Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بجلی کی پیداوار میں خود کفالت ………………..محمد شریف شکیب

June 6, 2017 at 8:41 pm

وزیراعظم میاں نواز شریف نے انیس ہزار دو سو اڑتالیس میگاواٹ بجلی پیدا کرنے پر وفاقی وزیرپانی و بجلی خواجہ آصف اور وزیر مملکت عابد شیر علی کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی ہے۔ وزیراعظم کو خوش ہوتا دیکھ کر وفاقی وزیر بھی جذباتی ہوگیا۔ کہنے لگا کہ ملک بھر میں بجلی کی جتنی ضرورت ہے۔ ہم نے اس سے زیادہ بجلی پیدا کی ہے اور بعض علاقوں سے بجلی ٹرانسفارمروں میں سے چھلک کر باہر گرنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر امیرمقام نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت چار سالوں کے اندر 9ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ امیرمقام نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ 2013میں جب مسلم لیگ کو اقتدار ملا تھا تو وراثت میں دیگر چیزوں کے علاوہ بجلی کا چھ ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال بھی ملا تھا۔ پیداوار دس ہزار آٹھ سو میگاواٹ جبکہ طلب سولہ ہزار میگاواٹ تھی۔ امیرمقام نے وفاقی وزیرپانی و بجلی کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیداوار بڑھنے کے ساتھ بجلی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے اور طلب بھی سولہ ہزار سے بڑھ کر 23ہزار میگاواٹ تک جاپہنچی ہے جس کی وجہ سے چار ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہوا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی کی تقسیم کا نظام اتنا دقیانوسی ہے کہ اگر ہم چار ہزار میگاواٹ بھی پیدا کریں تو سسٹم اپنی گنجائش سے ایک میگاواٹ بھی زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ گویا خواجہ آصف کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ بجلی زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسفارمروں سے چھلک کر گرنے لگی ہے۔ لیکن حکومتی نمائندوں نے شاید قومی مفاد کے پیش نظر یہ نہیں بتایا کہ ٹرانسفارمروں سے چھلکنے والی بجلی کس پر گر رہی ہے۔ اللہ واسطے کی بات یہ ہے کہ عام آدمی کو 2013اور2017میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ اس وقت بھی شہری علاقوں میں ہر گھنٹے بعدایک گھنٹے کے لئے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اور دیہی علاقوں میں آٹھارہ سے بیس گھنٹے بجلی بند رہتی تھی۔ آج بھی وہی صورتحال ہے۔ بلکہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا جارہا ہے اور سسٹم اوورلوڈ ہونے کی وجہ سے فیڈرز ٹرپ کرنے کا سلسلہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے ایک سینئررہنمانے وفاق کی طرف سے سسٹم میں نو ہزار میگاواٹ بجلی شامل کرنے کے دعووں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر بجلی کی طلب و رسد کے درمیان فرق ختم ہوگیا ہے تو بارہ سے اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا کیا جواز بنتا ہے۔ ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ حکومت ریکارڈ کو درست کرنے اور عام آدمی کی معلومات میں اضافے کے لئے یہ بھی وضاحت کرے کہ نو ہزار میگاواٹ کی بجلی کہاں سے پیدا کی گئی۔ڈیزل سے چلنے والے پاور ہاوسز عدم ادائیگی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ ہائیڈل ٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کرنے کا ایک منصوبہ بھی موجودہ حکومت نے شروع نہیں کیا۔بھاشا دیامر ڈیم کا گذشتہ دس سالوں میں پانچ مرتبہ افتتاح ہوچکا ہے۔ تین بار اس کا نام تبدیل کیا گیا۔ ہر بجٹ میں اس کے لئے فنڈ مختص کیا جاتا ہے مگر اس پر کام اب تک شروع ہی نہیں ہوسکا۔ گذشتہ پندرہ سالوں سے ملک بھر کے بجلی صارفین سے نیلم جہلم پراجیکٹ کے نام پر ماہوار غنڈہ ٹیکس جمع کیا جاتا ہے اب تک اربوں روپے اس مد میں واپڈا عوام کی جیبوں سے نکالے جاچکے ہیں مگر منصوبہ اب تک فائلوں سے باہر نہیں نکل سکا۔ وزیرمملکت برائے پانی و بجلی نے ترنگ میں آکر اعلان کیا ہے کہ صرف خیبر پختونخوا میں کنڈے لگاکر بجلی چوری کی جاتی ہے اور لوگ بل بھی نہیں دیتے۔ ایسے علاقوں میں بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا بجلی چوری کرنے والے حکومت سے زیادہ طاقت ور ہیں ۔ اگر حکومت کو معلوم ہے کہ مخصوص علاقوں میں بجلی چوری کی جاتی ہے اور لوگ بل نہیں دیتے۔کیا وہ اتنے لاڈلے ہیں کہ حکومت ان کی بجلی بند نہیں کرنا چاہتی۔ کمپنی اپنا نقصان پورا کرتی ہے۔ اور ان صارفین پر سارا بوجھ ڈالا جاتا ہے جو ہر مہینے گھنٹوں قطار میں لگ کر اپنا بل جمع کراتے ہیں۔ بجلی کے معاملے پرمرکز اور صوبے کے درمیان جھگڑے میں صارفین سے بھی زیادہ پیسکو کے افسر اعلیٰ برائے تعلقات عامہ کشمکش میں مبتلا ہیں۔یہ شریف النفس انسان اکثر اس مخمصے میں مبتلا رہتے ہیں کہ وفاقی وزراء کی بھڑکوں کی تائید کریں ۔صوبائی حکومت کے ترجمان کا موقف درست قرار دیں یا صارفین کو حقائق بتائیں۔اس لئے وہ اکثر کنی کترانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!