Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عالمی تنہائی کا شکار کون۔۔۔ پاکستان یا بھارت؟ تحریر:محمد صابر گولدور ،چترال

May 19, 2017 at 11:13 pm

تقسیم ہند کے آغاز سے ہی مسلمانوں کو نسلی تعصب کی بنیاد پر پورے ہندوستان میں چن چن کر مارا گیا۔ معصوم بچوں ،بوڑھی عورتوں ،حاملہ ماؤں تک کو نہ بخشا گیا ۔ بہت ساری خواتین کا سہاگ اجاڑا گیا۔ یہ بات تاریخ میں ہے کہ ہندؤں نے بڑی چالاکی سے سکھوں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا اور خود تماشائی بنے دیکھتے رہے۔ سکھوں کے زریعے ہزاروں بلکہ لاکھوں معصوم مسلمانوں کا خون بہا یا گیا۔اس وقت کے سکھ ہندؤں کے مکر و فریب کو بھانپ نہ سکیں مگر آج کے سکھ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ ہندؤں نے مسلمانوں کے خلاف ان کو ورغلاکر اکساکر استعمال کیاتھا۔اسی لیے آج کے ہندوستان کی سرزمین میں ایک نئی تحریک اپنی آب و تاب کے ساتھ نمودار ہو چکا ہے۔جس کا نام تحریک خالصتان ہے۔جس کی نمائندگی ہندوستان سمیت دنیابھر کے سکھ حضرات بڑے زور و شور کے ساتھ کر رہے ہیں۔جو دنیا بھر کے بڑے بڑے فورمز میں الگ ریاست کے لیے احتجاج کرتے دیکھا ئی دیتے ہیں۔
پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان دس گنا بڑا ملک ہے ۔ ہندوستان کے وسائل ہم سے زیادہ ہیں ۔دنیا کی معیشت میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔مستقبل قریب میں پاکستان اور بھارت کا نام بھی ان ممالک میں شامل ہیں جو کہ دنیا کی بڑی معیشتوں کا حصہ کہلائیں گے۔ پاکستان بھارت سے چھوٹا ملک سہی مگر قدرت نے اس خظے کو بے شمار وسائل و و زرائع سے نوازا ہے جن کی بدولت یہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اچھے تلعقات کا خواں ہے۔لیکن اکھنڈبھارت نے کھبی بھی اسے تسلیم نہیں کیا بلکہ ہمیشہ سے اس کی ترقی کے راہ میں رکاوٹیں ڈالتا آیا ہے۔پاکستان بھارت سے چھوٹا ملک صحیح مگر بھارت اس سے ڈرتا چلا آیا ہے۔جس میں پاکستان کا چھپا طاقت مضمر ہے۔ہمارے ملک کے پاس وسائل و زرائع کی فراوانی کے باوجود بھی ہم ان کا صحیح معنوں استعمال نہیں کر پاتے اس کی وجہ صرف اورصرف بد عنوانی ، بد انتظامی اور اہلیت کی کمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔پاکستانی سیاست گندی اور غلاظت کا ڈھیر ہے سیاسی گٹھ جوڑ ، مک مکا ہماری سیاست کا جزو لا ینفک حصہ بن چکاہے۔ اور ہمارے سیاستدان کرپٹ ہیں جنہوں نے ملکی دولت کو باپ کا مال سمجھ کر بیرون ملک بنکوں میں جمع کیا ہے ان کرپٹ اور نا اہل حکمرانوں نے ملک کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے جب ان کے خلاف آواز اٹھاو تو شور ہوتا ہے کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔پھر بھی چند رفاعی اور عسکری اداروں نے اس ملک کا نظم و نسق سنبھالا ہوا ہے وگرنہ ہمارے سیاستدان کب کے اس ملک کو بھیج چکے ہوتے۔
دنیا کا واحد ملک جو خالصتا اسلام کے نام پر بنا ہے جسے قلعہ اسلام کا خطاب بھی مل چکاہے۔ یہاں علامہ اقبال ؒ کا ایک شعر یاد آتا ہے۔
ستیزہ کاررہاہے ازل سے تا امروز۔۔۔چراغ مصطفوٰی سے شرار بولہبی۔۔۔
اگر شعر کے پہلے مصرعہ کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جائے تو بھارت کی جانب سے شروع دن سے ہی پاکستان میں جاری شرانگیزیوں پر یہ مصرعہ صادق آتا ہے۔بھارت نے شروع ہی سے وطن عزیز کے ساتھ شرانگیزی اور جاہلیت کی انتہا کردی تھی جو کہ تا ہنوز جاری ہے۔یہی نہیں بلکہ ان دنوں کھلے عام کچھ پڑوسی ممالک بھی بھارت کی زبان بول رہے ہیں۔افغانستان جو کہ ہندوستان کا اعلی کار رہا ہے۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ہمارا ایک اور پڑوسی اسلامی ملک ایران بھی اپنی اوقات پر اتر آیا ہے۔ایران پاکستان میں گس کر سرجیکل اسٹرائک کرنے کی دھمکیا ں دے رہا ہے۔اس سے قبل بھارت بھی اسی طرح کے جھوٹے سرجیکل اسٹرائک کا دعوٰی کرچکا ہے۔پاکستان کے خلاف تین ممالک کاگٹھ جورخطے میں امن کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔خصوصاپاکستان کے لیے جو کہ تنیوں ممالک کا پڑوسی ملک ہے۔اگر ایران باز نہیں ٓآتا توپاکستان دنیا کا واحد ملک بننے جا رہاہے جس کے بیک وقت تینوں پڑوسی دشمن کہلائیں گے۔ہم امید کرتے ہیں کہ ایران آئندہ ایسی حرکتوں سے باز آجائے گاجو کہ پاکستان اور ایران کے بیچ رکاوٹیں حائل کردے اور ہماری دوستی دشمنی میں بدل جائے۔
