Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد……….. قطرکا ڈرامہ …………………. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

June 7, 2017 at 4:00 pm

جدید دور میں قطر مشرقی وسطیٰ کاا ہم خلیجی ملک ہے یہ ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہے اس کے باوجود گذشتہ ماہ قطری امیر احمد بن جا سم کی طرف سے امریکہ کو 500ارب ڈالر ادا کرنے سے انکار کے بعد خطے میں اسرائیل نوازلابی اور اسرائیل مخالف لابی کی بحث چھڑ گئی ہے امریکہ اور سعودی عرب نے الزام لگایا ہے کہ قطر اسرائیل مخالف لابی میں شامل ہو اہے سعودی عرب نے قطر کو سنگین نتا ئج کی دھمکی دے کر سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے 3سال پہلے سعودی عرب نے مصر کے صدر محمد مرسی کو ایسی دھمکی دی تھی اس دھمکی کے بعد محمد مرسی کا تختہ اُلٹ کر اسرائیل نواز فوجی ڈکٹیٹر عبدالفتاح السیسی کی حکومت قائم کی گئی قطر کے حکمران پر بھی سعودی عرب اور امریکہ نے وہی الزامات لگائے ہیں جو الزامات مصر کے صدر محمدمرسی پر لگائے گئے تھے یہی الزامات لیبیا کے صدر معمر قذانی اور عراق کے صدرصدام حسین پر بھی اسی طرح مختلف اسلوب اور مختلف الفاظ میں لگائے گئے تھے اخوان المسلمون، حماس اورحزب اللہ کی سر پرستی کا الزام نیا نہیں اور یہ الزام تعجب خیز بھی نہیں امریکہ نے سعودی عرب کے ذریعے جس مسلمان ملک کو سزادینے کا منصوبہ بنا یا اس پر یہی الزام لگایا عراق، لیبیا اور شام پر یہی الزامات لگائے گئے افغانستان اور یمن پر بھی یہی الزامات لگائے گئے ایران کو بھی ان ہی الزامات کا سامنا ہے لیکن قطر کا معاملہ ذرا مختلف ہے اس لئے تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں کے ایک موثر گروہ کاخیا ل ہے کہ یہ محض ڈرامہ بازی ہے اس ڈرامہ بازی کے ذریعے ایران اور یمن کو نرغے میں لانا مقصود ہے لیکن جعرافیہ اورآبادی کے اعتبار سے موجودہ حالات میں قطر کی صورت حال عراق، افغانستان ،لیبیا اور یمن سے یک سر مختلف ہے قطر 23لاکھ آبادی کا چھوٹا سا جزیرہ ہے 1990 ؁ ء میں امریکہ نے سعودی عرب ،کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح اس پر قبضہ کیا دوحہ قطر کا دارالخلافہ ہے دوحہ کی بندرگاہ پر امریکہ کا بحری بیڑا گذشتہ 27سالوں سے لنگر انداز ہے افغانستان اور پاکستان پر فضائی حملے بھی دوحہ کے بحری بیڑ ے سے کئے جاتے ہیں دوحہ کے امریکی اڈے کو سنٹرل کمانڈیعنی سینٹ کام کا نام دیا گیا ہے سنٹرل کمانڈ کا کمانڈ دوحہ میں بیٹھتا ہے امریکہ کے مشہور جرنیلوں نے دوحہ سے مسلمان ممالک کے خلاف جنگوں کی قیادت کی ہے شام اور یمن کی موجودہ جنگ بھی دوحہ سے لڑی جارہی ہے اگر امریکہ ،اسرئیل اور سعودی عرب میں سے کوئی ایک ملک چاہے تو ایک گھنٹے میں قطر کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا ان حالات میں قطر نے 500ارب ڈالر ادا کرنے سے انکار کرکے اپنی موت کو دعوت تو نہیں دی ؟اپنے وطن میں خانہ جنگی کی راہ تو ہموار نہیں کی؟ قطر میں گذشتہ 4دنوں کے اندر ہزاروں مسافر اس لئے پھنس گئے کہ سعودی عرب نے قطر کی فضائی کمپنی القطر یہ کو جدہ اور مدینہ منورہ کے لئے پرواز یں چلانے سے روک دیا اور زائرین کو دوسری فضائی کمپنیوں میں ہنگامی بنیادوں پر جگہ دینے کی کو شش میں 3سے 4دن لگ گئے یہ اسرائیل نواز اوراسرائیل مخالف قوتوں کی کشمکش نظر آرہی ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے یہ دراصل ایران اور یمن کے لئے نیا جال بچھانے کی طرف پہلا قدم ہے قطر کے مسئلے پر خلیج میں عرب ریاستوں کے درمیاچپقلش کی جعلی فضا قائم کی جائیگی اگر اس نورا کشتی میں ایران ،یمن یا کسی تیسرے آزاد ملک کی طرف سے قطر کی حمایت میں آوازاُٹھی تو اُس کو اعلان جنگ تصور کرکے جنگ کا نیا محاذ کھول دیا جائے گا سعودی عرب نے حال ہی میں امریکہ سے 380ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدنے کا جو معاہدہ کیا ہے یہ اسلحہ اس جنگ میں استعمال ہو گا دونوں طرف سے مسلما ن مرینگے فاتح قرار پانے کا اعزاز امریکہ اور اسرئیل کو ملے گا گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ ریاض کاروباری اصولوں کے مطابق ’’اوگرائی ‘‘جمع کرنے کا زرین موقع تھا سعودی عرب نے 380ارب ڈالر اسلحہ کے لئے دیدیا اور 500ارب ڈالر سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پرخدما ت انجام دینے والے امریکی فوجیوں کی خدمات کے عوض بھتہ یا غنڈہ ٹیکس کی مد میں ادا کیا ،دوسری خلیجی ریاستوں نے بھی بھتہ ادا کرکے وفاداری کا اظہار کیا قطر کی مجال نہیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی وفاداری سے منہ موڑے یا سعودی عرب کے دائرہ اثر سے با ہر آکر آزاد ممالک کی صف میں شامل ہو جائے جبکہ امریکی فوجی کا سنٹرل کمانڈ دوحہ میں قائم ہے ان وجوہات کی بنا ء پر مبصر ین قطر اور سعودی عرب کے درمیان مخالفت کی موجودہ فضاکو ڈرامہ بازی قرار دے رہے ہیں

Translate »
error: Content is protected !!