Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

’’این ڈبلیو ایف پی ڈرگز رولز 1982ء‘‘ میں ترامیم کا پس منظر اور اہمیت

June 13, 2017 at 8:21 pm

قیام پاکستان سے لیکر سنہ1976ء تک پورے ملک میں ادویات کے کاروبار سے متعلق تمام پہلوؤں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے تقسیم سے قبل برصغیر پاک و ہند میں نافذ العمل “ڈرگز ایکٹ1940ء” کا سہارا لیا جاتا رہا۔ آخرکار سنہ1976ء میں حکومت پاکستان نے ان قوانین کو موجودہ ملکی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کیلئے “ڈرگز ایکٹ1976ء ” پارلیمنٹ سے منظور کروا لیا۔ اور پھر آئین پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد ادویات کے کاروبار سے متعلق بین الصوبائی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان بنائی گئی، جسکے لئے پارلیمنٹ سے “ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ایکٹ 2012ء بھی منظور کروایا گیا۔ ڈرگز ایکٹ1976ء کے تحت ادویات کی خریدوفروخت اور چند دیگر متعلقہ قوانین بنانے کا اختیار صوبائی حکومتوں کو دیا گیا، جسکے تناظر میں ہماری صوبائی حکومت نے یہ قوانین تقریباََ 6 سال بعد “این ڈبلیو ایف پی ڈرگز رولز1982ء ” کی شکل میں اسمبلی سے منظور کروا لیئے۔ ان قوانین میں طے ہوا کہ صوبے میں ادویات کی خریدوفروخت دو طریقوں، ہول سیل/ڈسٹری بیوشن اور ریٹیل سیل، سے کرنے کی اجازت ہو گی۔ یہاں ہول سیل سے مراد لائسنس یافتہ کمپنیوں کی رجسٹرڈ ادویات ہاسپیٹل اور پرائیوٹ فارمیسیز اور میڈیکل سٹورز کو بیچنا ہے، جسکے لائسنس کا اجراء متعلقہ کمپنیوں کے مقرر کردہ ڈسٹری بیوٹرز کو کیا جائے گا۔ جبکہ ریٹیل سیل سے مراد عوام الناس کو براہ راست ادویات بیچنا ہے، جسکے لائسنس کا اجراء فارمیسیز اور میڈیکل سٹورز کو کیا جائے گا۔
آپ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک کے قوانین اٹھا کر دیکھ لیں تو اپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا بھر میں ڈرگز سیلز لائسنس کا اجراء صرف اور صرف ڈگری ہولڈر (کیٹیگری A) فارمسسٹ کو ہی ہوتا ہے، کیونکہ ڈگری ہولڈر فارمسسٹ ہی ماہرِادویات تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات کی صداقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گلف اور مڈل ایسٹ میں مناسب افرادی قوت نہ ہونے کے باوجود یہ ممالک بیرونی دنیا کے ڈگری ہولڈر فارمسسٹس پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے جس وقت یہ قوانین مرتب کئے جا رہے تھے اْس وقت ہمارے ملک کے حالات بھی ان ممالک سے مختلف نہیں تھے اور پورے ملک میں ڈگری ہولڈر فارمسسٹس کی شدید ترین قلت تھی۔ جسکی بدولت حکومتِ وقت نے بادلِ ناخواستہ یہ فیصلہ کیا کہ ادویات سے متعلق بہت ہی معمولی کوالیفیکیشن کے حامل (فارمیسی کونسل میں کیٹیگری B اور یہاں تک کہ کیٹیگری C سرٹیفیکیٹ رکھنے والے) افراد بھی ڈرگز سیلز لائسنس کی اجراء کے اہل تصور ہونگے۔ جسکی وجہ سے ادویات کی خریدوفروخت کا کاروبار نان کوالیفایئڈ افراد کے ہاتھوں میں سونپ دیا گیا۔ اب اگر اْس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچا جائے تو یہ اتنا برا فیصلہ نہیں تھا کیونکہ حکومت کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں تھا۔ لیکن حکومت کے اس فیصلے کے کچھ بہت ہی بھیانک نتائج سامنے آنے لگے۔ جیسا کہ
ادویات کی خریدوفروخت سے متعلق ریکارڈ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہیلتھ اور ڈرگ پالیسیز مرتب کرنے میں دشواری؛
مارکیٹ میں غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں کے نان رجسٹرڈ (دو نمبر) ادویات کی خریدوفروخت کا بھرمار؛
نامناسب ترسیل اور سٹوریج کی وجہ سے بہترین کوالٹی کی دوا کا بھی مقررہ وقت سے پہلے ایکسپائر ہونا؛ اور
خطرناک ادویات کا ڈاکٹری نسخے کے بغیر غیر ضروری اور غیر موزوں استعمال۔
باالفاظ دیگر یہ کہنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ جو دوا ہم استعمال کرتے ہیں وہ کسی لائسنس یافتہ کمپنی کی اچھی کوالٹی کی رجسٹرڈ دوا ہے، جو ہمارے لئے سود مند ثابت ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی بھی سٹور پر فارمسسٹ کی غیرموجودگی کی وجہ سے دوا کے غیر موزوں استعمال سے پیدا ہونے والے مضر صحت اثرات کا خطرہ بھی ہر وقت موجود رہتا ہے۔