یہ بات بھارت اور اس کے اتحادی ممالک کو بھی یاد رکھنی چاہیے کہ خطے میں پاکستان کے چند عظیم دوست بھی ہیں جو کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔جن میں سے سرفہرست چین کا نام آتا ہے۔چین دینا میں سفارتی سطح پر پاکستان کی حمایت کرنے والا سب سے بڑاملک ہے۔جس کے بعد دوسرے نمبر پر سعودی عرب جبکہ تیسرے نمبر پر ترکی ہے۔ یہ ممالک بین الاقوامی سطح پر کسی بھی فورم اور اجلاس میں پاکستانی موقف کی پرزور حمایت کرنے والے ممالک ہیں چاہے وہ کشمیر کاز ہو یا دوسرے کور ایشوز ان ممالک نے سفارتی سطح پر پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا ہے۔بھارت جو کہ عرصہ دراز سے NSGکی رکنیت کا خواں ہے اور ابامہ ایڈمنسٹریشن بھارت کو NSG کی رکنیت دلانے کے لیے کئی بار کوششیں بھی کر چکا تھا مگر چین کی مداخلت نے بھارت کو ہر بارNSGکی رکنیت سے دور رکھاچلا آیا ہے۔
اب آتے ہیں عالمی تنہائی کی جانب تو ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ اصل میں عالمی تنہائی کا شکار کون ہے پاکستان یا بھارت؟ دراصل مودی ہندوستانی وزیر اعظم بنتے ہی اس نے اس عظم کا اعادہ کیا تھا کہ وہ دنیا میں پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکارکردے گا۔جس کے بعد مودی اور اس کی ٹیم نے قریبا ہی کوئی ملک ایسا چھوڑا ہو جہاں وہ نہ گیا ہو۔یہا ں تک کہ پاکستان کے دوست ممالک اور حلیف ممالک کے دورے بھی مودی کر چکا ہے۔مگر کوئی خاطر خواں کامیابی حاصل نہ ہو سکی ۔البتہ الٹا مودی کو لینے کے بجائے دینے کو پڑ گئے اور ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ہندوستانی وزیر اعظم ہر فورم اور ہر ملک میں پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہا۔مگرعین اسے لمحے ہماری بہترین خارجہ پالیسی کی بدولت پاکستان ان تمام مسائل اور مشکلات سے نکل �آیا جو مودی سرکار نے حائل کیے تھے اور بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم پر دنیا کی توجہ دلائی۔جس کی وجہ سے دنیا کے کئی بڑے ممالک نے بھارت کو کشمیر میں جاری مظالم بند کرنے پر دباو ڈالا ۔روس جو کہ ہندوستان کا پرانا اتحادی اور حلیف ملک سمجھا جاتا تھا پاکستانی افواج کے ساتھ پہلی بار مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا۔ پھر 23 مارچ کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عوامی جمہوریہ چین کے تینوں شعبوں سے متعلقہ افواج نے اس پریڈ میں حصہ لیا ۔ چین کے علاوہ ترکی کے مہتر بینڈ اور سعودی عرب کے اسپیشل فورسز نے بھی اس پریڈ میں حصہ لیا۔
امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی چند ممالک پر ویزا بینڈ کا اجرا کیا تھا۔ مگر ان ممالک میں پاکستان کا نام شامل نہیں تھا۔اور دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ امریکہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ ویزا پالیسی کو مزید سخت کیا گیا۔ان سب سے بڑھ کر 41 اسلامی ممالک کے نیٹو طرز کے اتحاد میں پاکستان کو سر فہرست رکھا گیا۔اور 41 اسلامی ممالک کے کمانڈرانچیف کے لیے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا انتخاب کیا گیا۔باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی تنخواہ 6 سے 8 کروڑ روپے ہے۔ ان تمام صورتحال سے جو نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں کہ وہ یہی کہ عالمی تنہائی کا شکار پاکستان نہیں بلکہ خود بھارت ہے۔جس کی تازہ ترین مثال چین میں ہوئے سب سے بڑے سفارتی اجلاس دی بیلٹ اینڈ روڈ اینشی ایٹوکی ہے۔اتوار کے دن چین میں اس اجلاس کا آغاز ہوا جس میں 130 ممالک کے 1500 مندوبین شریک ہوئے اس اجلاس کی سب سے بڑی بات روسی صدر کی اس اجلاس میں شمولیت تھی جن کے ساتھ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی اس اجلاس میں شامل تھے۔دنیا کے سب سے بڑے سفارتی اجلاس دنیا کے سبھی ممالک شامل تھے اگر اس اجلاس میں کوئی ملک شامل نہیں تھا تو وہ تھا بھارت جس کی عدم شمولیت نے یہ بات ثابت کردیا کہ عالمی تنہائی کا شکار بھارت خود ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!