Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اے ڈی پی ضائع ہونے کی روایت………….. محمد شریف شکیب

May 31, 2017 at 8:37 pm

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنا پانچواں بجٹ پیش کرنے جارہی ہے۔ صوبائی کابینہ کے مشاورتی اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دیدی گئی۔ جن میں دس نئے پوسٹ گریجویٹ کالجوں سمیت محکمہ تعلیم کے اٹھاون، زراعت کے تیس، جنگلا ت کے چھتیس، توانائی وبجلی کے چھپن،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انیس اور معدنیات کے سولہ منصوبے شامل ہیں۔ دوسری جانب رواں مالی سال کے گیارہ مہینے گذرنے کے باوجود سالانہ ترقیاتی فنڈ کا صرف 65فیصد ہی خرچ ہوسکا۔ چھ محکمے اپنے اے ڈی پی کا دس فیصد بھی گیارہ مہینوں میں خرچ نہیں کرسکے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے ایک کھرب پچیس ارب روپے مختص کئے تھے۔ مالی سال ختم ہونے والا ہے اور اے ڈی پی کا 35فیصد ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اوقاف، توانائی، خوراک، اطلاعات، محنت اور ٹرانسپورٹ کے محکمے اپنے سالانہ ترقیاتی فنڈز کا دس فیصد بھی خرچ نہیں کرسکے ہیں۔ محکمہ صحت دس ارب پنسٹھ کروڑ کے اے ڈی پی میں سے صرف پچاس فیصد ہی خرچ کرسکا ہے۔ جبکہ محکمہ تعلیم بارہ ارب پنتالیس کروڑ کے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 70فیصد خرچ کرنے میں کامیاب رہا۔ صوبے کے زیر انتظام 34محکموں میں سے صرف آٹھ محکمے اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا پچاس فیصد خرچ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ صرف مقامی حکومتوں اور شاہرات کے منصوبوں کے لئے مختص رقم میں سے محکمہ خزانہ نے جو رقم جاری کی وہ تمام رقم خرچ کی جاسکی۔محکمہ بلدیات کو اے ڈی پی کی مد میں ساڑھے سات ارب روپے کی چوتھی قسط تاحال جاری نہیں ہوسکی۔ جون کے آخر تک یہ فنڈز نہیں ملے تو وہ بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں مختلف صوبائی محکموں کے لئے جو فنڈ مختص کیا گیا تھا۔ محکمہ خزانہ کی طرف سے کسی محکمے کو پورے فنڈز جاری نہیں ہوسکے۔ جس کی وجہ صوبے کو درپیش مالی بحران ہے۔ اس لئے صوبائی حکومت اور محکموں کو اے ڈی پی کا بیشتر حصہ ضائع کرنے کا مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔کیونکہ صوبے کی آمدن کا زیادہ تر حصہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت ملنے والے صوبے کے حصے، بجلی کے خالص منافع، گذشتہ بقایاجات اور قابل تقسیم وفاقی محاصل کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ صوبے اور وفاق میں برسراقتدار پارٹیوں کے درمیان محاذ آرائی کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو اس کے حصے کا بیشتر فنڈ نہ مل سکا۔ تاکہ مسلم لیگ کو تبدیلی کے نعرے کا مذاق اڑانے کا موقع مل سکے۔ تاہم ساراملبہ وفاق پر ڈال کر صوبائی حکومت بھی خود کو ہر گناہ سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ صوبائی حکومت بھی اپنے وسائل بڑھانے خصوصا قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔ اگر معدنیات، توانائی کے منصوبوں اور سیاحت پر پوری توجہ مرکوز رکھی جاتی۔ تو آج صوبے کی معاشی صورتحال مختلف ہوتی۔ چار سال کی مدت ایک قابل عمل منصوبہ بنانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ صرف پانی سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر ہی توجہ دی جاتی ۔جن کے لئے بیرونی سرمایہ کا حصول زیادہ مشکل نہ تھا۔ تو آج صوبہ اپنے وسائل سے پانچ چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرکے واپڈا کو بیچ چکا ہوتا۔جس سے صوبے کی آمدن میں اضافے کے ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کافی مدد مل سکتی تھی۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑوں کو معدنی ذخائر سے اللہ تعالیٰ نے مالامال کردیا ہے یہاں سونا، زمرد، یاقوت، نیلم، اینٹی منی، جپسم ، شیلائٹ اور ماربل سمیت قیمتی معدنیات کی
بڑی بڑی کانیں ہیں مگر ان سے دس فیصد بھی استعفادہ نہیں کیا جاسکا۔ صوبائی حکومت آئندہ چند روز کے اندر اپنا آخری بجٹ پیش کرنے جارہی ہے۔ جس پر تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا کافی انحصار ہوگا۔ گذشتہ چار سالوں سے سالانہ ترقیاتی فنڈز کا نصف سے زیادہ حصہ ضائع ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے ترقی کی رفتار انتہائی سست رہی۔ اب کی بار خلائی منصوبوں اور آمدنی کے نامعلوم ذرائع پر انحصار سے ہرممکن گریز کی پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔ اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عام آدمی کو بھی تبدیلی نظر آجائے۔ اور اس تبدیلی کو جواز بناکر پی ٹی آئی کے امیدوار دوبارہ عوام کے پاس جاسکیں۔

Translate »
error: Content is protected !!