Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی وزیر کھیل و ثقافت محمود خان تین روزہ دورے پر چترال پہنچ گئے ہیں۔

May 12, 2017 at 9:20 pm

چترال ( نمایندہ چترال ٹائمز ) منسٹر سپورٹس ، کلچر و ٹورزم اور یوتھ محمود خان تین روزہ دورے پر چترال پہنچ گئے ہیں ۔ جو کالاش فیسٹول چلم جوشٹ میں خصوصی طور پر شرکت کریں گے ۔ چترال میں ایم پی اے چترال بی بی فوزیہ، پاکستان تحریک انصاف کے صدر عبد الطیف نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ اُن کا استقبال کیا ۔ وزیر موصوف چترال میں اپنے دورے کے دوران سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیر نگرانی چترال ٹاؤن کیلئے تعمیر شدہ دو میگا واٹ گو لین ہا ئیڈل پاور سٹیشن ، بونی کے مقام پر سٹیڈیم ، موژ گول اور بونی پُل اور ایون ایس آر ایس پی بجلی گھر کا افتتاح کریں گے ۔ جبکہ چترال شہر میں یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر ، موڑین گول پُل، چترال میوزیم میں نئی قائم شدہ لائبریری کا افتتاح تحریک انصاف کے ورکرز کے ساتھ میٹنگ بھی اُن کے پروگرام میں شامل ہیں ۔ درین اثنا کالاش فیسٹول چلم جوشٹ ہفتے کی صبح تینوں کالاش وادیوں بمبوریت ، رمبور اور بریر میں ایک ساتھ شروع ہو گا ۔ جس کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ فیسٹول دیکھنے کیلئے سیاحوں کی بہت بڑی تعداد چترال پہنچ چکی ہے ۔ اور سینکڑوں سیاح وادیوں میں پہنچ فیسٹول کے آغاز کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں ۔ وادی میں بہار اپنے جو بن پر ہے ۔ اور کالاش قبیلے کے لوگوں اپنے گھروں مذہبی مقامات کو مخصوص جنگلی زرد پھول ( بیشو BESHO)

سے سجا لیا ہے ۔ جبکہ تمام مردو خواتین اور بچوں نے نئے لباس تیار کر لئے ہیں ۔ فیسٹول کے آغاز پر مذہبی مقام دیوتا مالوش کے نام بکروں کی قربانی دے کر گوشت تقسیم کرنے کیلئے بھی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ اور وادیوں میں ایک خوبصورت سما ہے ۔ صوبائی حکومت کی طرف سے منسٹر ٹورزم بطور مہمان خصوصی فیسٹول میں شریک ہو ں گے ۔ درین اثنا وادی کے ہوٹلوں میں سیاحوں کی بھر مار ہے ۔ اور زیادہ تر سیاح کیمپنگ سائٹ میں قیام پذیر ہو کر وادی کی نظاروں کا لطف اُٹھارہے ہیں ۔ جبکہ غیر ملکی مہمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے ۔

کالاش قبیلے کے معروف سیاسی اور سماجی نوجوان وزیر زادہ نے میڈیا کو بتا یا ۔ کہ سیاحوں کی بہت بڑی تعداد وادی میں موجود ہے ۔ اور لوگ اُنہیں ہر ممکن سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہفتے کی صبح شیرک پیپی(SHERIK PIPI) یعنی دودھ پینے کی رسم ادا کی جائے گی ۔جبکہ 14مئی کو ڈھول کی تھاپ پر رقص کے ساتھ فیسٹول کا آغاز ہو گا ۔ جو کہ رمبور ویلی میں دو دن اور بمبوریت ویلی میں تین دن جاری رہے گا ۔ فیسٹول کے دوران سیکیورٹی کیلئے مکمل انتظامات کر لئے گئے ہیں ۔ جس میں سکیورٹی فورسز کو متعین کیا گیا ہے ۔ جبکہ وادی میں داخل ہونے والوں کی چیکنگ کی جارہی ہے ۔ جس کیلئے شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے ۔

Translate »
error: Content is protected !!