Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اولین ترجیح کا حشر نشر محمد شریف شکیب

May 21, 2017 at 7:21 pm

اب پتہ چلا ہے کہ ہماری حکومت تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی کیوں نہیں تھکتی۔ ایک حالیہ اخباری رپورٹ کے مطابق صوبے کے 29ہزار 700سرکاری سکولوں کے دو لاکھ7ہزار اساتذہ کی تنخواہوں پر حکومت سالانہ 99ارب روپے خرچ کرتی ہے۔ اس تعداد میں بائیس ہزار پرائمری اساتذہ اور سات ہزار سات سو مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے تمام کیڈرز کے اساتذہ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال کے 365دنوں میں سرکاری سکولوں کے اساتذہ ہفتہ وار ، گزیٹیڈ، سرمائی، گرمائی، بہار اور خزان کی چھٹیوں سمیت 180دن گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں۔اور چھٹیوں کی تنخواہ کی مد میں ان اساتذہ کو سالانہ 48ارب 25کروڑ روپے کی ادائیگی ہوتی ہے۔ سرکاری سکولوں کے مقابلے میں تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹرڈ نجی تعلیمی سکولوں کی مجموعی تعداد 19ہزار700ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان ان پرتنخواہ کی مد میں سالانہ 14ارب 47کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔ اگر کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو تعلیمی بورڈز میں پہلی بیس پوزیشنوں میں سے سرکاری سکول کاکوئی ایک آدھ بچہ کبھی کبھار نظر آتا ہے۔ پشاور کی ضلعی حکومت نے بورڈ امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے سرکاری سکولوں کے بچوں اور بچیوں کو نقد انعامات کے ساتھ لیپ ٹاپ بھی دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری سکولوں کے طلبا و طالبات پوزیشن ہولڈرز کی فہرست میں جگہ نہیں بناپاتے۔ تنخواہوں کے علاوہ حکومت سرکاری سکولوں کے لئے عمارتوں کی تعمیر، وہاں پانی ، بجلی،گیس، ڈیسک، بنچ ، سٹیشنری اور دیگر ضروریات کی مد میں بھی سالانہ اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی دوران ملازمت تربیت پر بھی کروڑوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ اب تو حکومت سرکاری سکولوں میں سائنس لیبارٹریاں، لائبریریاں، کھیل کے میدان، ان ڈور گیمز کی سہولیات ، چاردیواری کی تعمیر اور نگران عملہ کی تعیناتی پر بھی کروڑوں اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اخراجات کے اعتبار سے تعلیم سرفہرست ہے۔ اور حکومت کا تعلیم کو اولین ترجیح قرار دینے کا دعوی بالکل بجا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں ہم نصابی سرگرمیوں کو بھی خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان سکولوں میں بیس تیس سالہ تجربہ رکھنے والے اساتذہ موجود ہیں۔ جن میں کچھ انتہائی قابل اساتذہ بھی ہیں۔ کھیلوں کے مقابلے بھی کرائے جاتے ہیں اب تو حکومت سرکاری سکولوں کے طلباوطالبات کو یونیفارم ، کتابیں، کاپیاں فراہم کرنے کے علاوہ انہیں ماہانہ وظائف بھی دیتی ہے۔ جن پر سالانہ اربوں روپے کا خرچہ آتا ہے۔جبکہ ان کے مقابلے میں پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کی تعداد کم، تعلیمی قابلیت بھی سرکاری اساتذہ سے کم، تربیت کا کوئی انتظام نہیں، تنخواہیں بھی انتہائی قلیل ہیں اس کے باوجود نجی سکولوں کا معیار بہتر سے بہتر ہوتا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت، محکمہ تعلیم، ماہرین اور سکولوں کی انتظامیہ کو سرجوڑ کر سوچنا چاہئے کہ سالانہ کھربوں روپے سرکاری تعلیمی اداروں پر خرچ کرنے کے باوجود سرکاری اداروں میں تعلیم کا معیار بہتر کیوں نہیں ہوتا؟ کیا سرکاری تعلیمی اداروں کا نصاب غیر معیاری ہے؟ اساتذہ دل لگاکر بچوں کو نہیں پڑھاتے؟ سکولوں میں نظم و نسق کا فقدان ہے؟ کیا سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے تمام بچے کند ذہن اور کورے ہیں ؟ اساتذہ تدریس کے جدید طریقوں سے نابلد ہیں؟پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں سرکاری تعلیمی اداروں پر100گنا زیادہ اخراجات کے باوجود ان کی کارکردگی انتہائی پست کیوں ہے؟ جہاں معمول کے مصارف پر کھربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں وہاں چند کروڑ روپے نقص کا پتہ لگانے پر بھی حکومت خرچ کرے تاکہ سرکاری اداروں کو بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل ہونے کے قابل بنایا جاسکے ۔یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں میں آج بھی لارڈ میکالے کا فارمولہ چلتا ہے کہ عوام کے بچے کلرک، سکول ٹیچر، چپڑاسی اور ڈاکیہ کے گریڈ سے آگے نہ بڑھنے پائیں۔سرکاری تعلیمی ادارے ہمارا اثاثہ ہیں ان پر اٹھنے والے اخراجات قوم سے ٹیکسوں کی صورت میں وصول کئے جاتے ہیں۔ اور ٹیکس گذاروں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے قیمتی وسائل کے ضیاع کے حوالے سے حکومت سے باز پرس کریں ۔بات صرف وسائل کے ضیاع تک محدود رہتی ۔ تو پھر بھی قابل برداشت تھی۔ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچے قوم کا اثاثہ اور مستقبل ہیں۔ ان کو معیاری تعلیم ملے گی تو وہ عملی زندگی میں معاشرے کے مفید شہری بنیں گے۔ اوربحیثیت قوم ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔تحریک انصاف کے قائد عمران خان،وزیراعلیٰ پرویز خٹک،وزیرتعلیم محمد عاطف اور تعلیم کے مشیر مشتاق غنی کو اس اہم قومی مسئلے پر سوچنا اور قوم کے مستقبل کی خاطر کوئی سخت فیصلہ کرنا ہوگا۔

Translate »
error: Content is protected !!