Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذرا سوچیے۔۔۔۔۔ تحریر :ہما حیات چترال

May 26, 2017 at 9:55 pm

یوں تو انسان کی زندگی میں بے شمار تکلیفاور مسائل ہوتے ہیں۔لیکن بہادر انسان وہ ہے جو پیٹھ دکھا کر بھانگنے کے بجائے سینہ تان کر چٹان کی طرح ان مشکلات کا سامنا کرے۔اپنے مسائل کو جانچے، پرکھے اور ان پر غور و فکر کیر۔ ان کے لئے حل تلاش کرے۔لیکن ہمارے معاشرے میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
انسان جب مشکلات سے دو چار ہوتا ہے تو خود کو بے بس سمجھ کر مایوس ہو جاتا ہے۔ ان سب سے نکلنے کا اسے صرف ایک ہی راستہ دیکھائی دیتا ہے۔اور وہ ہے خود کشی۔ جوکہ احمقانہ فعل ہے۔آئے دن خودکشیوں میں اضافہ ہوتا جا رہے۔
ہمارے دین اسلام میں اسے حرام قرقر دیا گیا ہے۔لیکن پھر بھی ہمارے معاشرے میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ اس بیماری کا شکار ہیں۔
اس کی وجوہات ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، مایوسی۔ ناامیدی اور احساس کمتری ہیں۔میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ کسی بھی ترقی یافتہ ممالک کا اندازہ اس جدید ٹیکنالوجی سے لگایا جا تا ہے لیکن ہر چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی یقیناً نقصان دہ ہے۔ اس لئے ہم سب کو چائیے کہ ہم اس کا کم سے کم لیکن موثر استعمال کریں۔
ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکا، جاپان، کوریا وغیرہ میں سب سے زیادہ خودکشیاں ہوتی ہیں۔کیونکہ جب وہ ترقی کی میدان میں اتُرتے ہیں اور شکست پاتے ہیں۔تو وہ مایوس ہو جاتے ہیں اور اپنی زندگی ختم کر دیتے ہیں۔لیکن ہمارے دین میں ایسا کرنا حرام ہے ۔ہمارے لئے رسول کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو ہمیں چاہیے کہ ہم حضور کی زندگی سے اس کا حل تلاش کریں۔ہمیں سادہ، سلجھی اور پاکیزہ زندگی گزارنی چاہیے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مایوس نہ ہوں اگر وہ پہلی مرتبہ کسی کام میں ناکام ہوتے ہیں تو دوسری مرتبہ وہ ضرور کامیاب ہونگے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے تعلیمات کی روشنی میں کریں تاکہ ان کے بچے ایسے کاموں سے بچے رہیں۔اور پھر ذرا سوچیے۔۔۔۔۔
بیشک ہم سب کے لئے حضور اکرم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!