Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مسجد اور معاشرتی اصلاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد نومل یونیورسٹی اسلام آباد

May 31, 2017 at 8:29 pm

دینِ اسلام میں مسجد صرف ایک علامتی یا عبادتی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ یہ مسلمانوں میں اتحادِ امت کی مرکزی علامت سمجھی جاتی ہے جہاں مسلمان دن کے مختلف اوقات میں جمع ہو کر اس اتحاد کا عملی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ اسکی اہمیت کا یوں اندازہ لگایُے کہ اسلام کی اولیں ریاست تشکیل پانے پر مسجد کو مرکزی فوقیت حاصل رہی جہاں بیٹھ کر حضورﷺ نے پہلا کام یہ کیا کہ انسانیت اور بھا یُ چارے کے اصولوں کے موافق فلاحی ریاست کی داغ بیل ڈالی اور پھر یہ آگے چل کر قانونی،تعلیمی،اصلاحی،اورسوشل انسٹیٹیوٹ کا مرکز قرار پایُ۔
اگرچہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ امت میں فروعی مسا یُل کی بنیاد پر پھوٹ،انتشار،اور تفرقہ بازی پنپنے لگی اور اسلامی ریاستوں نے دین کی سرپرستی سے نظریں چرا لیں جسکا فا یُدہ کفار اور نام نہاد اسلام پسندوں نے خوب اٹھایا۔حالت یہ ہویُ کہ ایک عام مسجد کی تعمیر میں بھی ریاست کا کردار نہ رہا اورلوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت یہ فریضہ انجام دینا پڑا۔دین کی نشرواشاعت مخصوص مخیر حضرات کے مرہونِ منت ٹھہری۔ہمارے درسی نظام میں دینی تعلیم آٹے میں نمک برابر رہی جسکا خمیازہ اب یوں بھگتنا پڑا ہے کہ اختلافات نے اتحاد کی جڑوں کو کھوکھلا کر ڈالا ہے اور غدارِاسلام موقعِ غنیمت جان کر نوجوان نسل کو اسلام کی غلط تشریحات فرما کرتشدد پر اکسانے میں محوِ سرگرداں ہیں۔تو ایسے میں مساجد ہی دینی، اخلاقی،اور اصلاحی تربیت گاہ نظر آتی ہیں اور یہاں بھی موقع ملنے پر تفرقہ باز شورش بپا کرنے سے گریزاں نہیں رہتے۔مسجد اور مسجد والوں کا کردار ہمارے معاشرے میں نہایُت گہرا ہے اگر ہم انہیں صرفِ نظرکریں گے تو معاشرے میں مزید انارکی اوربگاڈ پیدا ہو گا۔یہ ایک مسجد کے مر ہونِ منت ھے کہ مسلمان کم از کم سال میں ایک مہینے میں کسی واضح حد تک اجتماعیت کا ثبوت تو دیتے ہیں۔ یہ ایک ساتھ بھوکے رہتے ہیں،ایک ساتھ کھاتے ہیں، اکٹھے بانٹتے ہیں اور اکٹھے راتوں کو گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔مسجد کے بغیرمسلمانوں میں رواداری اور اجتماعیت کا کویُ تصور نہیں۔کوتاہیاں اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ حکمران اور معاشرے کے اجتماعی تعاون کے بناقابل علما اور محدثین کی جامع پود کی افزا یُش کیونکر ممکن ہو گی۔اگر ہم توجہ دیں تو یہی لوگ مساجد کے سماجی درس گاہ کے کردار کو نمایاں اور مرباط انداز میں پیش کرنے کی کامل اہلیت رکھتے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ھے کہ وہ بچہ دینی تعلیم کیلیے وقف کیا جاتا ہے جو ذ ہنی طور پر دوسروں سے کمزور ہو اور پڑھنے کے بعد معاشی طور پر مخصوص منتظمین کے رحم وکرم پہ ہو۔تاہم اگر ہم توجہ دیں تو یہ مساجد ماضی کی طرح سوشل انسٹیٹیوٹ کاجامع مرکز بن سکتی ہیں۔رمضان اور مسجد کا کمبی نیشن مسلمانوں کے عملی کردار سے اس بات کو تقویت دیتا ھے کہ مسجد یکجہتی کی علامت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اپنی استطاعت کے مطابق مسجد بناتا ہے میں اسے اپنی استطاعت کے مطابق اجر عطا کرتا ہوں۔ہمیں چاہیے کہ ہم رمضان میں معاشرے کے پس ماندہ طبقے کیساتھ ساتھ مسجد اور مسجد والوں کی بھی مالی مدد کریں تاکہ یہ معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!