Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیبرا پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کا حصہ دینے کیلئے کردار ادا کرے۔۔ پرویز خٹک

June 11, 2017 at 4:23 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA )سے کہا ہے کہ وہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت خیبرپختونخوا کو اس کا پورا حصہ دینے کیلئے اپنا آئینی کردار ادا کرے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ اے جی این قاضی فارمولہ کو اس مسئلے کا مستقل حل سمجھتے ہیں جس کی مشترکہ مفادات کونسل ، صدارتی آرڈر حتیٰ کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی بارہا توثیق و تصدیق کی جا چکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیپرا کے سامنے ٹیرف کے بارے واپڈا کی دائر کردہ درخواست کی کھلی سماعت کے دوران کیا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی رہنماؤں و صوبائی وزراء سکندر شیر پاؤ ، انیسہ زیب طاہر خیلی،عنایت اﷲ خان، محمد عاطف خان، اراکین صوبائی اسمبلی سردار اورنگزیب نلوٹھہ اور نگہت اورکزئی بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ بڑی تگ و دو کے بعد پچھلے سال پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کو حصہ دیا گیا جو کہ پہلے چھ ارب روپے پر منجمد تھا ۔ ہماری مربوط جدوجہد کے بعد 6 ارب سے بڑھا کر 19 ارب روپے کیا گیا تاہم وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ ایک خالصتاً عارضی انتظام ہے جبکہ ہم اس مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ صارفین پر کسی قسم کا اضافی بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کے پن بجلی سٹیٹشنز سے فی یونٹ 0.55 روپے کی قیمت پر پیدا ہونے والی سستی بجلی 10.45 روپے فی یونٹ کی اوسط قیمت پر فروخت کی جارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ 10 روپے فی یونٹ کے فرق کوسامنے رکھتے ہوئے بجلی کے خالص منافع کی مد میں صوبے کا حصہ سالانہ 100 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے اس حصے کو دوسرے ذرائع سے پیدا ہونے والی مہنگی بجلی پر سبسڈی کیلئے استعمال کیا جا تا ہے جیسا کہ پن بجلی کی نسبت کوئلے سے 12.18 روپے فی یونٹ، ایچ ایس ایس ڈی سے 13.50 روپے فی یونٹ ، فرنس آئل سے 10.34 روپے فی یونٹ ، آر ایل این جی سی 10.45 روپے فی یونٹ، ہوا سے 16.63 روپے فی یونٹ اور شمسی توانائی کے ذریعے 16.95 روپے فی یونٹ مہنگی بجلی پیدا کی جاتی ہے۔پرویز خٹک نے مزید واضح کیا کہ تقسیم کے ناقص نظام کی وجہ سے اُن کا صوبہ بجلی میں اپنا 13.5 فیصد حصہ بسم نہیں کر سکا جیسے پیسکونے گزشتہ چند دہائیوں سے یکسر نظر انداز کیا ہے۔

 

Translate »
error: Content is protected !!