Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ینگ ڈاکٹروں کی طرف سے ہڑتال کی کال بلا جواز ہے ۔ وزیر صحت شہرام تراکئی

May 15, 2017 at 11:32 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے سنیئر وزیر برائے صحت شہرام تراکئی نے ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کی طرف سے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کی کال کو بلا جوازقرار دیتے ہوئے کہاہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی فلاح و بہبود اور اُن کو مالی مراعات دینے کے سلسلے میں اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی اُن کی طرف سے ہسپتالوں میں ہڑتال کی کال دینا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ صوبائی حکومت نے نہ صرف ڈاکٹروں اور طبی عملے کے سارے مطالبات تسلیم کیے ہیں بلکہ اُن کے مطالبات اور توقعات سے بڑھ کر مراعات دیے ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کو علاج معالجے کی بہتر اور ہمہ وقت سہولیات کی فراہمی یقینی ہو ۔ گذشتہ تیں چار سالوں کے دوراں صوبے میں ڈاکٹروں کو مالی مراعات دینے ، اُن کی بہتر کیرئیر کے لئے سروس سٹرکچر منظور کرنے ، اُن کی ترقیوں اور ریگولیرائزیشن کے لئے جو اقدامات کئے گئے ہیں اُس کی کہیں بھی کوئی مثال نہیں ملتی ۔یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کا مقصد طبی عملے کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں مریضوں کی بہتر نگہداشت اور اُنہیں علاج معالجے کی بہتر اور معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ ہسپتالوں میں آئے روز اور بلا وجہ ہڑتالوں سے وہ غریب مریض مشکلات سے دو چار ہو رہے ہیں جن کے ٹیکس کے پیسوں سے ہسپتال بنتے ہیں اور ہم سب کو تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات ملتی ہیں جس کا حکومت سمیت سب کو احساس ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چند مٹھی بھر عناصر اپنے ذاتی مفادات کے حصول اور اپنے جائز نا جائز مطالبات منوانے کے لئے ہڑتالوں کا سہارا لے کر نہ صرف غریب مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں بلکہ وہ اپنے اس اقدام سے پوری کمیونٹی کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ احتجاج کرنا ہر ایک کا آئینی حق ہے مگراحتجاج ایک معین دائرے کے اند ر رہتے ہوئے ہونا چاہیے ، احتجاج کے نام پر ہسپتالوں میں سروسز کو بند کرنا کسی صورت مناسب نہیں اور نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے کیونکہ ایسے اقدام سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہو تا ہے ۔ شہرام تراکئی نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں کا کوئی جائز مطالبہ یا حل طلب مسئلہ ہے تو اس کے لئے مذاکرات اور گفت و شنید ہی بہترین راستہ ہے کیونکہ مسائل ہمیشہ مذاکرات کی میز پر حل ہوتے ہیں نہ کہ سڑکوں اور چوراہوں پر ۔ صوبائی حکومت نے پہلے بھی طبی عملے کے مطالبات اورمسائل سنے ہیں اب بھی سننے کو تیار ہے مگر احتجاج اور ہڑتال کی آڑ میں ہسپتالوں کو بند کرنے اور مریضوں کو مشکلات سے دوچار کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ۔

Translate »
error: Content is protected !!