Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لغو اشتہار اور ڈرامہ بازیاں………………. محمد شریف شکیب

June 5, 2017 at 3:01 am

کاروبار میں اشتہاربازی کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اور کامیابی کامطلب ہرگز شئے کا اعلیٰ معیار یاصارفین میں اس کی مقبولیت نہیں بلکہ کامیابی کا معیار مال کے فروخت کی مقدار اور نوٹوں کی تعداد سے ناپاجاتا ہے۔ضروری نہیں کہ اشتہار بازی سے ہر پراڈکٹ ہاتھوں ہاتھ بکنے لگے۔ شہر کی دیواروں اور ٹی وی سکرین پر جو اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔ ننانوے فیصد اشتہاروں میں خواتین کو شو پیس کے طور پر پیش کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ خواتین کے بغیر تصویر کائنات کے تمام رنگ پھیکے ہیں۔نظیر اکبر آلہ آبادی نے ماوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو دنیا کی زینت قرار دیا تھا ان کو یقین تھا کہ خواتین کے بغیر چمن بھی ویرانہ ہے۔ علامہ اقبال نے چار قدم آگے بڑھ کر کہا تھا کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔کچھ سادہ لوح اشتہاری کمپنیوں نے اقبال کے اس شعر کا غلط مطلب اخذ کیا۔اور اپنے ہر اشتہار میں خواتین کی شمولیت کو لازمی گردانا۔ شیونگ مشین کے اشتہار میں خاتون کو حسرت بھری نگاہوں سے اپنے ممکنہ شوہر پر ٹکٹکی باندھے دکھایاگیا ہے۔ بھلا داڑھی منڈوانے کی مشین کے اشتہار میں خاتون کو انٹری دینے کی کیا تک بنتی ہے۔ کپڑے دھونے والے ایک درجن سے زیادہ اقسام کے ڈٹرجنٹ کے اشتہاروں کو دیکھنے کے بعد خریدار کنفیوز ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کونسا ڈٹرجنٹ خریدے۔ تنگ آکر وہ بازار میں کھلا بکنے والا سرف ہی خریدنے کو ترجیح دیتاہے۔ اب لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے زیادہ تر اشتہارات محض ڈرامہ بازی ہیں۔ مثال کے طور پر فٹ بال کے عالمی مقابلوں میں کھبی اکٹوپس اور کبھی مگر مچھ کو کسی ٹیم کی کامیابی کی پیش گوئی کرتا دکھایا جاتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی میچ ہوتا ہے۔ ٹی وی والے پیش گوئی کی ڈرامہ بازیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک چینل پر چلنے والے اشتہار میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک شیر پنجرے میں بند ہے۔ پنجرے کے باہر پاکستان اور بھارت کے پرچم گھاس پر بچھائے گئے ہیں۔ پاکستانی پرچم پر گوشت اور بھارتی پرچم پرکوئی دوسری چیز رکھی گئی ہے۔ پنجرے کا دروازہ کھلنے پر شیر سیدھا پاکستانی پرچم پر رکھے گوشت کی طرف آتا ہے جو فطری امر ہے۔اسی قسم کی ڈرامہ بازیاں تمام چینلز پر جاری رہیں۔ کسی نے طوطے سے زبردستی پاکستان کے نام پر فال نکلوایا۔ کسی نے ہاتھی کو فال نکالتے دکھایا۔ایسا ہی ایک واہیات قسم کا اشتہار موبائل بیٹری کا ہر چینل پر دکھایا جاتا ہے۔ جس میں انتہائی قابل اعتراض ذومعنی الفاظ بولے جاتے ہیں۔ ایک لڑکی ڈیٹ کی جگہ پہنچ کر لڑکے کو فون کرتی ہے مگر بات کرنے سے پہلے لڑکے کے موبائل کی بیٹری ختم ہوتی ہے۔ وہ جھنجھلاتا ہوتا باہر نکلتا ہے اور ایک بچے کی سائیکل چراکر لڑکی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ ایک اشتہار میں میاں ویٹ مشین پر کھڑے ہوکر خوشی کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا وزن 65کلو تک آگیا ہے۔ لیکن بیگم کہتی ہے کہ 65نہیں پورے 100۔بعد میں بیوی بتاتی ہے کہ وہ شوہر کے وزن کی نہیں بلکہ سرف کی قیمت میں سو روپے بچت کی بات کر رہی تھی۔ نقلی دودھ کے اشتہاروں میں بہو کو سلیقہ مند دکھانے کے لئے اسے چائے بناتے اورکبھی پورے خاندان کو نقلی دودھ کی چائے پی کر خوشی میں ناچتے دکھایا جاتا ہے۔ٹی وی چینلز پر انعام گھر قسم کے پروگراموں کی آج کل بڑی دھوم ہے۔ جہاں جہاز سے لے کر موٹر کار، موٹر سائیکل، سونااور سینکڑوں اقسام کے تحائف اور انعامات دیئے جاتے ہیں۔ یہ انعامات ایسے تقسیم کئے جاتے ہیں جیسے وہ مفت کایا چوری
کا مال ہو۔ خبروں کے نام پر ناظرین کو جو کچھ دکھایا جاتا ہے۔ اور پھر ان پر جو تبصرے شروع کئے جاتے ہیں۔ اس رجحان نے سنجیدہ ناظرین کو خبروں اور حالات حاضرہ سے متنفر کردیا ہے اور لوگ خصوصا خواتین کھانا پکانے کے پروگرام یا ترکی کے ڈرامے دیکھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کے باوجود اشتہاری کمپنیوں اور ٹی وی چینلز بضد ہیں کہ وہ یہ سب کچھ عوام کے پر زور اصرار پر کر رہے ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ویورشپ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اور ان کا فلاں فلاں پروگرام نمبرون بن گیا ہے۔سب سے مضحکہ خیز صورتحال اس وقت بنتی ہے جب کسی واقعے کی فوٹیج پچیس تیس چینلز ایک ہی زاویے سے ایک ہی وقت میں دکھا رہے ہوتے ہیں اور تمام سکرینز پر ایکس کلوسیو والی پٹی بھی چل رہی ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ فوٹیج ان کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ اسے مضحکہ خیزی کہیں، حماقت کہیں یا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش۔ فیصلہ قارئین و ناظرین خود کریں۔

Translate »
error: Content is protected !!