Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قول و فعل میں تضاد تحریر :اقبال حیات آف برغذی

May 12, 2017 at 9:55 pm

ایک گاؤں میں وسیع رقبے پر کثیر کمروں پر مشتمل ایک دو منزلہ عمارت کی تعمیر اختتامی مراحل میں تھی ۔ اس کے قریب سے گزرتے ہو ئے با لائی چھت پر مکان کا جائیزہ لینے والے مالک مکان پر نظر پڑی ۔ دور سے سلام کا سوغات پیش کر نے کے بعد میں پہلا سوال داغا کہ حضرت آپ کے تو خاصے اچھے معیاری رپائشی مکانات تھے اب خطیر سرمایہ لکا کر مظبوط بنیادوں پر مکان تعمیر کر نے کی کیا ضرورت پڑی ۔ کیا آپ کو اس مسافر خانے (سرائے) میں ذیادہ عرصہ ٹھہرنے کی مہلت مل گئی ہے ۔ یہ سوال اس بنیاد پر تھا کہ موصوف علم نافع سے فیضیاب شخصیت کی حیثیت سے بسا اوقات اپنے خطبات میں دنیا کو ایک سرائے کی حیثیت دے کر یہاں مسافروں کی طرح رہنے کی تلقین کر تے تھے ۔ اس لئے میرے سوال کی نوغیت کو بھانپتے ہو ئے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فرمانے لگے کہ آج کل یہ ضرورت کے ذمرے میں آتا ہے ۔ میں نے کہا کہ اگر ہر ضرورت ایجاد کی ماں بن جائے تو نیک و بد کی تمیز مٹ نہیں جا ئیگی ؟۔ انھوں نے کہا کہ بس یار انسان کی مجبوریاں بھی ہو تی ہیں ۔
ان چند جملوں پر محیط سوال جواب کو اگر حقیقت کی کسوٹی میں پرکھ کر دیکھاجائے تو پندو نصائح کی تاثیر سے خالی ہو نے کے اسباب نمایاں ہو تے ہیں ۔ کیونکہ کسی بات کی تاثیر اس کے کہنے والے کے اس پر خود عمل پیرائی سے مشروط ہو تی ہے اور قرآن عظیم الشان اس ضمن میں یہ سوال کر تا ہے کہ ”اے ایمان والو!وہ بات کیوں کہتے ہو ۔ جو خود نہیں کر تے ۔ ہمارے عظیم پیغمبر ﷺکے قول و فعل میں مماثلت ان کی حقانیت پر دلالت کر تا تھا ۔ ایک دفعہ ایک شخص اپنے چھوٹے بچے کی بیسیار کھجور خوری کے مداوے کے سلسلے میں اسے گود میں لئے دربار نبوی میں آئے ۔ آپ ﷺ نے کل لانے کو فرمایا ۔ دوسرے دن وہ شخص بچے کو لیکر حاضر خدمت ہو ئے ۔ آپ ﷺنے بچے کو پیار کر تے ہو ئے کھجور کم کھانے کی نصیحت کی ۔ اس شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ اتنی سی بات کل ہی کہی جا سکتی تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ کل اس وقت میں نے خود کھجور کھائی تھی ۔ اس لئے میری نصیحت میں تاثیر نہ ہوتی ۔
یوں پندو نصا ئح کر نے کی مراتب کے حامل افراد کو خود کو اپنے گفتار کا عملی نمونہ بنا کر دوسروں کو مستفید کر اسکتے ہیں ۔ صبرو تحمل اور برداشت کا درس دے کرکسی کی طرف سے دو چار بول سنتے ہی سیخ پا ہو کر سر پر چڑھ دوڑنے کے لئے تیار ہونا ۔ سب کی عزت و توقیر کی تلقین کر کے خود کو مافوق الفطرت تصور کر نا ۔ اسلام پر مرمٹنے کا دعوی کر کے موقعہ آنے پر مصلحت اور تاویلات کی آغوش میں پناہ لینا۔دنیا کو دوسروں کے لئے مسافر خانہ قرار دے کر خود مالی استطاعت کے مالک ہو نے کے بعد اولین فرصت میں حج بیت اللہ کی سعادت کر نے کی بجائے آئینی سلاحون کی بنیادوں پر قلعہ نما رہائشی عمارت تعمیر کر نا ”اوروں کو نصیحت خود راہ فصیحت کے مصداق ہو تا ہے ۔ اور ساٹھ ستر سال کی عمر کے لئے یہ سردردی اپنی نوعیت کے لحاظ سے پاگل پنی کے مترادف ہے ۔
حضرت نوح علیہ السلام مرض الموت سے دوچار ہوتے ہیں ۔ فرشتہ اجل جب آپ کے پاس آتے ہیں تو اس وقت نوح کے بدن مبارک کا آدھ حصہ کمرے کے اندر اور آدھ حصہ با ہر نکلا ہوا ہو تا ہے ۔ فرشتہ اجل پوچھتے ہیں کہ ساڑھے نو سوسال کی طویل زندگی ملنے کے باوجود کم ازکم اپنے مسکن کو کشادہ کر نا چاہئے تھا ۔ آپٌ فرماتے ہیں کہ آپ کے آج یا کل کسی بھی وقت اچانک آنے کے تصور نے مجھے اس کا موقعہ ہی نہ دیا ۔
یہ ہے دنیا کو سرائے قرار دینے کے درس کا عملی نمونہ جو آج کہیں اور کسی میں بھی نظر نہیں آتا اور صرف الفاظ کی حد تک سننے کو ملتا ہے ۔

Translate »
error: Content is protected !!