Chitral Times

18th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور ان کی تنظیموں کے عہدہ داران نے بل؍مسودہ کو بنا پڑھے اور دیکھے عوام کو گمراہ کر دینے والا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے۔۔محکمہ تعلیم

May 15, 2017 at 11:28 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) محکمہ تعلیم نے حال ہی میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ایک قانون کا مسودہ کابینہ کو پیش کیا جو کہ منظور کر لیا گیا۔یہ امر انتہائی افسوناک ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور ان کی تنظیموں کے عہدہ داران نے بل؍مسودہ کو بنا پڑھے اور دیکھے عوام کو گمراہ کر دینے والا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ان کی طرف سے حالیہ اخبارات میں چھپنے والے اعتراضات محض اعتراضات ہیں اور کوئی ٹھوس تجاویز؍اعتراضات نہیں ہیں جن کا خاطر خواہ جواب دیا جا سکے یا انکو مسودے میں شامل کیا جاسکے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بل؍قانون پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی مشاورت سے فائنل کیاگیا ہے اور ان کی تمام قابل عمل تجاویز کو مسودے میں جگہ دی گئی ہے۔ محکمہ یہاں اس بات کو واضع کرنا چاہتا ہے کہ یہ قانون پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے لایا جا رہا ہے اس میں پرائیویٹ سیکٹر کو خاطر خواہ نمائندگی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی انتظامی افسران کو بھی شامل کیاگیا ہے تاکہ بننے والی اتھارٹی اپنا کام ان کے تجربے کی روشنی میں خاطر خواہ اور بخوبی انجام دے سکے۔جہاں تک سوال ہے کہ ایک اتھارٹی پورے صوبے کے معاملات کیسے انجام دے گی تو اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اتھارٹی کے ضلعی اور ذیلی دفاتر؍افسران اور کمیٹیاں ہوں گی جو اپنا کام کریں گی۔ ریگولیٹری اتھارٹی تمام سکولوں کی درجہ بندی کرے گی جو سکول500 روپے فیس لے رہے ہیں یا5000 روپے فیسلے رہے ہیں وہ اپنے اپنے درجہ میں ریگولیٹ ہوں گے اور ان کو انہی تناظر میں دیکھا جائے گا۔درحقیقت آج تک پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو حکومتی سطح پر کسی درجہ بندی میں نہیں لایا گیا۔حکومت کی ایک مخلص کوشش کو بلا وجہ متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ریگولیٹری اتھارٹی کی وجہ سے حکومت ہر گز پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی اسی وجہ سے ایک آزاد اتھارٹی جو کہ حکومتی کنٹرول میں نہیں ہوگی کاقیام عمل میں لانا چاہتی ہے۔یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ چند عناصر ہر بات کو مغربی ایجنڈے کا نام دے کر واویلا برپا کر دیتے ہیں ۔اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس حکومت کے دوران نرسری تا پنجم ناظرہ و قرآن اور چھٹی تا دسویں جماعت قرآن مجید با ترجمہ لازمی قرار دیاگیا ہے۔میرٹ اور عدل کے اصولوں کے عین مطابق اساتذہ کی بھرتی عمل میں لائی جا رہی ہے۔IMUکے ذریعے اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنا دیا گیا ہے اور انہی حکومتی اقدامات پر والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرانے پر راغب ہو رہے ہیں۔یہاں اس بات کو واضح کر دینا مناسب ہوگا کہ صوبے میں کسی کو بے لگام اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتا خصوصاً تعلیم کے نام پر کاروبار،بچوں سے فیسوں کے نام پر بے حساب دولت اکٹھی کرنے اور پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے والے بچوں اور بچیوں کے استحصال کی باالکل اجازت نہیں دی جاسکتی۔حکومت عوام کی نمائندہ ہے اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدام اٹھاتی رہے گی اور کسی کو state wnthin stateبنانے کی اجازت نہیں دے گی۔

Translate »
error: Content is protected !!