا سلیقہ نہیں ہے۔
یا شائد سادگی، تہزیب اور مروت کے ہاتوں مارے جاتے ہیں۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم بزدل بنتے جارہے ہیں۔۔۔ اور شائد بے غیرت بھی
چھوڑو یار کوئی اور بات کرتے ہیں۔۔۔

Translate »
error: Content is protected !!