Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چیئر مین بورڈ آف ٹیکنیکل  ایجوکیشن خیبر پخونخواہ  کا آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال کا دورہ

May 29, 2017 at 3:01 am

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) چیئر مین بورڈ آف ٹیکنیکل  ایجوکیشن خیبر پخونخواہ محمد قاسم مروت اپنی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ دنوں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال کا دورہ کیا ۔ آپ نے  پرنسپل  اور دیگر اسٹاف کے ساتھ مختلف تعلیمی  امور پر تبادلۂ خیال  کیا جس میں اسکو لز پالیسز کے ساتھ ساتھ تعلیم و تعلم کا انداز ،سلیبیس اور امتحانی نظام پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ساتھ ساتھ آپ نے اسکول کے مختلف حصوں کا دورہ کیا ۔انھوں نے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کے زیر انتظام چلنے والے امتحانی عمل کو دیکھا  اور اس  نظام کی خوب  تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس  شفاف امتحانی نظام کی وجہ سے مکمل  طور پر  نقل کی  روک تھام  میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔جو کہ ان کے مطابق میعاری تعلیم کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔مہمان اسکول ہذا کے تینوں لیب ،آئی سی ٹی روم، لائیبریری کا دورہ کیا اور اور مختلف سرگرمیوں میں مصروفِ عمل  طلبہ کی سرگرمیوں کو بغور دیکھا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

چیئرمین چیئر مین بورڈ آف ٹیکنیکل  ایجوکیشن   محمد قاسم مروت نے Slo کی بنیاد پر پڑھائی کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیا  اور اسکول ہذا میں طلباء کو YES اسکالر شپ،UWC وغیرہ کی تیاری اور مواقع فراہم کرنے کو خراج تحسین پیش کیا۔ مہمان کو اسکول سے فارع ہونے والے ان  ہونہار طلباء کے بارے میں بھی بتایا گیا ۔ جو آج اس اسکول سے فارع ا لتحصیل ہونے کے بعد   پاکستان اور پاکستان سے باہر مختلف  بہترین یورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں ۔

اپنی گفتگو کے دوران معزز مہمان نے پاکستان اور ہندوستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ  تقسیم ہند کے بعد ہندوستان Conceptual Learning کے تصور کو اپنایا اور پاکستان میں رٹہ کا تصور پروان چڑھتا رہا  اور آج ہمارے لیے یہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔اس  مسئلے کے حل کے لیے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کا کردار قابل تعریف ہے ۔سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔مہمان اسکول ہذا کے تینوں لیب

،آئی سی ٹی روم، لائیبریری کا دورہ کیا اور اور مختلف سرگرمیوں میں مصروفِ عمل  طلبہ کی سرگرمیوں کو بغور دیکھا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

چیئرمین چیئر مین بورڈ آف ٹیکنیکل  ایجوکیشن   محمد قاسم مروت نے Slo کی بنیاد پر پڑھائی کو جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیا  اور اسکول ہذا میں طلباء کو YES اسکالر شپ،UWC وغیرہ کی تیاری اور مواقع فراہم کرنے کو خراج تحسین پیش کیا۔ مہمان کو اسکول سے فارع ہونے والے ان  ہونہار طلباء کے بارے میں بھی بتایا گیا ۔ جو آج اس اسکول سے فارع ا لتحصیل ہونے کے بعد   پاکستان اور پاکستان سے باہر مختلف  بہترین یورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں ۔

 

اپنی گفتگو کے دوران معزز مہمان نے پاکستان اور ہندوستان کے نظام تعلیم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ  تقسیم ہند کے بعد ہندوستان Conceptual Learning کے تصور کو اپنایا اور پاکستان میں رٹہ کا تصور پروان چڑھتا رہا  اور آج ہمارے لیے یہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔اس  مسئلے کے حل کے لیے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینشن بورڈ کا کردار قابل تعریف ہے ۔

 

Translate »
error: Content is protected !!