Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ملازمین نے بجٹ پھرمستردکردیا……………. محمد شریف شکیب

June 11, 2017 at 4:53 pm

خیبر پختونخوا کے مالی سال 2017-18کا بجٹ پیش ہوتے ہی سب سے پہلا ردعمل سرکاری ملازمین کی طرف سے سامنے آیا۔ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کو 2010 میں دیئے گئے ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کے علاوہ دس فیصد مزید ایڈہاک ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا۔ عام فہم زبان میں کلاس فور سے لے کر گریڈ بائیس تک کے افسروں کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے اور ایڈہاک ریلیف کے انضمام کی صورت میں ماہانہ اڑھائی ہزار سے پندرہ ہزارروپے اضافی ملیں گے۔ہرسال کی طرح اس سال بھی سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کو معمولی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اراکین صوبائی اسمبلی اپنی تنخواہوں میں دوگنا تین گنا اضافہ کرتے ہیں جب ملازمین کو ریلیف دینے کی باری آتی ہے تو دس فیصد سے آگے جانے کو کسی صورت تیار نہیں ہوتے۔سرکاری ملازمین نے حکومت کے اس ’’ معاندانہ رویے ‘‘ کے خلاف عید کے بعد احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان بھی کرڈالا۔صوبے کے زیر انتظام سرکاری اداروں میں کام کرنے والے مستقل سرکاری ملازمین کی تعداد چار لاکھ ہے ۔گویا تنخواہوں میں اضافے سے چار لاکھ خاندانوں کو براہ راست فائدہ ہوگا۔ صوبے کی آبادی دو کروڑ ہے۔ایک کروڑ 96لاکھ کی آبادی کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ پھر بھی انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔انصاف کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو بجٹ میں ریلیف سے محروم عام لوگوں پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔ کچھ ٹیکسوں اور محصولات کی شرح میں وفاقی حکومت نے اضافہ کیا ہے۔ اب صوبائی حکومت نے بھی خدمات پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کا اعلان کرکے رہی سہی کسر پوری کردی۔ اشیائے ضروریہ پر ٹیکس لگتا ہے تو اس سے صنعت کار ،درآمد و برآمدکنندگان اور تاجروں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اگر حکومت کسی چیز پر جنرل سیلز ٹیکس یا کوئی دوسرا ٹیکس دس روپے کی شرح سے لگاتا ہے تو کمپنی والے اور دکاندار اس چیز کی قیمت میں پندرہ روپے اضافہ کرتے ہیں۔ جو عوام کی جیبوں سے نکالاجاتا ہے۔عام آدمی وہ مخلوق ہے جو ظلم سہتا رہتا ہے۔ احتجاج اور ہڑتال کرکے اپنے دل کا بوجھ بھی ہلکا نہیں کرسکتا۔سرکاری ملازمین ماشا اللہ سب پڑھے لکھے لوگ ہیں انہیں تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان مسترد کرنے سے پہلے بجٹ پر ایک نظر ڈالنی چاہئے۔ کہ اس میں صوبے کے وسائل کتنے ہیں۔ یہ ملازمین وسائل میں اضافے کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت اور امدادی اداروں پر کتنا انحصار کرنا پڑتا ہے۔ رواں مالی سال بیرونی امداد کی مد میں 36ارب روپے ملنے کا تحمینہ لگایا گیا تھا۔ جس میں سے بارہ ارب روپے کم ملے۔ وفاق سے ملنے والے صوبے کے حصے میں سے بھی 60فیصدہی مل سکا۔ اس بار حکومت نے اپنے وسائل بڑھانے کے لئے کلینکل لیبارٹریوں، کیبل آپریٹروں، پٹرول پمپوں، سی این جی اسٹیشنوں، درزیوں، پراپرٹی ڈیلروں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان، ہول سیلرز اور میڈیکل اسٹوروں پر ٹیکس لگادیا ہے۔ جس سے چند ارب روپے ہی حاصل ہوسکیں گے۔ جبکہ دوسری طرف سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 208ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بیس ہزار نئی اسامیاں پیدا کرنے کا اعلان کیا گیاہے ۔حکومت نے اپنے پانچویں اور آخری بجٹ میں بھی اپنی آمدنی میں معقول اضافے کے لئے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ ٹیکس اور محصولات کی شرح میں اضافے سے مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح مزید بڑھے گی۔ اگر حکومت صرف سیاحت کے شعبے کو چار سال پہلے اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ۔ تو آج ہمیں غیر ملکی اداروں کی امداد پر انحصاراور وفاق سے حقوق نہ ملنے کا شکوہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔سیاحت سے اتنی آمدنی حاصل ہوتی کہ ہمیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اسی طرح معدنی وسائل سے استفادہ اور پانی سے بجلی بناکر بھی ہم خود کفالت حاصل کرسکتے تھے۔ سرکاری ملازمین کو میرا ذاتی مشورہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ ہمارا دکھ بانٹنے کی کم ہی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ بجٹ سے عام آدمی کا جو نقصان ہونے والا ہے اسے پیش نظر رکھ کر احتجاج کا پروگرام منسوخ کریں اور تنخواہوں میں اضافہ قبول کرنے کا واضح اعلان کریں ۔بجٹ مسترد کرنے کے باوجود وہ اضافی تنخواہ ضرور لیں گے۔ وسیع تر قومی مفاد میں تنخواہ میں اضافے کو قبول کرنے کا اعلان کرنے میں آخر کیا حرج ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!