Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی بجٹ برائے مالی سال2017-18میں ضلعی حکومتوں کے لئے 28ارب روپے کی خطیر رقم مختص

June 7, 2017 at 8:26 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی بجٹ برائے مالی سال2017-18میں ضلعی حکومتوں کے لئے 28ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ یہ رقم اضلاع کے اپنے محاصل کے علاوہ ہے جبکہ بلدیات کے شعبے میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت35منصوبوں کے لئے4۔ارب50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں وادئ کمراٹ اور براول کے علاقے کی ترقی کے لئے خصوصی مراعات کا اجراء جھیل سیف الملوک اور لو لو پت جھیل کے علاقے کی ترقی،ضلع سوات اور چترال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ بحالی ،کھلا بٹ ٹاؤن شپ میں سیوریج کے نظام کی تنصیب اورپرانے زنگ آلود پائپوں کی تبدیلی شامل ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2001سے 2013 تک گزشتہ ادوار جو 12سال پر محیط ہے بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی بجٹ میں کل14۔ارب روپے دئیے گئے تھے جبکہ موجودہ مخلوط حکومت اب تک صرف دو برسوں میں48ارب روپے ضلعی حکومتوں کو منتقل کر چکی ہے۔بجٹ میں مزید بتایا گیا کہ موجودہ حکومت محکمہ بلدیات کے ذریعے دیہی اور علاقائی ترقی کے کئی اہم منصوبوں پر عمل پیرا ہے اس سلسلے میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں 5فلائی اوورز تعمیر کئے گئے ہیں جن میں سے ایک باب پشاور فلائی اوور بھی ہے جسے 6ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے اوردو مزید فلائی اوورز پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا۔علاوہ ازیں مخلوط حکومت نے ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی قابضین سے اربوں روپے کی اراضی وا گزار کرائی ہے۔مزید برآں شمسی توانائی کے تحت لائٹ کی تنصیب،رنگ روڈ پر انٹر چینجز کی تعمیر کا منصوبہ،رنگ روڈ حیات آباد ٹول پلازہ سے لے کر جی ٹی روڈ تک سروس روڈ کا قیام جنرل بس سٹینڈ کے قیام کی سکیم اور ریپڈ بس ٹرانزٹ کے قیام کے لئے چمکنی میں 115کنال اراضی خریدنے جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔اس کے علاوہ چھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کی تزئین و آرائش کا منصوبہ جس پر 6۔ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ان میں واٹر سپلائی و نکاسی آب کمپنیوں کا قیام،مالاکنڈ ہل سٹیشن کی ترقی کا منصوبہ اور صوابی سولر روڈ لائٹس کی تنصیب قابل ذکر ہیں۔ریگی ماڈل ٹاؤن کا منصوبہ ایک مردہ گھوڑے کے مترادف تھا صوبائی حکومت نے موثر اقدامات اٹھاتے ہوئے مذکورہ ٹاون شپ میں ایک نئی جان ڈال دی ہے اور اس ضمن میں کئی اقدامات اٹھائے گئے جن میں ایک ارب روپے گیس کی فراہمی اور ایک ارب روپے سڑکوں کی تعمیرو دیگر سہولیات کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ موجودہ مخلوط حکومت کے دور میں اب تک میونسپل اور رورل روڈز کی تعمیر پر 5۔ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور لوکل کونسلز کے اپنے محصولات ایک ارب سے4۔ارب تک پہنچ گئے ہیں۔ پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی موجودہ مخلوط حکومت آنے سے پہلے خسارے میں تھی اب بفضل خدا حکومتی توجہ کے باعث منافع کما رہی ہے جسے پشاور کی ترقی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ بلدیات میں E-TenderingاورOnline Tendring شروع کر دی گئی ہے جبکہ عوامی شکایات کے ازالہ کے لئے گریوینسز ریڈ ریسل سیل کا قیام زیر غور ہے۔

