Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پو لو گراونڈ سے ڈٰی آئی خان تک تحریر۔ شہزادہ مبشرالملک

May 23, 2017 at 11:22 pm

* اظہار تشکر۔
2017 ء میرے لیے … قلم… سے دوری کا سال بن کے آیا …USB میں … ٹھونس.. کے اپنے دوقیانوسی خیالات ۔ نیٹ کلبوں کے دروازوں پہ دستک دنیا اور …. یارلوگوں..کے ایک دوسرے کو مختلف …. گوشہ عفیت… سے شکی نظروں سے دیکھنا میرے لیے بار گران ثابت ہوا…اس کے علاوہ ہر ادرے اور سیاسی دوستوں کے گلے شکوے الگ …. گلے کا ہار… بنے رہے … یہاں تک کے سات مہینے بیت گئے … چاہنے والوں کے فون ،SMS اور ملاقاتوں میں غیر حاضری کے نوٹسس ملتے رہے یہاں تک …. مجھے یہ کہنا پڑا….
؂ سمندر سے ملے ]پیاسے کو شبنم بخیلی ہے یہ رزاقی ہے
برادر عبدالراق نے جو دور جدید کے ہتھیاروں سے لیس ہیں … v phone لے کے گیا جو اس نے کباڑ کی نظر کی اور پانچ منٹ کی … ٹیوشن … کے بعد ایک اور USB نما الہ تھما کر…. فائر رینج … پہنچنے کا عہد لیا… اور اس عہد کے بدولت … گنہگار … حاضر خدمت ہے ۔ اللہ انہیں جزا خیر عطا کرئے اور میرے چاہنے والوں کو ڈھیرساری مسرتوں سے نوازے۔
* چترال کی آنکھیں۔
سرزمین … چترال ایک … مسائلستان… کا نام ہے … اور آج کل مختلف اندرونی اور بیرونی …وائرس… کا شکار ہوا ہے … … مگر صد شکر کہ اس کی …. آنکھیں … نہ صرف سلامت ہیں بلکہ روز بروز ….شہد کی مکھی یا مکھڑی… کی طرح ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے….پرنٹ میڈیا ، اور اب چترال ٹائمز۔ ڈیلی چترال، چترال میل ، نوائے چترال اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہیں جو ہمارے چترال اور اس کے باسیوں کے لیے … نہ صرف آنکھوں کا درجہ رکھتی ہیں بلکہ یہاں کے منفرد تہذیب و ثقافت کے لیے … اندھن مہیا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں… اور ان کے ذریعے یہاں کے مسائل …. کبھی کبھار … ترُش تلخ … انداز میں بھی مختلف لکھاری پیش کرتے ہیں
اور ذمہ داراں بجائے خوش ہونے کے ہم لکھاریوں کو … اپنے چل چلانے کی کوشیش کرتے ہیں یا ان اخبارت کے اوپر دباو ڈالنے کا …انگریزی حربہ استعمال کرتے ہیں جو مناسب نہیں حکومت کی طرف سے ان اخبارات کے ساتھ کوئی تعاون موجود نہیں انہیں…ایوارڈ ز…
خالی ہاتھ چترال کی خدمت کرنے پر نہیں دے سکتے تو….. مفت … میں …چونچ…. مارنے سے بھی گریز کرنا چاہیے یہ سب لوگ پاکستان اور اپنی دھرتی ماں سے پیار کرنے والے … غیرت مند مسلمان ہیں …. اور کہیں سے بھی یہاں کے لکھاریوں کے لیے …. وظیفے…
کے لفافے نہیں آتے….. . یہ بھی اس ملک کے اتنا ہی وفادار ہیں … جتنا ان پہ شک کی نگاہ سے دیکھنے والے … وفادار ہیں۔
* یتیم۔
