Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضمیر جب مر جائے

May 15, 2017 at 9:08 pm

ضمیر کیا ہے۔ ضمیر انسان کے اندر وہ عنصر ہے جو اس کو اچھے برے کی پہچان کراتا ہے انسان کے اندر یہی وہ چیز ہے جس کے نہ ہونے سے انسان انسانیت کی صف سے نکل کر حیوانیت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ ضمیر کبھی کبھی سوتا ہے اور اس کے سوتے ہوئے انسان شرافت  کی پٹڑی سے اتر جاتا ہے اور وہ کام کرنے لگ جاتا ہے جو شرف انسانیت کو داغدار کرتا ہے۔ انسان اگر خوش قسمت ہو تو کبھی ٹھوکر سے اس کا ضمیر پھر سے جاگ جاتا ہے اور اس کو اپنے کئے پر پچھتاوا ہوتا ہے اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہے اور لوگوں سے معافی مانگتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بد قسمت ہوتے ہیں کہ ان کا ضمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سوجاتا ہے ان کو کوئی برا کام برا نہیں لگتا۔ ماں باپ کا پیار ان پہ اثر نہیں کرتا۔ استاذ کی نصیحت ان کے پلے نہیں پڑتی۔ واعظ کا وعظ ان کے لیئے بے سود ہے۔ لوگوں کی طرف سے ملنے والے طعن و تشنیع کی ان کو پروا نہیں ہوتی۔ ان کو بس پروا ہے تو مادی آسودگی کی۔ ان کو فکر ہوتی ہے تو بس دنیاوی راحت کی۔ اس مقصد کیلئے وہ سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔پھر ایسے لوگوں میں سے کوئی میر جعفر اور میر صادق بن کر اٹھتے ہیں اور مادر وطن کا سودا کر دیتے ہیں۔ بڑے بڑے دانشور اور بڑے بڑے ذہین لوگ اس بے ضمیری کے ہاتھوں محض عیش و عشرت کی خاطر ایسے لوگوں کے ہمنوا بن جاتے ہیں جو قوم کی لٹیا ڈبونے کے درپے ہیں۔ ان کے لیے کام کرتے ہیں ان کا دفاع کرتے ہیں محض اس لئے کہ ان کا ذاتی مفاد ان سے وابستہ ہوتا ہے۔ جس کا ضمیر سوجائے یا مر جائے اس کے اندر بے شرمی کے جراثیم گھر بناتے ہیں اور پھر کچھ بھی کرتے ہوئے اس کو شرم نہیں آتی۔
سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
“جب تمہارے اندر سے حیا ختم ہوجائے تو جو چاہو کرو”
اس حدیث مبارکہ کا مطلب یہی ہے کہ جب انسان کے اندر سے شرم وحیا ختم ہوجائے تو اس کو کوئی برا کام برا نہیں لگتا۔
میں جب اپنے معاشرے پر نظر دوڑاتا ہوں تو ایسے لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے جن کا ضمیر سویا ہوا ہے یا مرگیا ہے۔ ضمیر نے ملامت کرنا چھوڑ دیا ہے تو کوئی بھی بندہ اپنی ذمہ داریاں کما حقہ انجام نہیں دے رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کا ہر ادارہ روبہ زوال ہے کہ وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو ملامت کرنے والا کوئی نہیں ضمیر بھی نہیں اور ایسے میں اللہ کا ڈر کہاں سے ہوگا
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون و مکان گئی

اختر ایوب طیب، اسلام آباد

Translate »
error: Content is protected !!