Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاست دان میڈیا سے نالاں ……………محمد شریف شکیب

June 11, 2017 at 5:20 pm

کراچی میں یوم تکبیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران الفاظ کے نشتر چلاکر اپنی پارٹی قیادت کو پیارے ہونے والے مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی نے احتجاج کیا ہے کہ ان کی تقریر کوتوڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ (حالانکہ وڈیو خطاب کو توڑنا اور مروڑنا ممکن نہیں ہوتا)نہال ہاشمی نے اپنی جذباتی تقریر میں کہا تھا کہ جو لوگ نواز شریف اور ان کے خاندان کا محاسبہ کر رہے ہیں ان پر اور ان کے بچوں پر پاکستان کی زمین تنگ کردی جائے گی۔ انہوں نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ آج تم لوگ ملازمت کر رہے ہو۔ کل ریٹائر ہوجاو گے۔ تو تمہارا حال بہت برا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ دھمکی عمران خان، اسد عمر، جہانگیر ترین ، شفقت محمود، شیرین مزاری یا شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کو نہیں دی گئی۔ کیونکہ وہ کسی ادارے میں ملازم نہیں۔ اور نہ ہی آئندہ چند سالوں کے اندر وہ ریٹائرہونے والے ہیں۔( کیونکہ پاکستانی روایت یہ ہے کہ سیاست میں آنے کی کوئی عمر نہیں۔ اور جانے کا وقت اسی وقت آتا ہے جب اوپر سے بلاوا آجائے) ان کے اشارہ لامحالہ پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے ججوں یا سپریم کورٹ کی قائم کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی کے ممبران کی جانب تھا۔ کیونکہ جے آئی ٹی کے تمام ممبران کسی نہ کسی سرکاری محکمے کے ملازم ہیں۔ نہال ہاشمی کاشکوہ تھا کہ سوشل میڈیا نے انہیں ایسے انداز میں پیش کیا جیسے وہ کلبھوشن یادیو سے بڑا دہشت گرد ہو۔نہال ہاشمی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے عمران خان کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ جو بنی گالہ میں کئی سو کینال کے محل میں رہتا ہے۔ مگر ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سب کو نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو مجرم ثابت کرنے کی پڑی ہے۔ نہال کے بیان کا لیگی قیادت نے بھی فوری نوٹس لیا تھا اور ان کی پارٹی رکنیت معطل کردی تھی۔ اور انہیں سینٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے کو کہا تھا۔ پارٹی قیادت کے حکم پر انہوں نے اپنا استعفیٰ بھی چیئرمین سینٹ کو پیش کیا تھا مگر اگلے روز خود جاکر چیئرمین سینٹ سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔واقفان حال بتاتے ہیں کہ مسلم لیگی قیادت نہال ہاشمی کو صدقے کا بکرا بنانا چاہتی تھی۔ جب متنازعہ تقریر کے بعد انہیں احساس ہوگیا کہ پارٹی ان کی سرپرستی کرنے سے کنی کترانے لگی ہے تو انہوں نے مبینہ طور پر پارٹی رہنماوں کو سارا کچا چھٹا کھولنے کی دھمکی دیدی۔ جس پر نہ صرف ان کی پارٹی رکنیت بحال ہوئی بلکہ سینٹ کی ممبرشپ بھی اپنے پاس رکھنے کی اجازت مل گئی۔سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی پر نکتہ چینی کا الزام صرف نہال ہاشمی پر ڈالنا زیادتی ہے۔ مسلم لیگ کے صف دوم اور صف سوئم کے رہنما اکثر متنازعہ بیان داغتے رہتے ہیں۔ ثنااللہ تو عدالت عظمیٰ اور جے آئی ٹی کے بارے میں ایسے الفاظ بھی استعمال کرچکے ہیں جن کو دہرانا بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ شیخ رشید، عمران خان اور بلاول زرداری نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بوکھلاہٹ کا شکار حکمران جے آئی ٹی کے ممبران یا سپریم کورٹ پر حملہ آور ہوسکتے ہیں ۔ بلاول کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی آئینی اداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی جبکہ عمران خان نے اپنے ٹائیگرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کردی ہیں تاکہ سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کا دفاع کیا جاسکے۔ان الزامات اور جوابی الزامات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست کی موجودہ بساط لپیٹے جانے کا امکان واضح ہوتا جارہا ہے اور شیخ رشید کی پیشگوئی غیر متوقع طور پر سچ ہوتی نظر آتی ہے کہ 2017پاکستان میں عام انتخابات کا سال ہے۔ موجودہ صورتحال کو کسی بھی لحاظ سے سیاسی
بحران قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس سے شدید بحرانی کیفیت توپیپلزپارٹی کے دور میں پیدا ہوئی تھی۔ فرق یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے نظام کو بچانے کے لئے اپنے وزیراعظم کی قربانی دی اور میاں نواز شریف اپنی کرسی بچانے کے لئے نظام کی قربانی دے سکتے ہیں۔ حالانکہ مسلم لیگ ن کے پاس ایسے بہت سے لیڈرموجود ہیں جوایک سال تک میاں برادران کے بغیر بھی حکومت چلاسکتے ہیں ۔ لیکن شاید میاں برادران کو محمد خان جونیجو کے انجام سے خوف دامن گیر ہے کہ جنرل ضیاء نے انہیں عاجز ، مسکین اور بے ضرر سمجھ کر وزیراعظم بنایا تھا۔ عنان اقتدار ہاتھ میں آنے کے بعد جونیجو نے وہ پرپرزے نکالے کہ جنرل ضیاء نے ان کی چھٹی کرانے میں ہی عافیت جانی۔ ہمارے سیاست دان میڈیا سے بالعموم اورسوشل میڈیا سے بالخصوص خفا ہی رہتے ہیں۔کیونکہ ان کی پرائیویسی ختم ہوتی جارہی ہے۔ حالانکہ سیاست دان عوامی پراپرٹی ہوتے ہیں۔ ان کی کوئی پرائیویسی ہوتی ہی نہیں۔ تو پرائیویسی ختم ہونے کا گلہ کیسا؟؟

تبصرے

Translate »
error: Content is protected !!