اگر چترال میں مثبت طرز فکر والے … سیاست دان ہوتے … تو آج … گولین… کی بجلی …جو کے خالص چترال ٹاون کے لیے بنی تھی…. لکڑ بکڑ… کے شکار کی طرح …راہوں … میں بکھر نہ جاتا… یہاں کے ادروں کے ذمہ دار خود کو اس … منتشر … قوم کا خدمت گار تصور کر رہے ہوتے … تو ان کے آنگن کے ساتھ ساتھ …. غریب … کے گھر میں بھی 30 ویلٹیچ کی بجلی دس منٹ کے لیے … جگنو… کی طرح چمک رہی ہوتی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیاں آنکھ مچھولی ۔اور ڈنڈے اور پتھر وں کا چلنا … ہر احتجاجی مظاہرے کا حسن رہا ہے…
حالیہ مظاہرہ جو کہ ایک مقدس ایشو کے نام پر ہوا تھا اور اس میں نوجوانوں کے جذبات میں آنا فطری عمل تھا … اگر چہ اس میں پولیس اور سیکورٹی ادراروں کا کردار قابل ستائش ہے کہ … چترال کی پرامن فضا کو … برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیے۔ ان کے ساتھ ساتھ یہاں کے علماء کرام بھی برابر خراج تحسین کے مستحق ہیں ….لیکن اگر ہم سیاسی طور پر …. یتیم … نہ ہوتے تو آج ہمارے یہ نوجوان … قانون … کو اپنے ہاتھوں نہ لیتے اور نہ چترال سے سوات ڈی آئی خاں کے تکلیف دہ مراحل کا سامنا کرتے….اور نہ وہ …. منگل باغ … والے سلوک کے مستحق ٹھرتے…. اگر ہم سیاسی یتیم نہ ہوتے تو … یار لوگ… اپنوں کو بچا کے دوسروں کو … مقدس گائے … نہ بناتے…. اگر ہم سیاسی یتیم نہ ہوتے تو سرکاری اداروں کو …. پولو گراونڈ میں آکے …. سیاسی فائر کا نشانہ بنا کر اس قو.ل کو سچ ثابت نہ کر رہے ہوتے۔ کہُ ُُ…. بہتی پھولوک شیبوی بہتی بان….
*پولو کوچ۔
چترال میں اگرچہ …. پولو… روز افزوں ترقی کررہی ہے …. اور ٹیموں کا ایک میلہ سجا ہوا ہے… مگر مسقبل میں سول ٹیموں کوسخت خطرہ لاحق ہے…. اچھے کھلاڑی کو…. بابائے پولو…. کی تمپوق کی طرح … اسکاوٹس کی ٹیم اٹھا لیتی ہے یا بارڈر و پولیس…. اور جو کمزور میرے جیسے کھلاڑی رہ جاتے ہیں … وہ کبھی … گھوڑے کی …دم … اور کبھی گردن میں سوار ہوکے تماشیوں کے لیے … تماشا بنتے نظر آتے ہیں … اور جو ان سے بھی گئے گزرے ہیں وہ ایک…. مہتر جو… کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صرف … پولو گراونڈ کی …. لیولنگ … کے لیے اسٹک مارتے نظر آتے ہیں… ان حالات میں … پولو کوچ … بیک وقت دو کپ رکھ کے ٹورنامنٹ کا مشور ہ دے ہے … ایک اے گریڈ کے ٹیموں کے لیے اور دوسرا بی گریڈ ٹیموں کے لیے تاکہ مقابلہ بھی ہوسکے اور نئے اور کمزور کھیلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی ۔ یہ اچھی تجویز ہے انتظامیہ اور پولو ایسوسیشن کو اس جانب توجہ دینا چاہیے … ساتھ ساتھ ….. منہ میں خاک…. جمائے ہزاروں شایقین کے حالات زار وزار پر بھی توجہ کی ضرورت ہے …. جو میچ کے بعد سیدھا …. سروس اسٹیشن …. جاکے سروس کے بعد گھر جاتے ہیں…. چترال میں مقامی لوگ اور ٹورسٹ حضرات پولو میں خصوصی دلچسی رکھتے ہیں …. تو انتظامیہ کو ان کی جذبات کا احترام رکھتے ہوئے انہیں….. عمری تیمم…. سے بچانے احتمام کرنا چاہیے۔

shmubashir99@gmail.com

Translate »
error: Content is protected !!