Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر اعلیٰ چترال کے گرفتار بیس نوجوانوں کی فوری رہائی کا حکم دیں۔۔مولانا چترالی

June 3, 2017 at 7:43 pm

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما ، سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے پشاور پریس کلب میں پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہالیان چترال دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر بھی اہل چترال کے نوجوان اور فورسز ہیں۔ آج کل خیبر پختونخوا میں عمومی طور پر امن کی فضا ہے لیکن پھر بھی مہینے میں چترال سے پاکستان فورسز میں دیوٹی انجام دینے والے کسی سپوت کی لاش پاکستانی پرچم میں لپٹی ہو ئی چترال پہنچ ہی جاتی ہے ۔ چترال کے اکثر دیہات میں چبوترہ نما گنبد اس کی گواہی دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور ڈی پی او چترال ایک منصوبہ کے تحت ملعون رشید کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ہمارے لئے نا قابل قبول ہے۔ اسیران ختم نبو ت ﷺ 21 اپریل 2017 ؁ء سے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے اشاروں پر یکطرفہ کاروائی کی وجہ سے جیل میں رمضان المبارک کے دوران ناکردہ جرم کی سزا بھگت رہے ہیں ۔کسی بھی پولیس کانسٹیبل کو کوئی چوٹ بلکہ خراش تک نہیں آئی ۔پولیس نے خود ہی ہوائی فائرنگ کر کے اسیران ختم نبوتﷺ کے کھاتے میں ڈال کر دفعہ 6.7ATA اور اقدام قتل کی دفعہ 324 کے ساتھ دیگر درجنوں دفعات لگا ئیں۔ چونکہ اس صوبہ کے چیف ایگزیکٹو پرویز خٹک ہیں اور یہ تمام کاروائی ان کے حکم اور مرضی سے ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری املاک پر پتھراؤ کرنا اتنا بڑا جرم ہے تو پھر وزیر اعلیٰ پر بھی 7ATA اور دفعہ 324 لگنی چاہئے۔ جنہوں نے اپنے کارکنان کو اکسا کر واپڈا کے گرڈ سٹیشنوں پر دھاوا بول کر اور پتھراؤ کے ذریعے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ایک صوبہ میں دو قسم کے قوانین ظلم کی نشانی ہو سکتی ہیں تبدیلی کی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ صاحب سن لیں اگر اسیران ختم نبوت ﷺ چترال پر لگائی گئی اقدام قتل کی دفعہ 324 فوری طور پر نہ ہٹا ئی گئی تو یہ موجودہ صوبائی حکو مت کے لئے موت اور خاتمہ کا سبب بنے گی اور عنقریب پورے چترال میں ایک بھر پور تحریک تحریک عصمت ختم نبوت چترال سے چلے گی۔پورے ضلع چترال کی ہر جامع مسجد اور عید گاہوں سے تحریک عصمت ختم نبوتﷺ کے تحفظ کیلئے آواز اٹھے گی۔ مسلمانان چترال کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ۔چترال میں رہنے والے سنی و اسماعیلی کمیونٹی مشترکہ طور پر تحریک عصمت ختم نبوتﷺ چترال کو کامیاب بنائینگے اور اسیران ختم نبوتﷺ چترال کی رہائی اور ملعون رشید کی پھانسی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔اس سے قبل صوبائی وزیر اعلیٰ اپنی ایگزیکٹو پاورز استعمال کر کے فوراً اسیران ختم نبو ت ﷺ کے 20 نوجوانوں کو رہا کرنے کا حکم دیں ۔اور ملعون رشید کو عبرتناک سزا دلوانے کیلئے پولیس کی کاروائی تیز کرنے کا حکم دیں ورنہ حالات کے خراب ہونے کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ڈی پی او چترال پر عائد ہو گی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے عبد الحق، مولانا خلیل احمد ، جمعیت علما ء اسلام کے جمیل احمد ، اہل سنت والجماعت کے مولانا صابر اللہ اور مولانامجیب الرحمن بھی موجود تھے۔

Translate »
error: Content is protected !!