Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بالائی چترال کے سیلاب متاثرین دو سال سے بحالی کے منتظر، لانگ مارچ پر مجبور نہ کیا جائے۔ عمائدین کوشٹ

May 31, 2017 at 6:48 pm

چترال( چترال ٹائمز رپورٹ ) 2015کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے بالائی چترال کے متاثرین اب تک بحالی کے منتظر ہیں۔ دو سال گذرنے کے باوجود تحصیل موڑکہو کو ضلع کے دیگر حصوں سے ملانے والا کوشٹ پل اور بمباغ نہر کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکی۔ کوشٹ کے عمائدین نذر علی، وزیر خان، غلام علی، محمد جلال، غلام مرسلین اور محمد سرور نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ کوشٹ پل کو عارضی طور پر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بحال کیا تھا۔ اسی پل کو جیپ کے ذریعے عبور کرتے ہوئے تین افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ ٹھیکیدار نے وقتی طور پر آمد و رفت کے لئے پل تو بنالیا ہے تاہم وہ کسی بھی وقت دریا برد ہوسکتا ہے۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ سینکڑوں کی آبادی کا علاقہ بمباغ دو سال سے پانی کی بندش کے باعث تباہ ہوچکا ہے۔ فصلیں اور پھلدار باغات سوکھ چکے ہیں لیکن بمباغ نہر کی تعمیر اب تک مکمل نہ ہوسکی۔ عمائدین نے کہا کہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ضلع ناظم اور سیاسی جماعتوں کے قائدین متاثرین کو دو سالوں سے لولی پاپ دے کر بہلا رہے ہیں۔ موژگول کے سیلاب متاثرین دو سالوں سے قاق لشٹ میں مقیم ہیں ان کی مستقل آباد کاری کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور چترال کی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ کوشٹ پل کی فوری تعمیر اور متاثرین مژگول کی بحالی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدمات کئے جائیں بصورت دیگر متاثرین خواتین اور بچوں کے ہمراہ چترال تک لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

Translate »
error: Content is protected !!