Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے وفد کا سیکریٹری ہوم سے ملاقات، صوبائی حکومت کا دہشتگردی کے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ ، صوبائی حکومت کا اقدام قابل تحسین ہے ۔۔مولانا چترالی

May 12, 2017 at 9:41 pm

چترال ( محکم الدین ) چترال کے نمایندگان کے ایک وفد نے گذشتہ رو ز ہوم سیکرٹری خیبر پختونخوا سراج احمد خان سے ملاقات کی ۔ وفد میں سابق ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی ، تحصیل ناظم چترال مولانا محمد الیاس ،چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر و چیر مین چترال کمیونٹی ڈویلپمنٹ نیٹ ورک سرتاج احمد خان اور سوشل ورکر شاہجہان ساحل شامل تھے ۔ وفد نے سیکرٹری ہوم کو بتایا ۔ کہ چترال میں دہشت گردی ایکٹ کو ہمیشہ غلط اور غیر ضروری استعمال کیا جا رہا ہے ۔ جس سے چترال میں حکومت خصوصا پولیس اور انتظامیہ کے خلاف لوگوں میں انتہائی نفرت امیز رویہ ابھر رہا ہے ۔ جو کہ ہر گز اچھی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سینگور کے مقام پر ایک عام تنازعے میں 179افراد کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ، اُس وقت ڈسٹرکٹ گورنمنٹ چترال نے فوری طور پر دفعات واپس لئے ۔ بعد میں ایون میں جنگل کے تحفظ کی خاطر نکالی گئی ایک ریلی میں شریک 200افراد پر مذکورہ دفعات لگائے گئے ۔ حالانکہ اس ریلی کی وجہ سے ایک تنکے کا بھی نقصان نہیں ہوا تھا ۔ اور اب حالیہ واقعے میں شریک افراد پر 7ATAلگایا گیا ہے ۔ جب کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پولیس اس دفعے کا ناجائز اور غیر ضروری استعمال کررہی ہے ۔ جو کہ انتہائی قابل افسوس ہے ۔ وفد نے فوری طور پر 7ATAکے دفعات واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ سیکرٹری داخلہ نے گزارشات و حالات و واقعات سننے کے بعد اس بات سے اتفاق کیا ۔ کہ چترال پولیس نے 7 ATAکا بے محل استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے ڈی آئی جی انوسٹگیشن سے بات کی اور وفد کو یقین دلایا کہ مذکورہ دفعات کو واپس لینے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اورمتعلقہ اداروں کے ذریعے اس کو ممکن بنایا جائے گا ، وفد نے سیکرٹری ہوم خیبر پخونخوا سراج احمد خان کو چترال آنے کی دعوت دی ۔ جسے انہوں نے قبول کی ۔
دریں اثنا باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے دہشتگردی کے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس پر بہت جلد عملدرآمد کیا جائیگا۔
دریں اثنا جماعت اسلامی کے رہنما سابق ایم این اے مولانا عبدالااکبر چترالی نے اسیران ختم نبوت چترال پر لگائے گئے دفعات 6-7ATAصوبائی حکومت نے واپس لینے کا جو فیصلہ کیا ہے ہم اس پر صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور چترال کے حالات کو پرآمن بنانے میں صوبائی حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ختم نبوتﷺ تمام مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ ہے ختم نبوت کو جو بھی چیلنج کرے گا مسلمانوں کا رد عمل اسی طرح ہوگا جو چترال میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں ختم نبوت کے قیدیوں کو جو ڈی آئی خان جیل میں ہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے آخری نبیﷺ ناموس کیلئے قربانیاں دیں۔انہون نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت قیدیوں کی رہائی اور 7ATA کو واپس لینے کی عمل کو تیزی سے نمٹائے۔

Translate »
error: Content is protected !!