Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال شہر ، مضافات ، ایون اور دروش میں گندم کی کٹائی شروع، گرمی کی شدت میں اضافہ ،بجلی ندار د، روزہ دار بلبلا اُٹھے۔

June 5, 2017 at 2:55 am

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال شہر مضافات ، ایون ، دروش و ملحقہ علاقوں میں گندم کی کٹائی شروع ہوتے ہی گرمی کی شدت میں کافی حد تک اضافہ ہوگیاہے ۔جسکی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے چترال کے بہاؤ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو گھروں کے اندر بھی سکون میسر نہیں ہے۔نیشنل گرڈ سے آنے والی بجلی کی آنکھ مچولی اور انتہائی کم وولٹیج کی وجہ سے فریچ یا فریزر کا چلنا تو درکنا رپنکھے بھی حرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ ٹھنڈے پانی یا مشروبات کیلئے لوگوں کادارومدار اب صرف اور صرف قدرتی برف پر ہی رہ گیا ہے۔ جس کی حصول کیلئے روزہ دار سہ پہر سے ہی چیو پل ، بائی پاس روڈ ، اتالیق پل و دیگر مقاما ت پر ڈھیرہ ڈالتے ہیں۔ادھر ایس آر ایس پی کے تعمیر کردہ گولین دو میگاواٹ بجلی گھر کا نقص دور کرکے بجلی جوٹی لشٹ گرڈ تک پہنچا دی گئی ہے۔ زرائع کے مطابق جغور ، جنگ بازار وغیرہ تک کے دیہات کو بجلی دی جارہی ہے۔ مگر واپڈ اہلکاروں کی نااہلی کی وجہ سے چترال ٹاون کے باقی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔ زرائع کے مطابق رمضان کے دنوں بار بار لنک لگانا اور اُتارنا واپڈا اہلکاروں کیلئے دقت اور کوفت کا باعث بنتے ہیں۔ لہذا وہ صارفین کو نیشنل گرڈ کے بجلی کی روحم و کرم پر چھوڑکر خود کو بری الزمہ قرار دے رہے ہیں۔


دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی سیکریٹری اطلاعات قاضی فیصل احمد نے الزام لگایا ہے کہ پاور کمیٹی کے صدر حیات اللہ خان اور ضلعی ناظم کے گاؤں کو گولین سے بجلی دی گئی ہے۔ جبکہ دوسرے علاقے ابھی تک محروم ہیں۔ ایک پریس ریلیز میں انھوں نے کہا ہے کہ پچھلے تین دنوں سے ضلع ناظم اور خان حیات اللہ خان کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے جبکہ کہ دوسری طرف ہون فیض آباد شیاقوٹیک ،دنین اور ٹاون کئی دوسرے علاقے بجلی سے محروم ہیں۔راغ،کجو،چمرکن اور اورغوچ تک کو بجلی دی جارہی ہے مگر جسکو شیڈول کے مطابق بجلی ملنی چاہیے تھی اُن کو ابھی تک نہیں ملی۔ لہذا فوری طور پر شیڈول پر عملدرآمد کرایا جائے ۔ بصورت دیگر حالات خراب ہونے کی صورت میں ضلعی حکومت اورمذکورہ نمائندگان ذمہ دار ہونگے۔

 

Translate »
error: Content is protected !!