Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے عوام گزشتہ چھ مہینوں سے بجلی کی نعمت سے محروم ، انتظامیہ اور پیسکو حکام تماشائی

May 23, 2017 at 11:00 pm

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال شہر کے باسی گزشتہ چھ مہینوں سے بجلی کی نعمت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ گزشتہ دو مہینوں سے ایک نجی کمپنی گولین گول سے جوٹی لشٹ گرڈ تک بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے بہانے چترال ٹاون کے باشندوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ جبکہ اس سے پہلے سردیوں میں لواری ٹاپ پر شدید برفباری کی وجہ سے چار مہینے چترال کے عوام غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا شکار رہے ۔ ذرائع کے مطابق ایک نجی کمپنی جس نے گولین گول ہائیڈور پاور پراجیکٹ سے ٹرانسمیشن لائن جوٹی لشٹ تک بچھارہی ہے کی ایک لیٹر پر انتظامیہ اور پیسکو حکام چترال شہر کو ملنے والی بجلی کی سپلائی کو منقطع کی ہوئی ہے۔ مذکورہ کمپنی نے شروع میں ایک مہینہ کا ٹائم لیا تھا ۔ مگر کام نہیں ہوا ، جس کے بعد 18مئی تک پھر ایک لیٹر کے زریعے بجلی بند کردی گئی ۔ مگر 18مئی کو بھی مذکورہ کمپنی کام مکمل نہ کرسکی اور دوبارہ 26مئی تک کا ٹائم لیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انتظامیہ یا پیسکو حکام مذکورہ کمپنی سے یہ پوچھنے سے بھی قاصر ہیں کہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہی بجلی بند کرنا ضروری ہے یا کہ مذکورہ کمپنی چند دن سیکنڈ ٹائم یعنی سہ پہر کے بعد بھی کام نہیں کرسکتی ؟۔ جبکہ کورین کمپنی چار شفٹوں پر کام کررہی ہے ۔ چترال کے عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے چترال کے شریف لوگوں کی شرافت سے ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ انھوں نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان سے پہلے بجلی کی ترسیل کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔ اور عوام کی برداشت کا مذید امتحان نہ لیا جائے۔ ان کا مذید کہنا ہے کہ صبح سے شام تک بجلی مکمل طور پر بند رہتی ہے جبکہ شام چھ بجے کے بعدبھی بجلی کی آنکھ مچولی سے صارفین تنگ آگئے ہیں۔ انھوں نے انتظامیہ سے نیشنل گرڈ کی بجلی کی باقاعدہ شیڈول لوڈشیڈنگ کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

Translate »
error: Content is protected !!