Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غریب قوم کے عیاش حکمران ………….محمد شریف شکیب

May 30, 2017 at 3:14 am

یوم تکبیر کی تقریب سے خطاب میں ہمارے وزیراعظم کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے۔ کہنے لگے کہ ایٹمی دھماکہ کرکے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ اب معاشی دھماکہ کرکے پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر بنادیں گے۔ جبکہ ملکی معیشت کے حوالے سے زمینی حقائق اور اعدادوشمار کچھ اور کہانی بتا رہے ہیں۔ چند روز قبل وفاقی وزیرخزانہ نے بڑے فخریہ انداز میں 47کھرب53ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا۔قرضوں کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی شرائط کے تحت بجٹ میں تعمیراتی سامان، مشروبات، الیکٹرانک مصنوعات، ڈبہ دودھ، ڈیری مصنوعات، دہی، مکھن، پنیر اور پھلوں سمیت تقریبا ایک ہزار اشیاء پر اضافی ٹیکس لگائے گئے ہیں بجٹ کا خسارہ چارہ اعشاریہ ایک فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 120ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ جبکہ نئے ٹیکسوں اور پرانے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی شکل میں ساڑھے چار ہزار ارب روپے عوام کی جیبوں سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بورڈ آف ریونیو کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہوا75ارب74کروڑ70لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اور ان قرضوں پر سود کی مد میں ہمیں سالانہ 1466ارب روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ہماری برآمدگان کا مجموعی حجم ایک کھرب 89ارب 9کروڑ بیس لاکھ جبکہ درآمدات 5کھرب 23ارب 55کروڑ 80لاکھ سے زیادہ ہے گویا جتنا مال ہم ملک سے باہر بھیجتے ہیں اس سے پانچ گنا باہر سے منگواتے ہیں اور تجارتی خسارہ چارسوفیصد ہے۔حیرت کی بات ہے کہ جس ملک کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ملکی قرضوں پر سود ادا کرنے پر ضائع ہورہا ہو۔ اور اسے تنخواہوں تک کی ادائیگی کے لئے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہو۔ وہ معاشی دھماکہ کیسے کر سکتا ہے۔ 1947سے لے کر 2013تک پاکستان نے مجموعی طور پر 32ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ لیاتھا۔ موجودہ حکومت نے چار سالوں میں 32ارب ڈالر کا قرضہ لیا ہے۔ جب ایک ملک بیرونی قرضوں پر سالانہ تقریبا چودہ سو ارب ڈالر سود ادا کر رہا ہو۔ تو وہ عیاشیاں کرنے کا متحمل کیسے ہوسکتا ہے۔ بجٹ کے اعدادوشمار دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم ریفارمز پروگرام کے لئے ایک سال کے اندر ایک ارب گیارہ کروڑ روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں خریدی گئیں۔وزارت خارجہ میں ایک کانفرنس کرانے کا خیال آیا۔ اور غیرملکی مہمانوں کو ائرپورٹ سے لانے اور واپس لے جانے کے لئے 35لگژری گاڑیاں خریدی گئیں ہر گاڑی کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی۔ 35کروڑ کی گاڑیوں کے علاوہ محکمے کے افسروں کو بھی نئی گاڑیاں خریدنے کے لئے مزید چار کروڑ روپے دیئے گئے۔ اور وہ کانفرنس بھی منسوخ ہوگئی۔ حالیہ مردم شماری کے دوران عملے کی نقل و حمل کے لئے پانچ ارب روپے گاڑیوں کے کرایوں پر اڑا دیئے گئے۔ وی آئی پیز کی سیکورٹی کے لئے ایک ارب روپے مالیت کی پچیس نئی گاڑیاں خریدی گئیں۔ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں چار سو فیصد اضافہ کیاگیا پھر انہیں گرمی سے بچانے کے لئے آٹھ کروڑ روپے میں چلرز خریدے گئے۔ ہمارے وزیراعظم اکثر غیر ملکی دوروں پر رہتے ہیں اور ہر دورے میں پچاس سے سو افراد کا قافلہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ان کے آنے جانے، کھانے پینے، عیاشیوں اور شاپنگ پر کروڑوں کے اخراجات قومی خزانے سے ہی کئے جاتے ہیں۔ حال ہی میں وفاقی وزیرکی قیادت میں اٹھارہ رکنی وفد مراکش کے دو ہفتے کے دورے پر گیا۔ ان کے قیام و طعام پر دو کروڑ خرچ ہوئے بارہ
