Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افسوس ناک عمل تحریر : اقبال حیات آف برغذی

May 19, 2017 at 6:38 pm

صحت اللہ رب العزت کی انمول نعمت ہے۔ اور زندگی کی تمام لذتوں کا دارومدار صحت پرہے اور “جان ہے تو جہا ں ہے” کے مصداق جینے کی آرزو صرف صحت کی نعمت سے سرفرازی سے مربوط ہے۔بصورت دیگر کائنات کی تمام رعنائیوں اور رنگینیوں کے ساتھ دولت و ثروت کی اہمیت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ اور زندگی نام سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔
صحت کی نعمت کی حفاظت کے لئے جہاں بدن کی صفائی ستھرائی اور خوراک کے استعمال میں اعتدال اور احتیاط کی اہمیت مسلمہ ہے وہاں صحت پر پڑنے والے ماحولیاتی اثرات کو بھی نظر اندا ز نہیں کیا جاسکتا ۔خوشگوار ماحول معاشرے کے ہر فرد کے ذاتی فکرکے دائرے سے باہر نکل کر اجتماعی مفاد کے تصور سے سر شا رہوکر کردار ادا کرنے سے ممکن ہوسکتا ہے۔بدقسمتی سے آج ہماری دنیا جہاں معاشرتی زندگی کی مختلف پہلووں کی لذتوں سے محروم ہوتی جاری ہے۔ وہاں خوشگوار ماحول کی چاشنیاں بھی روبہ زوال ہیں۔ اس سلسلے میں اگرچہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے پیدا ہونے والی آلودگی قابل ذکر ہے مگر ہم میں حفظان صحت کے اصولوں کو اپنانے اور ان پر کا ر بند رہنے کا فقدان قابل افسوس حد تک پروان چڑھ رہا ہے۔ اور ہر کوئی اپنی جان کے دشمن کارول ادا کرتا ہوا نظرآتا ہے۔ وہ چترال جس کی ندی نالوں اور خصوصاً کھیتوں کے بیچ میں بل کھاتا اور گنگنا کر گزرنے والا صاف اور شفاف پانی اور منہ کے بل لیٹ کر پانی کو پینے کا تصور ایک خواب سے کم نظر نہیں آتا۔اسی طرح وہ آب روان جس سے نمازی وضو بنایا کرتے تھے آج اس کے چھینٹے کپڑوں پر پڑنے سے کپڑے گندے ہونیکی کیفیت پیدا ہونا ہماری نعمت شناسی سے محرومی پر دلالت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی آج اپنے گھر کے اندر کی تمام آلائشیناور گندگیاں جن میں بچوں کے استعمال شدہ پیمپرز شامل ہوتے ہیں بنڈلوں کی صورت میں ندی نالوں میں پھینک کر مجموعی طور پر پوری آبی نظام کو ناپاک اور بدبودار بنانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر جگہ پانی کی صورت میں اللہ رب العزت کی طر ف سے ودیعت کردہ عظیم نعمت ناقدری کا شکار ہوکر پینے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ مشروبات کے بوتل اور پلاسٹک کے تھیلے جہاں بھی جی چاہے پھینکنے کی عادت پوری قومی زندگی میں سرایت کرچکی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ زندہ یاد کے الفاظ کے ہار ہماری طرف سے گلے میں سجا کر مسند نمائندگی پر جلوہ افروز ہونے والوں کی نااہلی اور غفلت بھی اپنی جگہ نمایا ں ہے۔ پورے ضلع کے دارلخلافہ میں ایک عدد بھی عوامی بیت الخلاء نہ ہونے کی وجہ سے وسیع طور پر فضلات کا پھیلنا بھی اس افسوسناک اور قابل نفرین عمل کا حصہ ہے۔یہ تمام قومی بے حسی کے مترادف امور جہاں قدرتی حسن سے مالامال اپنے دیس کو اپنی ہی نا اہلیوں سے بگاڑنے جیسے بد بختی سے مما ثلت رکھتے ہیں وہاں صفائی کو نصف ایمان کی مذہبی حیثیت حاصل ہونے کے باوجود اسے اپنانے کے سلسلے میں لاپرواہی ہماری دینی اقدار کی پاسداری کی حیثیت کو نمایان کرنے کے لئے کافی ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!