Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیر آید ، درست آید محمد شریف شکیب

May 15, 2017 at 11:07 pm

خیبر پختونخوا حکومت اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی ۔پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کی طرف سے ریگولیٹری اتھارٹی کو مسترد کرنے اور احتجاجی تحریک کے اعلان پر صوبائی حکومت بھی برہم ہوگئی اور ریگولیٹری اتھارٹی کے خلاف ہڑتال اور احتجاج کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت اور پرائیویٹ سکول مالکان کے درمیان محاذ آرائی پر تبصرے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومت کی طرف سے وضع کردہ ریگولیٹر ی اتھارٹی کیا ہے؟ اور اس کے کیا مقاصد ہیں؟۔ صوبائی وزیرتعلیم محمد عاطف کے مطابق پرائیویٹ سکولوں کی طرف سے فیسوں میں من مانے اضافے کو روکنے کے لئے ایک نگران ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے سربراہ صوبائی وزیرتعلیم ہوں گے اور اس کے ممبران میں والدین، سکول مالکان، تعلیمی بورڈ کے نمائندے اور ماہرین تعلیم شامل ہوں گے۔ یہ اتھارٹی پرائیویٹ سکولوں کے معیار، سہولیات اور نصاب کا جائزہ لے گی۔ اساتذہ کی تقرری، ان کی تنخواہوں اور طلبا سے وصول کی جانے والی فیسوں کا سکولوں کی کٹیگری کے مطابق تعین کرے گی۔ حکومتی اعلان پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کے مالکان نے اتھارٹی کے قیام کو یکسر مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پرائیویٹ سکولوں کی درجہ بندی، اساتذہ کی تقرری، انکی تنخواہیں اور فیسیں مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ تعلیمی بورڈز میں پرائیویٹ سکولوں کی نگرانی کا نظام پہلے سے موجود ہے اس لئے نئی ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام غیر ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ واپس نہ لیا۔تو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے جائیں گے۔ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں نامی گرامی پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان بھی شامل تھے۔ جن کا نصاب معیاری، فیسوں کا سٹرکچر بھی مناسب ہے، وہاں لیبارٹری، لائبریری، کھیلوں کے میدان بھی موجود ہیں، سیکورٹی کا خاطر خواہ انتظام ہے۔ان کے پاس تجربہ کار اور تربیت یافتہ اساتذہ موجود ہیں اور انہیں پرکشش تنخواہ اور مراعات بھی دی جاتی ہیں۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے وہ کیوں خوفزدہ ہیں؟۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ اتھارٹی کا قیام گلی کوچوں اور رہائشی مکانات میں قائم ان برائے نام انگلش میڈیم پرائیویٹ سکولوں کی نگرانی کے لئے عمل میں لایاجارہا ہے۔جن کے پاس کوئی مناسب عمارت ہے نہ سائنس لیبارٹری اور لائبریری موجود ہے۔ ایسے پرائیویٹ سکولوں میں طلبا سے پانچ سے دس ہزار روپے ماہانہ فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ اساتذہ کو دو ہزار سے آٹھ ہزار تک تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ پروموشن فیس کے نام پر پانچ سے دس ہزار روپے بٹورے جاتے ہیں۔ سکول کی عمارت کا کرایہ بھی بچوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ کھیلوں کی سہولت نہ ہونے کے باوجود ان سے سپورٹس فنڈ اور لائبریری فنڈ بٹورے جاتے ہیں۔ مختلف تقریبات کے نام پر الگ وصولیاں کی جاتی ہیں۔ میٹرک اور ایف اے پاس بے روزگاروں کو ٹیچر بھرتی کیا جاتا ہے۔ دوران ملازمت تربیت کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا۔ تعلیم کے نام پر دکانداری کرنے والے یہ لوگ ملک وقوم کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ غریب والدین اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لئے ان سکولوں کے ہر جائز اور ناجائز مطالبات پورے کرنے پر مجبور ہیں۔پہلی بار کسی حکومت نے قومی مفاد میں نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو بہترین عوامی مفاد میں ہے۔
معیاری تعلیمی اداروں کو حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کا خیرمقدم کرنا چاہئے اور ایسے اداروں کی نشاندہی کرنی چاہئے جو پرائیویٹ سکول کے نام پر معیاری اداروں کو بھی بدنام کر رہے ہیں اور غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ یہ لوگ احتجاج کی آڑ میں حکومت کو بلیک میل کرنے کے لئے بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ عوامی رائے ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے حق میں ہے۔ حکومت اپنا سارا زور اور وسائل سرکاری سکولوں کی بہتری پر لگا رہی ہے۔ پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے والے بچے بھی اسی صوبے اور ملک کے شہری ہیں۔ انہیں ظلم و زیادتی اور استحصال سے بچانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چار سال بعد پرائیویٹ سکولوں کا قبلہ درست کرنے کا خیال آیا ہے۔ چلو۔ دیر آید ، درست آید۔

Translate »
error: Content is protected !!