Chitral Times

16th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حقیقت اور تصور کا خیبر پختونخوا….. محمد شریف شکیب

June 13, 2017 at 3:16 am

خیبر پختونخوا کو سیاسی تجربہ گاہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔ یہاں کے باسی معاشی لحاظ سے پسماندہ ہونے کے باوجود دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ سیاسی آگہی رکھتے ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی نسبت جاگیر دارانہ سوچ نہیں پائی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تقریبا تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو ایوان اقتدار تک پہنچا کر انہیں آزمایا ہے۔ انہوں نے ترقی پسند، رجعت پسند، دائیں بازو اور بائیں بازو کی جماعتوں کو بھی اقتدارمیں لاکر دیکھا۔اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کی دعویدار مذہبی جماعتوں کو بھی 2002کے عام انتخابات میں اپنے وعدے اور دعوے سچ ثابت کرنے کا موقع دیا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی، جے یو آئی، جماعت اسلامی سمیت تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو خیبر پختونخوا کے سیاسی اکھاڑے میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع مل چکا ہے۔ 2013کے انتخابات میں صوبے کے عوام نے عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کو اس بنیاد پر ایوان اقتدار تک پہنچایا کہ تحریک انصاف کا منشور معاشرے اور نظام میں تبدیلی لانا، کرپشن، رشوت ، سفارش اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنا تھا۔تحریک انصاف نے صوبے میں اقتدار سنبھالتے ہی کرپشن ختم کرنے، بے رحمانہ احتساب، قومی اداروں میں اصلاحات ،پولیس فورس کی تطہیر، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اولین ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں قانون سازی بھی ہوتی رہی۔احتساب بیورو، انسداد بدعنوانی اور انسداد رشوت ستانی سمیت کرپشن ختم کرنے کے لئے قائم نصف درجن اداروں کے باوجود الگ سے احتساب کمیشن قائم کیاگیا۔ حکومت نے اپنے ایک مسند نشین وزیر سمیت متعدد افراد کے خلاف احتساب کمیشن میں کیسز دائر کئے۔جس سے لوگوں کا تحریک انصاف پر اعتماد بڑھنے لگا۔ مگر اچانک احتساب کمیشن کے اختیارات محدود کردیئے گئے جس سے یہ ادارہ تقریبا غیر فعال ہوگیا۔ اس صوبے کو قدرت نے گھنے جنگلات، بہتی ندیوں، شفاف چشموں، فلک بوس، برف پوش پہاڑوں، آبی ذخائر اور معدنیات کی دولت سے مالامال کیا ہے۔ گلیات، کاغان، ناران، کوہستان، شانگلہ، سوات ، دیر، بونیراور چترال میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے روزاول سے اقدامات شروع کئے جاتے تو آج صرف سیاحت سے صوبہ اپنے پچاس فیصد وسائل خود پیدا کرسکتا تھا۔پارٹی قیادت نے پانی سے سستی بجلی پیدا کرکے اسے دوسرے صوبوں کو بھی سپلائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر چار سال گذرنے کے باوجود پن بجلی کا کوئی ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں کیا جاسکا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے حال ہی میں اپنا پانچواں بجٹ بھی پیش کردیا ہے۔ لیکن 2013سے لے کر 2017تک کسی بھی سال بجٹ میں مختص سالانہ ترقیاتی پروگرام کا پچاس فیصد فنڈ بھی ترقی کے لئے بروئے کار نہیں لایا جاسکا۔کیونکہ صوبے کے وسائل کا 80فیصد انحصار قومی مالیاتی کمیشن، قابل تقسیم محاصل، بجلی کے خالص منافع اور بجلی کے بقایاجات سے حاصل ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کی وجہ سے صوبے کے حقوق سلب ہوتے رہے۔ لیکن صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ عمران خان کو بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اپنے تمام اہداف حاصل کرلئے ہیں۔ پولیس کو مکمل طور پر سیاسی دباو سے آزاد اور کرپشن سے پاک کردیاگیاہے۔ تعلیمی اصلاحات کی بدولت اب پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے والے ڈیڑھ لاکھ بچوں نے سرکاری سکولوں کا رخ کیا ہے۔ صوبے کے پانچ بڑے تدریسی اسپتالوں کو مالی اور انتظامی خود مختاری دی گئی ہے۔ سینئر ڈاکٹروں کے کلینک بند کرکے انہیں اسپتالوں میں پرائیویٹ پریکٹس کرنے پر قائل کیا گیا ہے۔ صوبے میں مثالی بلدیاتی نظام قائم کیا گیا ہے ۔ وسائل اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کردیئے گئے ہیں۔ رشوت، سفارش اور کرپشن کے تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کردی گئی ہیں۔صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہوچکی ہیں۔حکومتی عہدیدار عوامی اجتماعات اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی خیبر پختونخوا کی نہایت قابل رشک منظر کشی کر رہے ہیں۔ قائد تحریک اپنے پارٹی رہنماوں پر پورا بھروسہ کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو پتھر پہ لکیر سمجھتے ہیں۔ اس لئے پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں بڑے بڑے جلسوں سے خطاب میں وہ خیبر پختونخوا حکومت اور اداروں کی مثال دیتے ہیں۔ ہر سیاسی جلسے میں عمران خان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کرپشن نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔ پولیس اب عوام دوست بن گئی ہے۔ تھانہ کلچر بالکل تبدیل ہوچکا ہے۔ وی آئی پی کلچر کا نام و نشان باقی نہیں رہا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار نہایت فعال بلدیاتی ادارے خیبر پختونخوا میں قائم کئے گئے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی مکمل تطہیر کردی گئی ہے اور دیگر اداروں سے بھی کرپشن اور دیگر خرابیوں کو ختم کرنے کے لئے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ صوبے میں ایک ارب سے زیادہ پودے لگانے کی مہم جاری ہے اور نوے فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔دیگر صوبوں کے لوگ اور وہاں پی ٹی آئی کے کارکن اپنے قائد کی باتوں کو سچ مانتے ہیں اور انہیں ایسا سمجھنا بھی چاہئے۔ لیکن خیبر پختونخوا میں پارٹی کے کارکنوں کو زمینی حقائق کا پتہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ عمران خان کے سامنے صوبے کا تصوراتی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ صوبے کی حالت اب بھی وہی ہے جو تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے پہلی تھی۔عام انتخابات میں ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی یہی رہی تو اگلے انتخابات میں اس صوبے کے سیاسی طور پر باشعور عوام کوئی دوسرا آپشن استعمال کریں گے۔ اگر پی ٹی آئی بھی عوامی اعتماد پر پورا نہیں اتر سکی تو یہ پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہوگی۔لوگ اب بھی عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک وژنری لیڈر ہیں لیکن صوبائی حکومت ان کے وژن کی ترجمانی نہیں کررہی۔ جس کا اظہار صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران حکومتی رکن قربان علی کے واک آوٹ سے ہوتا ہے۔ کارکنوں اور قائدین کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں تو پارٹیاں تباہ ہوجاتی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی مثال سب کے سامنے ہے۔ پاکستان کے عوام کی امید کو زندہ رکھنا ہے اور اپنی پارٹی کی ساکھ کو بچانا ہے تو عمران خان کو براہ راست اپنے کارکنوں سے رابطہ کرنا ہوگا۔ انہیں پورے خیبر پختونخوا میں ضلع اور تحصیل کی سطح تک دورے کرکے کارکنوں کی رائے معلوم کرنی ہوگی۔ حکومت کی کارکردگی کا کارکنوں کے زاویہ نظر سے جائزہ لینا ہوگا۔ اور عوامی آراء کی بنیاد پر لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ یہ اس صوبے میں عمران خان پر جان نچھاور کرنے والے کارکنوں کا ہی نہیں۔ تبدیلی کی خواہش رکھنے والے عوام کی بھی آرزو ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!