Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

رمضان کے استقبال کی تیاریاں محمد شریف شکیب

May 23, 2017 at 11:24 pm

ماہ صیام کے استقبال کے لئے ہمارے ہاں بھی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ مارکیٹ سے روزمرہ ضرورت کی اشیاء غائب ہونے لگی ہیں۔ ہمارے تاجر حضرات ان اشیاء کو اپنے گوداموں میں ذخیرہ کر رہے ہیں تاکہ بوقت ضرورت انہیں کام میں لایاجاسکے۔ مارکیٹ سے اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی سے اگر وقتی طور پر قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس میں تاجروں کا کیا دوش ہے۔ یہ تو معاشیات کا فارمولہ ہے کہ رسد کے مقابلے میں طلب بڑھتی ہے تو قیمتوں میں خود بخود اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا الزام کاروباری لوگوں پر ڈالنا معاشیات کے فارمولے کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ رمضان میں گوشت، مرغی، بیسن، آلو، چنے، دہی، مرچ، دھنیااور دیگر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں اگر بڑھ جاتی ہیں تو اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم رمضان میں سودا لانے کی تکلیف سے بچنے کے لئے تمام چیزیں پہلے ہی سٹاک کرنا چاہتے ہیں جب یکدم مانگ بڑھ جاتی ہے تو ذخیرہ کم ہوتا ہے اور ریٹ بڑھتے ہیں۔ پھر ضروری تو نہیں کہ افطار و سحر میں بندہ چکن، قیمہ، چاول، چٹ پٹی خوراک ، فروٹ چاٹ ہی کھائے۔ چائے ،روٹی اور سادہ پانی کے ساتھ بھی گذارہ کیا جاسکتا ہے۔ پھر حکومت نے عوام کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے سرکاری سٹورز پر موجود اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان تو کیا ہے۔ گھی، آئل، چینی، بیسن اور اچار سمیت جن چیزوں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔وہ اگر سرکاری سٹورز پر دستیاب نہ ہوں تب بھی ہم سیخ پاہوتے ہیں۔ بندے کو سوچنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ ان اشیاء کی بروقت ترسیل میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی ہو۔ یا سٹور والے انہیں کسی کونے میں رکھ کر بھول گئے ہوں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سستی چیزیں کم مقدار میں آئی ہوں اور ملازمین نے پہلا سٹاک اپنے دوست احباب میں تقسیم کردیا ہو۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ مزید سٹاک پہنچے گا تو عوام کو بھی دیں گے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ بجٹ بھی رمضان میں ہی آرہا ہے۔ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ اگر پرانے ٹیکسوں کی شرح میں تھوڑا بہت ردوبدل کیا جاتا ہے تو ایسا کرنا حکومت کا حق ہے۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بجٹ میں روزمرہ ضرورت کی ایک ہزار اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ جن میں وی آئی پیز سے لے کر غرباء کے گھروں تک ہر جگہ استعمال ہونے والی روزمرہ ضرورت اور خوراک کی اشیاء شامل ہیں۔ گویا حکومت نے امیر اور غریب میں کوئی امتیاز نہیں برتا ہے۔ سب کے لئے یکسان قیمت مقرر کی ہے۔ پھر بھی کوئی غریب ناانصافی کا واویلا کرتا ہے تو حکومت کے بقول وہ بلاجواز ہے۔بجٹ میں لگائے جانے والے نئے ٹیکسوں کی وجہ سے اگر مہنگائی کی نئی لہر آتی ہے تو یہ اتفاقیہ معاملہ ہے اس کا رمضان کی مہنگائی سے دور دور کا بھی تعلق نہیں۔ حکومت نے ٹیکسوں کے ذریعے ساڑھے چار سو ارب روپے جمع کرنے ہیں۔ آئی ایم ایف نے سختی سے کہا ہے کہ یہ ٹیکس نہیں لگے تو وہ اورنج ٹرین اور دیگر میگا پراجیکٹس کے لئے قرضے کی شکل میں پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ رقم روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکس، سرچارج، اضافی سرچارج، محصول اور چنگی لگا کر ہی جمع کی جاسکتی ہے۔ یہ تو ممکن نہیں کہ حکمران یہ رقم پوری کرنے کے لئے خود چندہ کریں یا اپنی غیر ملکی آف شور کمپنیاں فروخت کریں۔ حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ مرغی کی قیمت 200روپے کلو تک پہنچ گئی تھی۔ اسے کم کرکے 160تک لایاگیا ہے۔ رمضان میں اگر بیس تیس روپے فی کلو اضافہ ہوتا ہے تو کونسی بڑی بات ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار بھی براہ راست جاگیر داروں اور صنعت کاروں کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ان کی اپنی بھی بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ فضل کو بیماری لگ سکتی ہے جس کے علاج پر اضافی اخراجات آئے ہوں گے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے اور کرایوں میں اضافے سے بھی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں تیل کی قیمت کا تعین تو تیل پیدا کرنے والے ممالک کرتے ہیں۔ اس میں ہمارے بیچارے جاگیر دار کا کیا قصور ہے۔ صنعتوں کو بجلی اور گیس پوری نہ ملنے اور خام مال کی قیمت بڑھنے سے مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔ تو ان کی قیمتوں میں بھی خود بخود اضافہ ہوتا ہے۔ جس کے لئے بیچاری حکومت اور غریب صنعت کاروں کو مورود الزام ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے۔ان تمام حقائق کو پیش نظر رکھ کر سوچا جائے تو رمضان میں مہنگائی بھی روزداروں کا امتحان ہے کہ وہ کتنا صبر اور شکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ہماری یہی تجویز ہے کہ پاکستانی قوم نے اس میٹھے پھل کا جتنا استعمال کیا ہے۔ اس کے پیش نظر ’’ صبر ‘‘ کو قومی پھل قرار دینا چاہئے۔

Translate »
error: Content is protected !!