Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قیادت کا فقدان نہیں، کارکنوں کا بحران محمد شریف شکیب

May 20, 2017 at 6:17 pm

ملک میں عام انتخابات کی ہوائیں چلنے لگی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی مہم میں پیش پیش نظر آتی ہے۔جس کے سربراہ اور سابق صدر آصف علی زرداری نے پشاور سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے کچھ پرانے کارکنوں سے ملاقاتیں کیں، ورکرز کنونشن سے خطاب کیا، ناراض ارکان سے بھی ملے، میڈیا والوں سے بھی بات چیت کی۔ اور یہ عندیہ دیا کہ اس بار انہوں نے بلاول اور آصفہ کو بھی ساتھ لے کر انتخابی مہم چلانے کی ٹھان لی ہے۔ 2013کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو انتخابی مہم چلانے کی مہلت نہیں ملی جس کی وجہ سے پارٹی کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن اس بار پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وقت آنے پر وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ خود وزیراعظم بنیں گے یا بلاول کو وزیراعظم بنائیں گے۔ آصف زرداری نے جاتے جاتے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ رمضان کے بعد خیبر پختونخوا کا تفصیلی دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ دیر، سوات ، چترال اور جنوبی اضلاع کے علاوہ قبائلی علاقوں میں بھی جائیں گے۔ آصف زرداری کی اس انتخابی مہم سے پیپلز پارٹی کے نیم مردہ جسم میں کتنی حرکت پیدا ہوگی اور آئندہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے پارٹی کتنی نشستیں جیت سکے گی۔ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم پارٹی کے لئے قربانیاں دینے والے کارکنوں کو منانے کی پالیسی سے فرق ضرور پڑے گا۔بے نظیر کی شہادت کے بعد پی پی پی کے جانثار کارکنوں کو دیوار سے لگادیا گیا۔ اور مختلف پارٹیوں سے وفاداریاں تبدیل کرکے آنے والوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا۔ جس کی وجہ سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی کے زیادہ تر دیرینہ کارکن دلبرداشتہ ہوکر خانہ نشین ہوچکے ہیں۔اورکچھ دوسری پارٹیوں میں چلے گئے ہیں۔سیاسی وابستگی سے قطع نظر پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس کے پاس غریب آدمی کی فلاح و بہبود کا ایجنڈا ہے۔ اس کی جڑیں چاروں صوبوں میں موجود ہیں۔ صرف پی پی پی اور جماعت اسلامی ہی دو ایسی جماعتیں ہیں جن کے پاس کارکنوں کی ایک منظم فوج موجود ہے۔ جن کی سیاسی تربیت کی جاتی ہے اور جو پارٹی کے لئے تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ سابق صدر نے پشاور میں ورکرز کنونشن کے دوران پارٹی کی بزرگ خاتون رہنما بیگم شہزادہ سلیمان کو ماں کہہ کر پکارا۔اور قومی رہنماوں کی موجودگی میں یہ اعتراف کیا کہ بیگم سلیمان پارٹی کا اثاثہ ہیں۔ جو روز اول سے پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کے خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں یہاں تک کہ ان کی دس سالہ بیٹی نیلوفر بابر کو سکول سے گھر آتے ہوئے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا جسے پاکستان کی تاریخ میں کم عمر ترین سیاسی قیدی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اس نے پارٹی کی حکومت سے کوئی مالی فائدہ کبھی نہیں اٹھایا۔ اب تک وہ پارٹی فنڈ میں لاکھوں روپے سالانہ چندہ دے رہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نصرت بھٹو اوربے نظیر شہید کی طرح وہ بھی اپنے اگلے دورے کے دوران بیگم سلیمان کے گھر پر ٹھہریں گے۔ آصف زرداری کا یہ اعتراف پارٹی کے پرانے اور جانثار کارکنوں کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔تاہم دیکھنا یہ ہے کہ پی پی پی کی قیادت اپنے ان کارکنوں کو بھی واپس لانے میں کامیاب ہوتی ہے ؟ جو مسلسل نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔زرداری پارٹی کی صوبائی قیادت کی کارکردگی سے بھی زیادہ
خوش نظر نہیں آئے۔ ورکرز کنونشن سے خطاب کے مطالبے پر انہوں نے صوبائی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا کہ پہلے پارٹی کو منظم اور فعال کیا جائے۔ تب ہی وہ کارکنوں کے ساتھ بیٹھیں گے۔آئندہ انتخابات میں پارٹی کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ شہری سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اپنی موجودگی ثابت کرے ۔مفاہمت اور مصالحت کی پالیسی کے ساتھ بھٹو کے وژن کے بھی ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ کارکنوں کے پاس پارٹی کے لئے جدوجہد کرنے کا کوئی جواز بھی ہو۔ موروثی قیادت کے بجائے پارٹی میں جمہوری سیاست کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کو قیادت کے فقدان کا نہیں کارکنوں کے بحران کا سامنا ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!