Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قرب قیامت کی نشانیاں محمد شریف شکیب

May 25, 2017 at 9:40 pm

یہ قرب قیامت کی نشانی نہیں تو اور کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے شہر ریاض میں اسلامی اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دے رہے تھے۔ امریکی صدر اس کانفرنس کے مہمان خصوصی تھے۔ یہ امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی دورہ بھی تھا۔ کانفرنس سے خطاب کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان، مصر کے صدر عبدالفتح، قطر کے امیر تمیم بن حماد، امیر بحرین حماد بن عیسیٰ الخلیفہ اور امیر کویت شیخ جابر الاحمد الصباح سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان کے ساتھ تصویریں کھینچوائیں۔ امریکی صدر نے عرب ملکوں کے سربراہوں کو امریکہ سے 380ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے پر بھی قائل کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ بہت خوبصورت ہتھیار بناتا ہے۔ اس جیسے ہتھیار دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں بناسکتا۔ عرب ممالک یہ ہتھیار خرید کر خود کو ہرقسم کی بلاوں اور آفات سے بھی محفوظ بناسکتے ہیں اور امریکی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی مدد کرسکتے ہیں۔امریکی صدر نے اسلامی دنیا کو تلقین کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ایران کو تنہا کرنے میں امریکہ کا ساتھ دیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی سے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور بھارت بہت متاثر ہوئے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف بھی اسلامی اتحاد کے غیر اعلانیہ رکن ملک کے سربراہ کی حیثیت سے کانفرنس میں شریک تھے مگر امریکی صدر نے ان سے ملاقات کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ نواز شریف خود کو پانامہ کیس سے بچانے کے لئے قطری شہزادے سے امداد لیتے رہے۔ ان سے مالی مدد کی امید رکھنا عبث ہے۔ ہمارے دفتر خارجہ نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ ’’ وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب میں اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے شاید امریکی صدر سے ملاقات کے لئے وقت نہ نکال سکیں‘‘اور وہی ہوا۔ عمران خان نے چوٹ لگائی ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے کانفرنس سے خطاب کے لئے تقریر لکھوا کر چھ گھنٹے اسے رٹنے میں ضائع کئے تھے۔ مگر انہیں کانفرنس میں بارہواں کھلاڑی بنادیا گیا۔بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمارے وزیراعظم کو پہچانا ہی نہیں ہوگا۔ ورنہ ان کے ساتھ ایک آدھ تصویر تو ضرور کھینچواتے۔ تاہم بعض دوست اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد ہمارے وزیراعظم کے تہنیتی پیغام کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا تھا کہ ’’پاکستان ایک شاندار ملک اور آپ(نواز شریف) ایک شاندار قوم کے لیڈر ہیں‘‘ ہمارے وزیراعظم ہاوس کی طرف سے امریکی صدر کے یہ الفاظ بغیر کسی ترمیم کے اخبارات کو جاری کئے گئے تھے۔ اور اخبارات نے بھی اس خبر کو جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی صدر کے ترجمان اور ان کے محکمہ خارجہ نے ٹرمپ کے کسی ایسے بیان سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔دہشت گردی کی جو لہر گذشتہ دو عشروں سے جاری ہے۔ اس سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ہمارے ہزاروں سیکورٹی اہلکار اور عام شہری جانوں سے گذر گئے اور اربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید غلطی سے دہشت گردی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں پاکستان کے بجائے بھارت کا نام لیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ نئے نئے صدر بنے ہیں شاید وہ پاکستان اور بھارت کو ایک ہی ملک سمجھتے ہوں۔ٹرمپ کا یہ کہنا بھی کچھ غلط نہیں کہ پہلے القاعدہ اور
پھر داعش کی تشکیل میں اس کا کافی سرمایہ خرچ ہوا۔ افغانستان پر فوجی یلغار کرنے کا جواز پیدا کرنے کے لئے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو اڑانے میں بھی اسے کافی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارت کو بھی اپنا جاسوسی نیٹ ورک بچھانے، بلوچستان ، مشرقی پاکستان میں انتشار پھیلانے، کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے اور اب افغانستان میں دہشت گردوں کو منظم کرنے میں کافی اخراجات اٹھانے پڑے ہیں۔ اسلامی اتحاد کانفرنس کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو اور پرویز مشرف کی یاد بہت آئی۔ ان میں سے کوئی ایک پاکستان کا سربراہ ہوتا۔ تو اسلامی دنیا کی واحد جوہری طاقت ہونے کے ناطے اپنی حیثیت عربوں اور امریکی صدر سے ضرورمنوالیتا۔اس کانفرنس کاایک فائدہ تو یہ ہوا کہ اسلامی اتحاد کے قیام کے اغراض و مقاصد سامنے آگئے۔ اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ جس کے ہاتھ میں کشکول ہو۔ اس کی دنیا میں کہیں بھی عزت نہیں ہوتی۔تھیلے میں بند جس چیز کو ہم شیر سمجھ رہے تھے۔ تھیلاکھلنے پر پتہ چلا کہ وہ تو بلی تھی۔اور اس اصطلاح کا مفہوم بھی سمجھ میں آگیا کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی۔

Translate »
error: Content is protected !!