Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دروش ، پولیس کے ہاتھوں ایک مزدور کی مبینہ ہلاکت معمہ بن گیا

June 7, 2017 at 4:14 am

دروش ( نمائندہ چترال ٹائمز ) دروش میں گزشتہ دن دروش تھانہ کے ایک کانسٹپل کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایک مزدور کی ہلاکت کے بعد مختلف مکاتب فکر نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہا ر کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی پولیس کے حوالے سے ریفام کے دعوے صرف دعوے ہی رہ گئے ہیں۔ جبکہ پولیس گردی کے واقعات صوبے میں بار بار رونما ہورہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن دروش کے ایک مقامی مسجد میں پولیس نے ایک شخص سے پوچھ گچھ شروع کی تو ان کے پاس شناختی کارڈ یا کوئی دوسرے دستاویزات موجود نہیں تھے ۔ جس پر پولیس کے بہادر کانسٹپل نے انھیں مبینہ طور پر تھپڑ رسید کیا ہے ۔ جس سے ان کے ناک سے کافی خون بہنے کی وجہ سے اسکی موت واقع ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تین گھنٹے بعد جب انھیں مقامی ہسپتال پہنچایا گیا تب اسکی موت واقع ہوچکی تھی۔ پولیس زرائع کے مطابق تھپڑ اسکی کان پٹی پرلگی ہے۔ جو اسکی موت کا سبب بنی۔ دروش کے مقامی پولیس نے مذکورہ شخص کی تصاویر مختلف مقامات پر اویزان کی ہے تاہم ابھی تک اسکی شناخت نہ ہوسکی ہے ۔ پولیس زرائع کے مطابق مذکورہ مشکوک شخص کے جیب سے ایک وزٹنگ کارڈ ملی ہے ۔ جس پر فیصل آبادکے کسی بھٹی کے ایڈریس موجود تھے۔ جہاں فون کرنے پر پولیس کو بتایا گیا ہے کہ مذکورہ شخص اوزبک ہے ۔ اور وہ ان کے پاس مزدور ی کرتا تھا ۔ جب ان کو فالج کا آٹیک ہوا تو وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا ۔ تاہم مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ شخص کاتعلق چترال کے کسی دورآفتادہ علاقے سے ہے ۔ جو محنت مزدوری کی غرض سے دروش کا رُخ کیا تھا۔ دروش پولیس کے مطابق لاش کو دروش ہی میں دفنا دیا گیا ہے۔اور دروش پولیس ایس ایچ او کی نگرانی میں اس واقعے کی انکوائری کررہی ہے ۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ اصل حقائق کیا ہیں۔فلحال معمہ بنا ہوا ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!