Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے کھوار زبان کو مردم شماری فارمز میں شامل کرنے کے احکامات پرچترال میں خوشی کا اظہار

June 2, 2017 at 8:25 pm

چترال( نمائندہ چترال ٹائمز ) پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کھوار زبان کو آئندہ کے مردم شماری فارمز میں شامل کرنے کے احکامات پر چترال کے مختلف مکاتب فکر نے خوشی کا اظہار کیاہے۔ اپنے اخباری میں انھوں نے بریسٹروقار علی اور ایڈوکیٹ عامر علی کے ساتھ درخواست گزار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی اور شاہد علی خان یفتالی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کردار شاندار الفاظ میں سراہا ہے ۔کہ جنھوں نے ایک اہم مسئلے کو پشاور ہائی کورٹ میں رٹ کرکے کہوار بولنے والے تقریبا پندرہ لاکھ آبادی کی نمائندگی کی ہے۔ یادرہے کہ گزشتہ دن پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیٰ افریدی اور جسٹس محمد اعجاز انور پر مشتمل ڈویژن بینج نے محکمہ شماریات کی جانب سے چترال سمیت مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبان کھوار کو کو آئندہ کے مردم شماری فارمز میں شامل کرنے کی یقین دہانی پر رٹ پٹیشن نمٹادی ۔ فاضل عدالت کو بیرسٹر وقارعلی اور عامر علی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے درخواست گزار شاہد علی خان یفتالی اور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی جانب سے دائر رٹ میں بتایا کہ چترال ، گلگت بلتستان ، سوات ودیگر علاوں میں بولی جانے والی زبان کھوار بولنے والے افراد کی تعداد کا تعین کیلئے مردم شمادی کے فارم میں خانہ شامل نہیں کیا گیاحالانکہ اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ مگر اس کے باوجود مردم شماری فارم میں اس زبان کا خانہ شامل نہ کرنا بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی اٹارنی جنرل اصغر کنڈی نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ شماریات نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ چونکہ اب موجودہ مردم شماری مکمل ہوچکی ہے ۔ اور آئندہ مردم شماری کے فارمز میں اس زبان کا خانہ شامل کرلیا جائیگا۔ جس پر فاضل عدالت نے محکمہ شماریات کی جانب سے چترال سمیت مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبان کھوار کو آئندہ مردم شماری فارمز میں شامل کرنے کی یقین دہانی پر رٹ پٹیشن نمٹادی ۔

Translate »
error: Content is protected !!