لاکھ کے ٹریولنگ الاونس انہیں دیئے گئے اور ان مہمانوں کو تلور کا شکار کرانے پر قومی خزانے سے پچیس کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ وزیراعظم کے ہیلتھ پروگرام کی تشہیر کے لئے میڈیا کو ایک ارب 22کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کئے گئے۔ جبکہ میڈیا کے پرانے سرکاری اشتہارات کی مد میں 95کروڑ روپے الگ سے جاری کئے گئے۔پی ٹی آئی کے اسلام آباد دھرنے کو سنبھالنے کے لئے پنجاب پولیس اور رینجرز کو 75کروڑ روپے دیئے گئے۔مغربی سرحدوں پر تعینات اہلکاروں کی استعداد بڑھانے کے نام پر 11ارب روپے، بلوچستان میں ایف سی کو اضافی بجٹ کے طور پر سوا تین ارب روپے نقد اور 60کروڑ کا ہیلی کاپٹر خرید کردیا گیا۔ پنجاب میں رینجرز کا الگ ونگ بنانے پر ایک ارب ساٹھ کروڑروپے خرچ کئے گئے۔سپیکر قومی اسمبلی چونکہ عام اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ رہنے میں شرم محسوس کر رہے تھے اس لئے ان کے لئے 10کروڑ روپے کا الگ سپیکر ہاوس بنایا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں وی آئی پی مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے اسٹیٹ گیسٹ ہاوس تعمیر کیا جارہا ہے جس کے لئے ابتدائی طور پر ایک ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔ ایسا ہی ایک گیسٹ ہاوس کراچی میں بھی قائم ہے۔ جس پر صدر مملکت کے بچوں نے قبضہ کرکے وہاں بھیڑ بکریاں پال رکھی ہیں۔صدر مملکت کی سیکورٹی کے لئے حساس نوعیت کے آلات کی خریداری پر چالیس کروڑ روپے پچھلے سال خرچ کئے گئے تھے اس سال مزید چودہ کروڑ کے آلات خریدے جارہے ہیں۔ صدر کی تنخواہ دس لاکھ سے بڑھا کر سولہ لاکھ روپے ماہوار کردی گئی ہے۔اربوں روپے کا صوابدیدی فنڈ اس کے علاوہ ہے۔ جو لوگ لائن آف کنٹرول،بھارت کے ساتھ سینکڑوں میل طویل ورکنگ باونڈری اور پاک افغان سرحد کے علاوہ سمندروں میں ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں ان کو مزید سیکورٹی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن صدر مملکت ہر سال 23مارچ کو دس منٹ کے خطاب کے لئے پریڈ گراونڈ آتے ہیں انہیں کروڑوں اربوں روپے کے سیکورٹی آلات کی کیا ضرورت ہے۔ انہیں کس سے خطرہ لاحق ہے۔ ہمارے حکمران کشکول لے کر دنیا بھر میں پھیرتے ہیں جب کہیں سے قرضہ مل جائے تو اس کا جشن منایا جاتا ہے۔ ان قرضوں پر حکمران عیاشیاں کرتے ہیں اور وہ قرضے سود سمیت ٹیکسوں کی صورت میں عوام سے وصول کئے جاتے ہیں۔ یہ غیر ملکی قرضہ اگر عوامی بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جاتا تو آج ملک اپنے پاوں پر کھڑا ہوجاتا۔ جرمنی دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ ہوگیا تھا۔ اس کی معیشت غیر ملکی قرضوں پر چلتی تھی پاکستان بھی اسے قرضہ دیتا تھا۔ آج دنیا کے اکثر ممالک جرمنی کے مقروض ہیں۔ آج ہمارے ملک کا بچہ بچہ لاکھوں کا مقروض ہے اور حکمران اپنی عیاشیاں کم کرنے پر کسی صورت تیار نہیں۔ اور پھر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اعلانات کررہے ہیں کہ ہم دنیا کی بڑی اقتصادی قوت بننے جارہے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!