Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت دیر چکدرہ چترال سی پیک متبادل شاہراہ سمیت کئی اہم منصوبوں پر اگلے مالی سال سے کام شروع ہوجائے گا۔۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک

May 16, 2017 at 11:21 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ چین کادورہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ پشاور سے روالپنڈی تک ڈبل ریلو ے ٹریک کی منظوری ہوگئی ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا حکومت اور چین کے ساتھ ہونے والے 24 بلین ڈالر کے منصوبوں کے لیے مشترکہ ایم او یوز پر دستخط کرنے کے لئے چینی وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہے جن میں 19 سو میگا واٹ بجلی کے منصوبوں، انڈسٹریل پارکس، پشاور، نوشہر،ہ مردان ، چارسدہ صوابی فاسٹ ریلوے ٹریک، گلگت دیر چکدرہ چترال سی پیک متبادل شاہراہ سمیت کئی اہم منصوبوں پر اگلے مالی سال سے کام شروع ہوجائے گا۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اپنے منشور پر من و عن عمل پیرا ہے۔ صوبائی حکومت عا م آدمی کی حالت زندگی بہتر بنانے اور نوجوانوں کوروز گار فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اوریہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ معاہدوں کے تحت فنی تربیت فراہم کرنے کا پروگرام شروع کردیا ہے جس سے نوجوان استفاد ہ کرکے باعزت روزگار حاصل کریں گے ۔ وہ چین کے دورے سے واپسی کے بعد نوشہرہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکاخیل، ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک، ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک اور ایم پی اے میاں خلیق الرحمن بھی موجود تھے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ تحریک انصاف نے صوبے میں انتہائی مشکل حالات میں حکومت سنبھالی۔ اور خیبرپختونخوا مسائلستان بن چکا تھا۔ ادارے تباہ حال تھے۔سابقہ دور حکومت میں کرپشن، کمیشن ،اقرابا پروری اور ناانصافیوں کی وجہ سے عوام پریشان تھے۔ اوریہی وجہ ہے کہ عوام نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور ہم پر بھر پور اعتماد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی خواہش ہے کہ صوبے کے وسائل کا زیادہ حصہ غریب عوام پر خرچ کیا جائے۔ماضی میں حکومتوں نے نہ تو کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی عوام کا کوئی خیال کیا۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب کر ہو غریب عوام کے سروں کا سودا کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے صوبے کے وسائل کے بہتراستعمال بجلی اور گیس کے خالص منافع کی رقم میں اضافہ سمیت وفاق کے ساتھ تحریری معاہدوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبے کے حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ چین نے جو تین روزہ روڈ شو کیا۔ درحقیقت چین زمینی اور سمندری راستوں سے پوری دُنیاکے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھانا چاہتا ہے۔اور جس کے دور رس نتائج نکلیں گے۔ اوراس سے تمام ممالک کو فائدہ ہوگا۔ اس دورے میں زیادہ منصوبے وفاقی حکومت کے تھے۔ تاہم خیبرپختونخوا میں پشاور سے روالپنڈی تک دو رویہ ریلوے ٹریک کا معاہدہ ہو گیا ہے۔

 

اس طرح چین کے ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کے معاہدے اس سے الگ ہیں۔جس کے لیے چینی وفود کی آمد کاسلسلہ شروع ہے۔ اور چین کے ساتھ ہونے والے منصوبوں پر یہاں پشاور میں باقاعدہ دستخط ہوں گے اوران منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔چین کے ساتھ ہونے والے تعلیم و صحت کے حوالے سے معاہدوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اسی طرح صوبے کے انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی اہم معاہدے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں سے خیبرپختونخوا میں ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گی اورخیبرپختونخوا کے بے روز گار اور ہنر مند نوجوانوں کو باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی وہ اپنے صوبے اور علاقے میں رہتے ہوئے باعزت روزگار کما سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین سمیت دیگر ممالک کے سرمایہ کار خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام باشعور ہیں ۔ اور وہ مفاد پرست سیاست دانوں کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ اور 2013 کی طرح2018 میں بھی تحریک انصاف کو زیادہ اکثریت سے کامیاب کریں