چنانچہ حالات کی پیچیدگیوں کو بھانپتے ہوئے موجودہ صوبائی حکومت نے عام آدمی کی تحفظ کیلئے صحت کے شعبے میں دیگر ضروری اقدامات کے ساتھ ساتھ “ڈرگز رولز1982ء میں بھی چند ناگزیر ترامیم کرنے کا بیڑہ اٹھایا، اور بغیر کسی دباؤ کے قبول کرتے ہوئے انہیں اسمبلی سے منظور بھی کروا لیا۔ ان میں شامل قابل تعریف ترامیم مندرجہ ذیل ہیں:
149 ادویات کی خریدوفروخت پر معمور کوالیفائڈ فارمسسٹ کا سٹور پر ہما وقت موجود رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو خریدوفروخت کی نگرانی کیساتھ ساتھ عوام اور دوسرے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو ادویات سے متعلق ضروری معلومات بھی فراہم کرے گا۔
149 رولز کے Schedule B & D میں موجود ادویات کو ڈاکٹری نسخے کے بغیر فروخت کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
149 ادویات کی خریدوفروخت کا ریکارڈ کم از کم تین سال تک محفوظ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
149 ادویات کو ترسیل اور سٹوریج کے دوران ناموافق موسمی اثرات (سورج کی روشنی، گرمی، اور نمی)، گردوغبار، کیڑے مکوڑوں، اور چوہوں وغیرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے مناسب اقدامات (جیسے ایئرکنڈیشن اور فریج کی موجودگی وغیرہ) کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
149 ہول سیل لائسنس کا اجراء صرف کیٹیگری A فارمسسٹ کو ہو گا، جسکے لئے ہول سیلر کے پاس رجسٹرڈ ادویات کے لائسنس یافتہ کمپنیوں کے اتھارٹی لیٹرز کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کمپنیوں کو بھی اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹرز کو ہی ادویات فراہم کریں گے۔ اسکے علاوہ کمپنیاں اور ہول سیلرز دونوں ادویات کی وارنٹی دینے، جبکہ ہول سیلرز صرف اور صرف رجسٹرڈ فارمیسز اور میڈیکل سٹورز کو ہی ادویات بیچنے کے پابند ہوں گے۔
149 فارمیسی لائسنس کا اجراء بھی صرف کیٹیگری A فارمسسٹ کو ہو گا، جہاں کمرشل ادویات کے علاوہ مریض کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹری نسخے کے مطابق خاص ادویات کی کمپاؤنڈنگ جیسی سہولت بھی دستیاب ہو گی۔
149 میڈیکل سٹور کے لائسنس کا اجراء کیٹیگری A یا B فارمسسٹ کو ہو گا۔ لیکن Schedule G میں موجود انتہائی اہم ادویات کی خریدوفروخت کیلئے کیٹیگری A فارمسسٹ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاکہ مریض کو دوائی بیچنے کے وقت ان ادویات کے موزوں استعمال اور سٹوریج کے بارے میں آگاہی ایک مستند ماہرِادویات کی توسط سے دی جاسکے۔
ادویات کا استعمال اچھی صحت کی بحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ لیکن ان کی مثال دو دھاری تلوار جیسی ہوتی ہے۔ یعنی کسی بھی دوا کا غیر موزوں استعمال، یا خراب کوالٹی کی دوا کا استعمال، جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بہتر یہی ہے کہ کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے کسی مستندماہرِادویات سے رجوع کیا جائے۔ ان تمام ترامیم کا جائزہ لینے کے بعد صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد صرف اور صرف عوام کو ریلیف دینا ہے نہ کہ کسی کا معاشی استحصال، اور نہ ہی کسی خاص طبقے کی بے جا حمایت۔ لہٰذہ ہمیں چاہیئے کہ صوبائی حکومت کے اس احسن اقدام کا نہ صرف خیرمقدم کریں، بلکہ جہاں کہیں بھی کوئی ان ترامیم شدہ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہوا دکھائی دے تو فوراََ اسکی اطلاع متعلقہ ڈرگ انسپکٹر کو دیں۔ تاکہ مناسب اقدامات کے ذریعے ان قوانین کا سو فیصد نفاذ یقینی بنایا جاسکے۔ اسکے علاوہ فارمیسی کونسل اور پاکستان فارمسسٹ ایسوسی ایشن کو بھی چاہیے کہ پورے صوبے میں ادویات کی خریدوفروخت کے تمام مراحل (ترسیل، ڈسٹری بیوشن، سٹوریج، ڈسپنسنگ، اور کمپاؤنڈنگ) کو بین الاقوامی معیار پر استوار کرنے کیلئے تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کرے۔ حکومت سے بھی درخواست ہے کہ صوبے میں ڈویڑنل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈز کا قیام یقینی بنا کر، اور ڈرگ انسپکٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرکے عوام کے تحفظ کیلئے اٹھائے گئے اس احسن اقدام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

ڈاکٹر محمد عمران خان
اسسٹنٹ پروفیسر
وومن انسٹیٹوٹ آف لرننگ، ایبٹ آباد

Translate »
error: Content is protected !!