Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مردم شماری اور چند چشم کشا حقائق………… محمد شریف شکیب

June 11, 2017 at 11:54 pm

انیس سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں مردم و خانہ شماری کا مرحلہ بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا۔ اگرچہ محکمہ شماریات کی طرف سے مردم شماری کے نتائج کا باقاعدہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا تاہم مردم شماری کے حوالے سے چیدہ چیدہ اعدادوشمار سامنے آئے ہیں جن کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی19کروڑ 66لاکھ ، 72ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں مردوں کی تعداد 9کرورڑ 99لاکھ 33ہزار جبکہ خواتین کی تعداد 9کروڑ 67لاکھ 39ہزار ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح 2اعشاریہ دس فیصد ہے۔ ملک میں روزانہ 15ہزار894 بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ چار ہزار سولہ افراد روزانہ مرتے ہیں۔ ہر ایک گھنٹے میں662بچے پیدا ہوتے اور 167افراد موت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے شعبہ شماریات کے مطابق پاکستان کا کل رقبہ 7لاکھ96ہزار 100مربع کلو میٹر ہے اور آبادی کو رقبے پر تقسیم کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک کلو میٹر کے رقبے پر 244افراد بستے ہیں۔ پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد چھ کروڑ نوے لاکھ ، ساٹھ ہزار چار سو پچپن ہے۔ جو مجموعی آباد ی کا 35فیصد بنتا ہے۔ پندرہ سے 64سال کی عمر کے افراد کی مجموعی تعداد گیارہ کروڑ 76لاکھ ترپن ہزار چھیاسٹھ ہے۔جو مجموعی آبادی کا 60فیصد بنتا ہے۔ جبکہ چونسٹھ سال سے زائد عمر کے شہریوں کی تعداد 82لاکھ اٹھارہ ہزار تین سو ہے۔جو پاکستان کی کل آبادی کا صرف چار اعشاریہ دو فیصد ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پندرہ سال سے زیادہ عمر کے سات کروڑ انتالیس لاکھ چون ہزار ایک سو پچاس افراد لکھ پڑھ سکتے ہیں اورعمر کے اس گروپ میں خواندگی کی شرح اٹھاون فیصد ہے۔ جبکہ پانچ کروڑ انیس لاکھ پندرہ ہزار 294افراد بالکل ان پڑھ ہیں۔ جوان مردوں میں خواندگی کی شرح 71فیصد اور جوان خواتین کی 45فیصد ہے۔ پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے نوجوانوں کی شرح خواندگی 75اعشاریہ ساٹھ فیصد ہے۔ ان میں 81فیصد مرد اور 69فیصد خواتین شامل ہیں۔

کسی ملک میں مردم شماری کا بنیادی مقصد آبادی کے حوالے سے یہی معلومات حاصل کرنا اور اسی تناظر میں ترقی کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ تاہم ہمارے ملک میں زمینی حقائق کو بنیاد بناکر ترقی کی منصوبہ بندی کا کوئی رواج نہیں۔مردم شماری سے ہی مجموعی آبادی، شرح خواندگی، آبادی کی شرح افزائش کے علاوہ اس بات کا بھی پتہ چلایاجاتا ہے کہ ملک میں کس لسانی، ثقافتی اور نسلی پس منظر رکھنے والوں کی تعداد کتنی ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی حالیہ مردم شماری کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ ہے۔ یہاں پشتو، ہندکو اور کہوار جیسی بڑی زبانوں کے علاوہ تیس سے زیادہ چھوٹی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر زبان بولنے والوں کا الگ ثقافتی پس منظر اور تاریخ ہے۔تاہم مردم شماری کی جامع منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی ضروری معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔خیبر پختونخوا کی تیسری بڑی زبان کہوار بولنے والوں کو بھی قومی سطح پر اپنی شناخت نہ ہونے کا شدت سے احساس ہورہا تھا۔ اسی احساس کی وجہ سے نوجوان قانون دان شاہد علی یفتالی اور ماہر تعلیم و کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہوار زبان کو مردم شماری فارم میں شامل کرانے کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کردی۔ معروف قانون دان بیرسٹر وقار علی نے عدالت عالیہ میں کیس کی پیروی کی۔رٹ میں وفاق پاکستان ، چیف کمشنر مردم شماری ، حکومت خیبر پختونخوا اور صوبائی کمشنر مردم شماری کو فریق بناتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ کہوار نہ صرف ایک قدیم زبان ہے۔ بلکہ یہ صدیوں پر محیط ثقافتی تاریخ کی امین ہے۔ یہ زبان نہ صرف ضلع چترال بلکہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر، سوات کے بالائی علاقوں ، افغانستان کی سرحدی پٹی واخان اور وسطی ایشیا کے کچھ علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے۔ کہوار زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زیادہ ہے۔اس زبان کی اہمیت کے پیش نظر صوبائی حکومت نے اسے پشتو اور ہندکو کے ساتھ تعلیمی نصاب میں بھی شامل کیا۔

 

مردم شماری فارم میں پشتو اور ہندکو کا ذکر ہے جبکہ کہوار دیگر زبانوں کے خانے میں ڈالا گیا جو کہوار بولنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے 2جون کے اپنے تاریخی فیصلے میں وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ کہوار زبان کو آئندہ مردم شماری فارم میں شامل کیا جائے۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے پر عمل درآمد دس سال بعد ہی ہوگا۔ تاہم یہ بھی غنیمت ہے کہ کہو قوم کے حق کو ملک کی اعلیٰ عدالت نے تسلیم کیا۔توقع ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومت حالیہ مردم شماری کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کوپیش نظررکھ کر مجموعی ملکی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کرے گی۔

Translate »
error: Content is protected !!