Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سڑک کنارے افطار دسترخوان……… محمد شریف شکیب

June 2, 2017 at 3:36 am

پشاور کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا نے افطار دستر خوان پروگرام کا آغاز کردیا ہے ۔ پروگرام کے تحت یونیورسٹی روڈسے متصل گرین بیلٹ پر مختلف مقامات پرافطاری کے وقت دسترخوان بچھائے جاتے ہیں۔ جہاں روزانہ تین سو افراد کو روزہ افطار کروایا جاتا ہے۔ افطار کرنے والوں میں مغرب کی اذان کے وقت وہاں سے گذرنے والے مسافر، سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ آنے والے وہ تیماردار بھی شامل ہیں جو ہوٹل میں روزہ افطار کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ طلبا اپنے روزمرہ کے جیب خرچ سے چندہ کرکے خود افطاری کا سامان خریدتے اور روزہ داروں کو افطاری کرواتے ہیں۔اس سے قبل یونیورسٹی کے طلبا نے دیوار مہربانی کے نام سے سڑک کنارے ایک جگہ مختص کی تھی جہاں وہ روزمرہ ضرورت کی مختلف اشیاء لاکر رکھتے ہیں جن میں کپڑے، کتابین، کاپیاں، تیار کھانوں کے پیکٹس اور دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔ ضرورت مند وہاں آتے ہیں اور اپنی ضرورت کی چیز اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ انسانی خدمت کا یہ جذبہ بلاشبہ قابل تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔خصوصا ماہ صیام میں محتاجوں، لاچاروں، ناداروں، یتیموں، بیواوں ، معذوروں اور مصائب و مشکلات میں گھرے لوگوں کی بے لوث خدمت بہترین عبادت ہے۔ یہی مسلم معاشرے کا طرہ امتیاز بھی ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے سورہ بقرہ کی آیت کریمہ کا منظوم ترجمہ کرتے ہوئے خدمت خلق کی اہمیت کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ’’ یہ پہلا سبق ہے کتاب ہدیٰ کا۔۔ کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا۔۔ وہی دوست ہے خالق دوسرا کا۔۔ خلائق سے رشتہ ہو جس کا ولا کا۔۔ یہی ہے عبادت ، یہی دین و ایماں۔۔ کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان‘‘۔کمزوروں کی مدد، غریبوں کی خبرگیری، مظلوموں کی داد رسی اور مخلوق خدا سے حسن سلوک مسلمان کے لئے اخلاقی تقاضا ہی نہیں، دینی فریضہ بھی ہے۔ دین اسلام نہ صرف انسانوں کی خیال داری کا درس دیتا ہے بلکہ جانوروں، چرندپرند ، پھول پودوں کی حفاظت اور قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیتا ہے۔ گذشتہ روز پشاور میں ہونے والی سیرت کانفرنس سے خطاب میں معروف دانشور اور مقرر کریم امان نے کائنات کے نظام کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انسان اور اللہ کا تعلق عابد و معبود اور خالق و مخلوق کا ہے ۔ایک تعلق انسان کا دوسرے انسان سے ہے یعنی مخلوق کا آپس میں تعلق انسانی معاشرے کا اہم جزو ہے اور تیسرا تعلق انسان اور کائنات کا تعلق ہے۔ قدرت نے جو نعمتیں عطا کیں ان کا صحیح استعمال ،قدرت کے پیدا کئے ہوئے ماحول کا تحفظ بھی اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے انسان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہمارے شہر میں بہت سے مخیر لوگ سڑکوں پر مسافروں اور غریبوں کے لئے افطاری کا بندوبست کرتے ہیں۔ غریب خاندانوں میں اشیائے ضروریہ تقسیم کرتے ہیں۔انہیں عیدیاں دیتے ہیں تاکہ غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کیا جاسکے۔ تاہم یونیورسٹیوں کے طلبا کا جذبہ خیر سگالی اور انسان دوستی قابل تقلید ہے۔ وہ اپنے اخراجات کم کرکے بچ جانے والی رقم ناداروں اور غریبوں کی مدد کے کام پر خرچ کرتے ہیں۔ دنیا کا نظام شاید ایسے ہی درد دل رکھنے والے لوگوں کی بدولت چل رہا ہے۔ جو ایک ہاتھ سے دیتے ہیں تو دوسرے ہاتھ کو خبرتک نہیں ہوتی۔ وہ کسی لالچ یا صلے کی طمع کئے بغیر غریبوں کی بے لوث اور بے غرض مدد کرتے ہیں۔معاشرے کا یہ مخیر طبقہ ان لوگوں کے لئے قابل تقلید ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی مال و دولت سے نہایت فیاضی سے نوازا ہے۔ لیکن وہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے نہ اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ کے بندوں کے کام آتے ہیں۔سورہ لہب میں شاید ایسے ہی لوگوں کے لئے وعید آئی ہے۔طلبا کی طرف سے افطار دسترخوان لگانا اس امر کی دلیل ہے کہ ہماری نوجوان اور تعلیم یافتہ نسل اپنے عقائد اور تعلیمات کے مطابق درست سمت میں جارہی ہے اور اس قوم کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!