گے۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں بیجنگ روڈ شو میں طے شدہ خیبر پختونخوا چائنہ انوسٹمنٹ پلان کے تحت مختلف محکموں کی طرف سے اب تک کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے بیجنگ روڈ شو میں ہونے والے معاہدوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے معاشی سپر پاوراس دوست ہمسایہ ملک کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے سے پورے خطے کی موجودہ اور آئندہ نسلیں مستفید ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ چین سے خیبر پختونخوا کے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور بزنس ٹو بزنس معاہدوں اور منصوبوں کو ہم پورے اعتماد کے ساتھ خیبر پختونخوا چائنہ انوسٹمنٹ پلان کا نام دے سکتے ہیں جس پر انکی روح کے مطابق عمل ہو گا۔انہوں نے حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ کئے گئے ہر عہد اور ڈیڈلائن کی تکمیل یقینی بنا ئی جا ئے جبکہ ان سے بھی معاہدوں کے نکات کی پاسداری کرائیں تاکہ کسی بھی مرحلے پر باہمی اعتماد خراب نہ ہونے پائے ۔ اسی طرح تمام محکمے معاہدوں پر عمل میں حکمت عملی، قانون یاانتظامات کے حوالے سے درپیش مسائل اور رکاوٹوں کا نہ صرف پیشگی ادراک کر یں بلکہ فوری اعلیٰ سطح پر رابطے کریں تاکہ اس مقصد کیلئے اگلے اجلاس کا انتظار کرنے کی بجائے درپیش مشکلات کا موقع پر ہی جلد از جلد ازالہ یقینی بنایا جا سکے ۔

 

وزیراعلیٰ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ چینی کمپنیوں کے ذمہ داران کی صوبے میں آمد و رفت اور صوبائی حکام سے ملاقاتوں اور اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہونے کے علاوہ کمپنیوں کی طرف سے عملے کی تقرری اور صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کا آغاز بھی ہو چکا ہے ۔انہوں نے حکام پر واضح کیا کہ ہر منصوبے کی اپنی نوعیت ہوتی ہے ہر محکمہ متعلقہ منصوبے کی نوعیت کو دیکھ کر ورک پلان بنائے۔ صوبے کامفاد ہر صورت میں ہماری ترجیح ہونا چاہئے حکام کچھ منصوبوں میں بین الاقوامی اصولوں اور معیار کے مطابق کمپنیوں سے شیئرطے کریں جب کہ کچھ میں بناؤ ، چلاؤ اور حوالے کرو ) بی او ٹی ( کے تحت معاملات طے کئے جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ محکمے تعمیراتی معاملات میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن سے منصوبوں پر معاہدوں کی تاریخ اگلے ہفتے کنفرم کریں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ڈبلیو ایس ایس پی اسکیموں کی آؤٹ سورسنگ فوری طور پر مشتہر کریں۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس سلسلے میں دو سال سے ٹال مٹول ہورہی ہے۔ مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں مزید چشم پوشی برداشت کی جائے گی ۔صرف کارپوریٹ ادارے ہی صحیح معنوں میں عوام کو ڈیلیور کر سکتے ہیں اور یہ پوری دُنیا میں ہور ہا ہے ۔ سرکاری ادارے پبلک خدمات میں ناکامی سے دو چار رہے ہیں جو تجربات سے ثابت ہو چکا ہے ۔پرویز خٹک نے صوبائی حکومت کی جانب سے متعلقہ انوسٹمنٹ مانیٹرنگ ٹیموں کی تقرری کے بعد چینی پارٹنروں سے روابط مزید مستحکم بنانے پر زور دیا ۔انہوں نے محکمہ منصوبہ بندی وترقیات میں قائم سی پیک سیل کو معاہدوں پر عمل درآمد میں انوسٹمنٹ سپورٹ یونٹ کے طور پر کام کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ، وزیر معدنیات انیسہ زیب طاہر خیلی، مشیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات میاں خلیق الرحمان، چیف سیکرٹری، مختلف محکموں کے انتطامی سیکرٹریوں، توانائی، بلدیات ، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ماحولیات، زراعت، ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ، معدنیات، ازمک، پیڈو، ڈبلیو ایس ایس پی، او جی ڈی سی ایل، ہائی وے اتھارٹی، ہاؤسنگ اتھارٹی اور پی ڈی اے سمیت مختلف محکموں اور اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی ۔

Translate »
error: Content is protected !!