Chitral Times

16th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس محمد شریف شکیب

May 14, 2017 at 10:57 pm

چین کے شہر بیجنگ میں ’’ ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کانفرنس جاری ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف ایک سرکاری وفد کے ہمراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے چین گئے ہیں۔ وفد میں ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثنااللہ زہری اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کے علاوہ سندھ کے وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی شامل ہیں۔ پاکستانی وفد نے چینی صدر لی جن پنگ سے ملاقات کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بھاشا ڈیم، گوادر پورٹ، حویلیاں ڈرائی پورٹ، ریلوے ٹریک بچھانے، ایم ایل ون شاہراہ کو اپ گریڈ کرنے، ریموٹ سینسنگ سٹیلائیٹ منصوبے کے لئے رعایتی قرضہ فراہم کرنے اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کے لئے مالی اور فنی معاونت کی فراہمی کے منصوبوں پر دستخط بھی ہوچکے ہیں۔ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس میں دنیا کے 130ممالک کے ڈیڑھ ہزار مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔جن میں 29ممالک کے سربراہان ریاست و حکومت بھی شامل ہیں۔ اس کانفرنس کوسال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس قرار دیا جارہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ خطے کے ممالک کو سڑک اور بحری راستوں سے منسلک کرنے اور تجارت بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ جس کے لئے چین وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر تعمیر کرنا چاہتا ہے پاکستان میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔پاکستان میں سڑکوں، ریلوے لائنز، صنعتی زونز کے علاوہ بنگلہ دیش میں سڑکیں اور پل جبکہ روس میں ریلوے کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے دو حصے ہیں جن میں سلک روٹ اکنامک بیلٹ اور 21صدی میری ٹائم سلک روٹ شامل ہیں۔ خطے کے ممالک کو سڑک کے راستے ملانے کے علاوہ سمندری راستے سے ایشیاء ، مشرق وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم کے کنارے آباد ممالک کو بھی ایک دوسرے سے ملانا ہے۔ چین سری لنکا میں بھی اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے علاوہ انڈونیشیا میں ریلوے لنک اور کمبوڈیا میں صنعتی پارک قائم کرنا چاہتا ہے۔وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے کانفرنس میں شرکت کے لئے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ کو بھی ہمراہ لے کر چین جانا اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ چھوٹے صوبوں خصوصا خیبر پختونخوا اور سندھ کو سی پیک منصوبوں کے حوالے سے کافی تحفظات تھے۔ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی شرکت سے منتظمین اور عالمی برادری کو یہ پیغام جائے گا کہ سی پیک پر پاکستان میں مکمل سیاسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس سے بھارت اور سی پیک کے مخالف ممالک کو بھی یہ پیغام پہنچے گا کہ وہ تفرقہ پیدا کرکے یا امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرکے سی پیک کو ناکام نہیں بنایا جاسکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت بیجنگ گرم پانی تک رسائی چاہتا ہے اور اپنی تجارت کو دنیا کی تمام منڈیوں تک پھیلانا چاہتا ہے۔ اس منصوبے کا 80فیصد فائدہ بھی چین کو ہی پہنچے گا۔ تاہم ہمارے لئے یہی غنیمت ہے کہ ہمیں آمدورفت کے لئے ریلوے ٹریکس اور سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک ملے گا۔ صنعتی زون قائم ہونے سے لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ جفاکش افرادی قوت کو ہنر سیکھنے کے مواقع ملیں گے۔ پاکستان کو بھی اپنی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کے مواقع میسر آئیں گے جس سے غربت میں کمی ہوگی ۔ فی کس آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ملک خوشحال ہوگا۔ پاکستان کی ترقی
اور خوشحالی سے جن قوتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں وہ چین کے ساتھ الجھنے کی ہمت تو نہیں کرتے لیکن پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کی ضرور کوشش کریں گے۔ گوادر میں مزدورں پر اندھا دھند فائرنگ، مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے قافلے پر بم حملہ، ایک ماہ کے دوران ملک کے مختلف مقامات پر توہین رسالت کے واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، سنی اسماعیلی کو آپس میں لڑاکر بدامنی کی فضاء پیدا کی جائے۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر کشیدگی کو ہوا دی جائے۔حکومت، سیکورٹی ایجنسیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، دانشوروں، اہل قلم، علمائے کرام اور معاشرے کے باشعور افراد کو ملک و قوم کی ترقی اور قومی اتحاد و یک جہتی کے خلاف کام کرنے والے عناصر سے ہوشیار رہنا ہوگا۔

Translate »
error: Content is protected !!