Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اب اسے کیا سمجھا جائے۔ کاہلی یا نااہلی…………از علی فیاض

June 3, 2017 at 3:12 am

گزشتہ 3 برسوں کی طرح اس دفعہ بھی مالی سال برائے 2016-17 میں خیبر پختوخوا کے لئے مختص بجٹ کو پی ٹی آئی کی سرکردہ مخلوط صوبائی حکومت  پوری خرچ نہیں کرپائی اور مختص رقم لیپس ہوکر مرکز کو واپس جمع کرادی گئی۔ جن سیکٹرز میں پاکستان تحریک انصاف نے انقلابی تبدیلیوں کا وعدہ کرکے اس صوبے کے عوام سے ووٹ لیا اور حکومت بنائی، انہی سکیٹرز میں بھی مختص رقم خرچ نہ کرکے ان کے معیار پر سمجھوتا کیا گیا۔ باقی سیکٹرز کا تو وہ حال ہے کہ اس پہلے کبھی نہ تھا۔ آئیے تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ کس کس مد میں کتنی رقم مختص کی گئی تھی، کتنی جاری کردی گئی اور کتنی خرچ کی گئی۔مالی سال برائے 2016-17کےلئے  106.4بلین روپے کا اے ڈی پی بجٹ مختص کیا گیاتھا۔ جس میں پی ٹی آئی کی نمائندہ حکومت صرف 46 فیصد  زیراستعمال لاسکی۔ کل  113.9 بلین روپے خزانے سے جاری کئے گئے لیکن ان میں سےبھی صرف 74.2 بلین خرچ ہوسکے ۔  جبکہ باقی فنڈز لیپس ہوکر وفاق کو واپس کرنے پڑے۔ آئیے سکیٹر وائز تفصیل ملاحظہ کریں۔
(1)۔  ٹرانسپورٹ سیکٹر کےلئے کےلئے 2 بلین روپے رکھے گئے۔  354 ملین ریلیز ہوئے۔ اور صرف 0.10 فیصد خرچ کئے جاسکے۔
(2)۔ لیبر کے لئے کی مد میں 125 ملین مختص کئے گئے۔محض 20 ملین ریلیز کئے گئے جس میں صرف 0.4 ملین ہی خرچ کئے گئے۔ یعنی اس سیکٹر کےلئے مختص فنڈز کا صرف0.32 ملین ٹوٹل بجٹ خرچ ہوا جبکہ باقی لیپس ہوکر مرکز کو واپس مل گیا۔
(1)۔ توانائی(Energy ) ایک ایسا سیکٹر ہے جس کے بارے میں اپنی حکومت کے پہلے سال پی ٹی آئی کے رہنما محترم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم اپنے دور حکومت میں صوبے کو بجلی کے پیداوار میں خود کفیل بناکر اضافی بجلی دوسرے صوبوں کو بیچا کریں گے۔ اب یہاں کیا حال ہے۔ آئے دیکھئے کہ شعبہ توانائی کےلئے  298.6 ملین مختص کئے گئے تھے ۔ جس میں 23.7 ملین روپے جاری کئے گئے مگر اسمیں بھی صرف 2 ملین ہی خرچ ہوسکے۔ مطلب اتنے اہم شعبہ کے بجٹ کا صرف ا فیصد خرچ بجٹ ہوسکا ۔
(3)۔اسی طرح فوڈ کی مد میں۔ 1.8 فیصد
(4) انفارمیشن کی مد میں 3 فیصد۔
(5) اوقاف مذہبی امور اور اقلیتیں کی بجٹ کا 4 فیصد۔
(6) ایگریکلچر  کی مد میں 7.5فیصد
(7) شعبہ معدنیات کی مد میں 10. 7 فیصد
(8) ملٹی سیکٹرل ڈویلپمنٹ کی مد میں  11.9 فیصد
(9)۔پاپولیشن ویلفئیر کی مد میں 13.4 فیصد۔
(10)۔ سوشل ویلفئیر کے شعبہ میں  14.8فیصد
(11)۔ کھیل، سیاحت اور آثار قدیمہ کی مد میں 15.2 فیصد کا بجٹ خرچ ہوسکا۔
(12)۔صرف ایک سیکٹر جس میں مختص شدہ بجٹ سے زائدکا بجٹ خرچ کیا گیا وہ ہے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کا۔ جس کےلئے 14 بلین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا جبکہ  اا کےلئے 20.8 بلیین جاری کئے گئے اور اسی طرح اس مد میں اپنے مختص شدہ بجٹ سے 50 فیصد زیادہ خرچ کئے گئے۔
(13)۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ایجوکیشن ایمرجنسی کا اعلان کیا اور اس شعبے کو اپنی  Top Priority  قرار دیا۔  اس شعبے کی ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کےلئے 16.9 بلین کا بجٹ مختص کیا گیا۔ 12.5بلین روپے جاری کئے گئے جس میں صرف 9 بلین روپے خرچ کئے گئے۔اسی طرح صرف 54 % بجٹ  ہی خرچ ہوسکا۔
ہائیر ایجوکیشن کےلئے 4.7 بلین روپے بجٹ مختص کیا گیا ، 3.4  بلین روپے ریلیز ہوئے۔ جس میں 1.9بلین  خرچ ہوئے لہذہ  40.3 % ہی بجٹ خرچ ہوا۔ تو یہ رہا تعلیمی ایمرجنسی کا حال
(14)۔ جنگلات۔ کے شعبہ کےلئے 2 بلین مختص کئے گئے۔ 1.5 بلین  روپے ریلیز کئے گئے ۔ جو کہ سارے خرچ کئے گئے۔ لہذہ  اس بجٹ کا  74 فیصد خرچ ہو سکا۔ یہ واحد سیکٹر جس میں کچھ حد تک زیادہ بجٹ خرچ ہوا۔
(15)۔ صحت کے شعبے میں موجودہ حکومت نے انقلابی تبدیلیوں کی نوید سنائی تھی۔ اس سال اس شعبہ کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے اس کے لئے ترقیاتی بجٹ میں  17.5 بلین روپے مختص کئے گئے تھےجبکہ صرف 4.7 بلین روپے  ریلیز کئے گئے ۔ اسی طرح صرف 27 % بجٹ صحت کا استعمال ہوا۔ جبکہ باقی لیپس ہوکر وفاق پاکستان کو واپس کیا گیا۔
(16)۔اسی طرح ، پینے کے صاف پانی اور سینیٹیشن  جو کہ دور حاضر کے سب سے بڑے مسائل ہیں کےلئے مختص بجٹ کا صرف 50 فیصد خرچ ہوسکا۔
مختصر یہ کہ کل مختص بجٹ کا 54 فیصد لیپس ہوکر وفاق پاکستان کو واپس کیا گیا۔ جو کہ اس تباہ حال صوبے کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ اب اسے کوئی کاہلی کہے یا نااہلیت کہ دئے گئے پیسے بھی ہر شعبے میں خرچ نہیں کئے گئے۔
ہم یہ مانتے ہیں کہ شوق سے دھرنے بھی کیجئے، جلسے جلوس بھی کرتے رہیں۔ چوروں سے ضرور حساب مانگیں کہ  قوم کا ایک بھی پیسہ چرانے والا قوم کا مجرم ہے اور وہ قابل سزا ہے۔ لیکن خود کے ذمے فرض کام بھی کیجئے۔ کیوں کہ اس کام کےلئے آپ کو اس صوبے کے عوام نے ووٹ دیا ہے اپنا اعتماد دیا ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!