Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا فرمان شاہی محمد شریف شکیب

May 30, 2017 at 8:55 pm

وزیراعظم میاں نواز شریف نے رمضان المبارک کے دوران بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ فوری طور پر کم کیا جائے اور سحر و افطار کے اوقات میں ملک کے کسی بھی حصے میں لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔ ہمارے وزیراعظم کو شاید بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں کچھ حکومت مخالف عناصر گھس کر بیٹھ گئے ہیں جو شہری علاقوں میں بارہ سے چودہ اور دیہی علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے بجلی بند کرکے عوام میں حکومت کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہ وزیراعظم کو اپنے بچوں یا قابل اعتماد لوگوں کے ذریعے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ ملک میں بجلی کی ضرورت کتنی ہے اور کتنی بجلی پیدا ہوتی ہے۔ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب 19ہزار 600میگاواٹ ہے جبکہ فی الوقت پانی ، تیل، گیس ، کوئلے ، ہوا اور سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار 13ہزار میگاواٹ ہے۔ ساڑھے چھ ہزار میگاواٹ کمی کو پورا کرنے کے لئے لوڈ شیڈنگ کرنی پڑتی ہے۔ شارٹ فال کے تناسب سے شہری علاقوں میں آٹھ اور دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ بارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہونی چاہئے۔ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے۔ انہی کے محکمے کے وزیر مملکت عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی تو بہت ہے لیکن خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں لوگ بجلی چوری کرتے ہیں۔کنڈے لگا کر کارخانے چلاتے ہیں اور بل بھی نہیں دیتے جس کی وجہ سے بل باقاعدگی سے اداکرنے والے بیچارے صارفین کو بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنا پڑتا ہے۔ عابد شیر علی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حکومت اب تک ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کرچکی ہے اور اگلے سال مزید سات ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی۔ اگر وزیرمملکت کی بات پہ یقین کیا جائے تو شارٹ فال صرف ڈھائی ہزار میگاواٹ بنتی ہے اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہونی چاہئے۔ اور اگلے سال سات ہزار میگاواٹ کی اضافی پیداوار کی صورت میں پاکستان بجلی برآمد کرنے والے ملکوں میں شامل ہوجائے گا۔ فی الحال قوم کو اچھے مستقبل کی امید پر ہی گذارہ کرنا چاہئے۔ انشااللہ ہمارے چینی دوست آئیں گے ہمارے لئے پانی، کوئلے، شمسی توانائی اورہوا سے سترہ ہزار میگاواٹ بجلی بنائیں گے۔ حیران کن طور پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لوڈ شیڈنگ پر چپ سادھ رکھی ہے۔ جس کی وجہ شاید ان کی اقتدار میں آنے سے پہلے کی وہ بھڑکیں تھیں جب انہوں نے پہلے چھ مہینے ، پھر ایک سال اور بعد ازاں دو سال کے اندر ملک سے بجلی کا بحران مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کی حکومت کے چار سال مکمل ہونے کے باوجود جب لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پیپلز پارٹی کے دور سے بھی دگر گوں ہوگئی تو خادم اعلیٰ نے بھی چپ کا روزہ رکھنے میں ہی عافیت جانی۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اگر وہ دو سال کے اندر لوڈ شیڈنگ ختم نہ کرسکے تو اس کا نام بدل دیا جائے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف خادم اعلیٰ کے لئے مختلف نام تجویز کر رہی ہیں۔شاید ان میں سے کوئی ایک نام انہیں پسند آجائے۔ ماہانہ بجلی کے پورے بل ادا کرنے والے صارفین کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ جو لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے اور دیدہ دلیری سے بجلی استعمال بھی کرتے ہیں۔ کیا وہ حکومت اور ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اور جو لوگ
برسوں سے کنڈے لگاکر بجلی استعمال کرتے ہیں حکومت انہیں پکڑنے اور ان کے کنکشن کاٹنے میں کیوں ناکام رہی ہے۔ سرکاری اداروں کے ذمے بجلی کے اربوں روپے کے بقایاجات حکومت کیوں وصول نہیں کر پاتی۔یہ حقیقت بھی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے اس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے کارندوں کا پورا ہاتھ ہوتا ہے۔ اپنی جیبیں بھرنے کی خاطر قومی اداروں کو نقصان پہنچانے والے ان اہلکاروں کے خلاف کاروائی کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟۔ خدا را! عوام کو احمق نہ بنائیں۔ لوڈ شیڈنگ فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات سے بجلی کی پیداوار بڑھے گی نہ چوری کا خاتمہ ہوگا۔ ریاست اپنی رٹ منوالے۔ اورعوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے عملی اور ٹھوس اقدامات کرے۔ اگر یہ نہیں کرسکتی تو کم از کم عوام کو بے وقوف تو نہ بنائے۔

Translate »
error: Content is protected !!