Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گولین سے چترال شہر کو بجلی کی فراہمی کیلئے پاور کمیٹی کی انتظامیہ کو تین دنوں کا ڈیڈ لائن،

June 11, 2017 at 4:40 pm

چترال( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال شہر میں بجلی کیلئے سرگرم تنظیم پاور کمیٹی نے انتظامیہ کو تین دنوں کا ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ SRSPکے دو میگاواٹ بجلی گھر سے چترال شہر کوبلا تعطل بجلی فراہم کیا جائے بصورت دیگر شدید احتجاج کا راستہ اپنا یا جائیگا ۔جمعہ کے دن چترال پریس کلب میں پاور کمیٹی کے صدر خان حیات اللہ خان ،نائب صدرکوثر ایڈوکیٹ و ممبران کے علاوہ نوید احمد بیگ،حبیب حسین مغل ، محمد سید خان لال،ناصر احمد خان, محی الدین ، اور حسین احمد نے درجنوں شہریوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاور کمیٹی کی انتھک کوششوں سے سرحد رورل سپورٹ پروگرامSRSPنے گولین بیر موغ کے مقام پر 35کروڑ روپے کی لاگت سے دو میگاواٹ بجلی گھر تعمیر کیا جس کیلئے ہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر شہزادہ مسعود الملک کے شکر گزار ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مذکورہ بجلی گھر کا افتتاح گزشتہ دنوں SRSPکے چیف ایگزیکٹیو افیسر نے ایک صوبائی وزیر سے کرایا۔ انتظامیہ اور واپڈا نے پاور کمیٹی کے ساتھ مل کر شہر کو بجلی کی تقسیم کا تین مرتبہ شیڈول ترتیب دیا۔ مگر ہر بار واپڈ کے اہلکار مکر جاتے ہیں۔ اورچترال شہر بجلی کی نعمت سے محروم رہا۔ جبکہ دوسری طرف اسی بجلی گھر سے چترال شہر سے باہر کئی دیہات کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی گئی ہے ۔محکمہ واپڈا کی من مانیوں سے رمضان کے مبارک آیام میں چترال شہر کے بجلی صارفین بجلی کی نعمت سے محروم ہیں ،اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اس تیار بجلی کی فراہمی کے لئے ہر ادارے کا دروازہ کھٹکٹایا مگر کوئی بھی ہماری فریاد سننے کے لئے تیار نہیں۔ انھوں نے انتظامیہ اور واپڈا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ واپڈا ریاست کے اندر ریاست بن چکا ہے ۔ یاریاستی ادارے بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ اُنہوں نے عوام کا مسلہ حل کرنے کے بجائے سیاست چمکانے کے کوششوں پر ممبر قومی اسمبلی ،ممبران صوبائی اسمبلی اور ضلعی ناظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اخر کارمجبور ہوکر ہم نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج و یلج سطح پر شروع ہونگے اور ہمارا دھرنا اُس وقت تک جاری رہیگا جب تک چترال شہر کو شیڈول کے مطابق بجلی نہیں دی جائے گی۔اُنہو ں نے وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلٰی اور آرمی چیف سے اس سلسلے میں قدم اُٹھانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔

Translate »
error: Content is protected !!