Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پولیس اسٹیشن پر پتھراؤکے الزام میں گرفتارملزمان کی رہائی کا فیصلہ۔۔۔عبد الاکبر چترالی

June 11, 2017 at 5:19 pm

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما ، صدر جمعیت اتحاد العلما ء خیبر پختونخوا اور سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے گذشتہ رات ایک وفد سینئیر منسٹر عنایت اللہ خان کی قیادت میں اسیران ختم نبوت ﷺچترال کی رہائی کے سلسلہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ۔ وفد میں وزیر خزانہ مظفر سید ، عبدالحق شامل تھے۔وزیر اعلیٰ سے 21 اپریل 2017 ء کے واقعہ میں جس میں ایک بد بخت، ملعون رشید نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ فطری ردعمل کے طور پر چترال کے غیرت مند مسلمانوں نے احتجاج اور تھانے میں موجود ملعون رشید پر پتھراؤ کے نتیجے میں 20 افراد کو گھروں ، بازاروں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جس پر 6-7ATA ، دفعہ 324 اور دیگر درجنوں دفعات لگا کر چترال سے ڈی آئی خان جیل اور پھر چترال جیل میں رکھا گیا اور تاہنوز جیل میں ہیں کی رہائی وفد کا واحد ایجنڈا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کا موقف سننے کے بعد اصولی طور اتفاق کر لیا کہ ان اسیران ختم نبوتﷺ کو فوری رہائی ملنی چاہیے۔ چنانچہ آئی جی خیبر پختونخوا سے فون پر رابطہ کر کے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کیں۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ بہت جلد ان اسیران کی رہائی عمل میں آئیگی اور عنقریب یہ افراد اپنے اپنے گھروں میں ہونگے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک ، سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ ، وزیر خزانہ مظفر سید، ہوم سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کا اپنی اور اہالیان چترال کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس اعلان سے پورے چترال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس موقع پر ہم صوبائی حکومت اور آئی جی خیبر پختونخوا سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نبوت کے جھوٹے دعویدار ملعون رشید کے کیس کا فوری ٹرائل کیا جائے ۔ چونکہ یہ شخص نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے شریعت کی رو سے مرتدہوچکا ہے۔ شریعت کی منشاء کے مطابق اس کو قرار واقعی سزا دی جائے اور عدالتی کاروائی سے قوم کو آگاہ رکھا جائے۔اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے ناظم مالیات عبد الحق ،چترال سے سماجی کارکن عصمت اللہ دمیلی،جے یو آئی کے محمد جمیل اور مولانا مفتی مطیع الرحمان بھی موجود تھے۔

Translate »
error: Content is protected !!