امسال معدنیات کے شعبے سے صوبائی خزانے میں تقریباً74کروڑ روپے کے محاصل جمع کئے گئے
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) امسال معدنیات کے شعبے سے صوبائی خزانے میں تقریباً74کروڑ روپے کے محاصل جمع کئے گئے ہیں جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کے موثر اقدامات کی بدولت اس اہم شعبے سے اس سے زیادہ ریونیو حاصل کرنے کی توقع ہے۔ محکمہ خزانہ نے مالی سال2017-18میں محکمہ معدنیات کو2.4بلین روپے کے محاصل کا ٹارگٹ دیا ہے۔محکمہ ہذا نے نومبر2016سے آن لائن درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ سال2017-18کی بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت جدید ٹیکنالوجی اور علوم کو بروئے کار لا کر صوبے کی قیمتی دولت معدنیات کی دریافت ،پیداوار،مارکیٹنگ اور استعمال کے بارے میں متعدد منصوبہ جات پر کام کر رہی ہے جبکہ فرسودہ قوانین کا خاتمہ کر کے معدنیات کے شعبے میں نمایاں اصلاحات لائی گئی ہیں۔ معدنی شعبے کی ترقی و ترویج کے لئے منرل سیکٹر گورننس ایکٹ2016کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جبکہ دیگر اقدامات میں معدنی لائسنس کے حصول کے لئے آن لائن مینجمنٹ سسٹم اور متعلقہ سافٹ اپلیکیشن کا استعمال شامل ہے مزید برآں ایک مکمل Mining Cadastral Systemکے قیام پر بھی کام ہو رہا ہے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل مائنز اینڈ منرلز میں Monitoring & Evaluation systemکے تحت غیر قانونی معدنی کھدائی،پیداوار کی صحیح رپورٹنگ، موجودہ نظام میں خامیوں پر قابو پاکر شفافیت، قانون کی حکمرانی اور علاقائی سطح پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کا نظام بھی وضع کیا گیا ہے جو کہ پچھلے سال کے برعکس نمایاں اقدامات ہیں اس طرح صوبائی حکومت نے کم از کم اجرت میں بھی مناسب اضافہ کیاہے اور نئے بجٹ کے تحت کم از کم اجرت کو14ہزار سے بڑھا کر15ہزار روپے ماہانہ کر دیا ہے۔

صوبے کی مجموعی محاصل گذشتہ چار سالوں کے دوران 89 ارب 20 کروڑ تک پہنچ گئے
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی حکومت کا محاصل میں اضافہ کے لئے بہترین حکمت عملی مرتب کرنے کی بدولت صوبے کی مجموعی محاصل گذشتہ چار سالوں کے دوران 89 ارب 20 کروڑ تک پہنچ گئے۔ جو گذشتہ حکومت کے چار سالہ دوراقتدار کی نسبت 167 فی صد زیادہ ہے جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے قیام سے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع اور رجسٹرڈ ٹیکس دہند گان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ بجٹ 2017-18 میں ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے ٹیکس فیسلیٹشن سنٹرز کی دائرہ کا میں مزید اضافہ کیا جا رہاہے۔

محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا میں دو کروڑ 81لاکھ روپے کی لاگت سے جدید پریس بریفنگ سٹوڈیو کا قیام عمل میں لایا گیا
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی حکومت نے محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا میں 2 کروڑ اور81 لاکھ روپے کی لاگت سے میڈیا کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جدید پریس بریفنگ سٹوڈیو کاقیام عمل میں لایا ہے اورمالی سال 2016-17 کے دوران یہ اہم منصوبہ خیبرپختونخوا گورننس پروگرام کے مالی تعاون نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔صوبائی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس پریس بریفنگ سٹوڈیو کو پریس کانفرنس ،میڈیا بریفنگ اورآن لائن کھلی کچہری کے لئے استعمال کیاجائے گا۔ نیز صوبائی حکومت نے عوام اورحکومت کے مابین مؤثر ابلاغ اورحکومتی تشہیر کو فروغ اورمحکمے کے ملازمین کو ایک بہترین سٹرکچر دینے کی غرض سے یکم جولائی2016 سے دیگر صوبوں کی طرزپر ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن کو اپ گریڈ کرکے ڈائریکٹوریٹ جنرل انفارمیشن کادرجہ دیاہے۔ جبکہ پشاور اورمردان میں دو ایف ایم ریڈیو سٹیشنز کے علاوہ کوہاٹ ،ایبٹ آباد اورسوات میں تین نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشنز مکمل ہوچکے ہیں جن کا عنقریب افتتاح کیاجائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!