Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہڑتالوں اور مظاہروں کا رواج محمد شریف شکیب

May 17, 2017 at 9:49 pm

کہوار کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’ گوردوغ کولیا۔ بار کولی‘‘یعنی گدھے کے اوپر لدا سامان ٹیڑا ہوگیا یا خود گدھا ٹیڑا ہے‘‘ ہم بھی ایسی ہی کشمکش سے دوچار ہیں۔ ایک طرف محکمہ صحت نے اپنی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت میں بائیس ہزار اسامیاں تخلیق کی گئیں۔ ٹی ایم اوز اور ہاوس آفیسرز کے وظائف میں سو فیصد اور زیرتربیت نرسوں کے وظائف میں تین سو فیصد اضافہ کیا گیا۔ پہاڑی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو ہارڈ ایریا الاونس کے طور پر بیاسی ہزار روپے دیئے جارہے ہیں۔ چاردرجاتی فارمولے کے تحت ٹی ایم اوز کو اب گریڈ بیس تک ترقی مل سکتی ہے۔ تیرہ ہزار دو سو لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کردیاگیا۔ تدریسی اسپتالوں کو مکمل انتظامی اور مالی خود مختاری دیدی گئی۔ صوبے بھر میں ڈاکٹروں کی اسامیوں کو تین ہزار چھ سو سے بڑھا کر چھ ہزار ایک سو پچاس کردیا گیا۔تین سو پندرہ ماہر ڈاکٹروں کی اسامیاں بڑھا کر اب ساڑھے آٹھ سو کردیا گیا ہے۔ پیرامیڈیکس کی ڈیڑھ ہزار نئی اسامیاں پیدا کی گئیں۔ تین ہزار پانچ سو نئے ڈاکٹروں کو روزگار فراہم کیا گیا۔ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ پیرامیڈیکس اور ایک ہزار سے زاٗئد نرسیں بھرتی کی گئی ہیں۔ میڈیکل آفیسر اور ڈینٹل سرجن کی تنخواہ 37ہزار سے بڑھا کر 82ہزار روپے کردی گئی ہے۔ ہاوس آفیسر کو اب 27ہزار کے بجائے 50ہزارسے زائد تنخواہ دی جاتی ہے۔ ان اعدادوشمار کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ صحت کے شعبے میں گذشتہ تین سالوں کے اندر انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ڈاکٹروں، نرسوں، پیرامیڈیکل اسٹاف ، آئی ٹی ملازمین ، کلرکوں اور اسپتال میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کی ہڑتالیں بھی روز کا معمول بن گئی ہیں۔ پشاور کے تین تدریسی اسپتالوں میں روز کسی نہ کسی پارٹی کی ہڑتال ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کے مختلف علاقوں سے علاج کے لئے پشاور آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ نوجوان ڈاکٹروں کی تنظیم نے پشاور کے تینوں اسپتالوں میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تاہم صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اسے بلاجوازقرار دیاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے، ڈاکٹروں اور معاون سٹاف کی کمی پوری کرنے،صفائی کا انتظام بہتر بنانے اور اسپتالوں میں سٹاف کی حاضری یقینی بنانے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں گذشتہ ستر سالوں میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود عوام تک اصلاحات کے فوائد نہیں پہنچ پائے۔ سرکاری اسپتالوں میں دکھی انسانیت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ وہ افسوس ناک اور انسانیت کی توہین کے مترادف ہے۔ جو لوگ گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرنے کے عادی تھے۔ انہیں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت حاضری لگانے کے لئے ڈیوٹی پر آنا پڑ رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کے اہلکار خود اصلاحات کے عمل کو ناکام بنانے کے درپے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کو اتنا ہراساں اور پریشان کیا جاتا ہے کہ وہ پرائیویٹ کلینکوں میں جاکر اپنا علاج کروانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تین سال پہلے پندرہ بیس ہزار روپے تنخواہ پانے والے آج ساٹھ ستر ہزار روپے سمیٹنے کے باوجود خوش نہیں۔ اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض ایمانداری اور دیانت داری سے نہیں نبھا رہے۔انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ آج اگر ان کا بڑا نام بن گیا ہے تو وہ ایک بڑے سرکاری ادارے سے وابستگی کی وجہ سے ہے۔ اگر نامی گرامی ڈاکٹر لیٹر ہیڈ پر درج اپنے عہدے اور اسپتالوں کے نام ہٹا دیں تو ان کے پرائیویٹ کلینک ویران ہوجائیں گے۔ان کی عزت، وقار، شہرت سب کچھ قومی اداروں اور محکموں کی طرف سے انہیں دیئے گئے بڑے ناموں کی مرہون منت ہے۔ محکمہ صحت کے اہلکار ’’ ھل من مزید‘‘ کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ بات بات پہ ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے رواج بن چکے ہیں۔محکمہ تعلیم کی طرح محکمہ صحت میں بھی جزا و سزا کا نظام نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔جو لوگ عوام کے ٹیکسوں سے بھاری تنخواہیں اور پرکشش مراعات پانے کے باوجود عوام کی خدمت سے گریزاں ہیں۔ انہیں قومی خدمت کے اداروں میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایک ہاتھ میں سونے کا چمچہ اور دوسرے ہاتھ میں ڈنڈا ہو۔ تب ہی نظام چلے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!